وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وزیر اعلی سندھ کی جانب سے ڈاؤ یونیورسٹی میں مستحق مریضوں کے 100 لیور ٹرانسپلانٹ کے اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی، یہ بات انہوں نے گزشتہ روز وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ ڈاؤ یونیورسٹی لیور ٹرانسپلانٹ یونٹ کی جانب سے 75 سے زائد جگر کے ٹرانسپلانٹ کی تکمیل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ قبل ازیں انھوں نے ڈاؤ یونیورسٹی میں پچاس کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے نئےاو پی ڈی کمپلیکس کا نقاب کشائی کرکے رسمی افتتاح کیا۔ بعد ازاں گاما نائف سینٹر سے متصل آنکالوجی سینٹر (کینسر سینٹر) کا سنگ بنیاد رکھا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت ہیلتھ پروفیشنل کو ہر وہ الاؤنس دینے کو تیار ہے جو کسی اور صوبے میں دیا جا رہا ہے۔ سندھ میں سیلاب کے باعث جو تباہی آئی ہے اس کے اثرات ہر شعبے پر پڑے ہیں سندھ بجٹ پر اضافی مالی بوجھ بڑھا ہے جس کے باعث صوبے کے تمام ہی شعبوں سے وابستہ افراد ان حالات کو سمجھیں۔ تقریب سے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی، "سیاگ” کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سعد خالد نیاز، لیور ٹرانسپلانٹ یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر جہانزیب حیدر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ میڈیا کے نمائندوں کی جانب سے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے غیر ضروری طور پر اس معاملے پر سیاست کی جارہی ہے یہ خالص سرکاری تقرری ہے جس کا طریقہ کار بھی طے شدہ ہے۔ اس پر نہ تو اپوزیشن کو نہ ہی حکومت کو کسی سیاسی جلسے میں بات کرنا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ صوبے اور ملک کے عوام کی پہلے سے بہتر خدمت کریں لیکن سڑکوں پر ہونے والے سیاسی تماشوں کے باعث ہمیں ان کا جواب دینا پڑتا ہے۔ جب کہ دنیا یہ طے کر چکی ہے کہ اب لڑائی جھگڑوں کے بجائے پارلیمنٹ میں معاملات طے ہوں گے۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ نے پچاس لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے ڈاؤ کو مالی معاونت کا وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے نجی شعبے کے افراد کے تعاون سے اس رقم میں اضافہ کرکے 75 سے زائد یعنی 81 ٹرانسپلانٹ کر دیئے اور مزید ٹرانسپلانٹ ابھی ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے او پی ڈی کمپلیکس میں 56 کلینک ہوں گے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کو علاج کی بہتر سہولیات میسر ہوسکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کینسر سینٹر میں حکومت سندھ کے تعاون سے ڈھائی ارب روپے کی مالیت سے ایم آر لائنیک نصب کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نے بہترین علاج کی سہولتوں پر ڈاؤ یونیورسٹی کی قیادت اور پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی سندھ بھر میں میں وہ واحد یونیورسٹی ہے جو ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں شامل ہوئی، نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کی بھی واحد طبی یونیورسٹی ہے جو 800-601 کی رینکنگ میں شامل ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بطور یونیورسٹی طب کے شعبے میں لوگوں کو زیادہ سے سہولتوں کی فراہمی جاری رکھیں گے۔ ڈاکٹر سعد خالد نیاز اور ڈاکٹر جہانزیب حیدر نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں جگر کی پیوندکاری کےپچھتر سے زائد ٹرانسپلانٹ کامیابی سے انجام دے دیئے گئے ہیں جس کے بعد ڈاؤ یونیورسٹی میں جگر کی پیوندکاری کے 75 سے زائد کیسز مکمل ہوگئے جس میں ایک آٹو ٹرانسپلانٹ بھی شامل ہے جو طبی سائنس کی دنیا میں اب تک صرف چار ہی انجام دیے گئے ہیں اور یہ پاکستان کے لئے اعزاز ہے کہ چار میں سے ایک پاکستان میں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ آٹو لیور ٹرانسپلانٹ میں دوران آپریشن مریض کا اپنا جگر جسم سے علیحدہ کرنے کے بعد اس کے متاثرہ حصے کی صفائی کی جاتی ہے اور اس کو دوبارہ نصب کردیا جاتا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی میں 75 سے زائد لیور ٹرانسپلانٹ کی تکمیل کے کے بعد لیور ٹرانسپلانٹ ٹیم نے خوشی کا اظہار کیا۔
اس موقع پروائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے بھی اپنے خطاب میں لیور ٹرانسپلانٹ یونٹ کی ٹیم کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں لیور ٹرانسپلانٹ کی سنچری بھی جلد ہی مکمل ہوگی۔ پروفیسر محمد سعید قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب جگر ٹرانسپلانٹ کے لیے فنڈز دیے جاتے ہیں۔ لیور ٹرانسپلانٹ یونٹ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی خصوصی دلچسپی اور سرپرستی کے نتیجے میں ٹیم 81 سے زائد آپریشن کے ہدف تک پہنچی ہے ڈاکٹر جہانزیب حیدر کے مطابق پروفیسر محمد سعید قریشی نے وائس چانسلر کا چارج سنبھالتے ہی لیور ٹرانسپلانٹ یونٹ پر توجہ دی، ٹیم کو تربیت کے لیے اسلام آباد ترکی اور امریکہ تک بھیجا گیا تاہم کووڈ 19 کے باعث لیور ٹرانسپلانٹ کی رفتار برقرار نہ رہ سکی بعدازاں معمول کے مطابق کام شروع ہوا جس کے نتیجے میں یہ ہدف حاصل ہوا ہے… تقریب کے آخر میں پروفیسر محمد سعید قریشی نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کو یادگاری شیلڈ دی۔ قبل بلاول بھٹو نے اوپی ڈی کمپلیکس کے میں پودا بھی لگایا ۔۔
