پیاسی آنکھیں
سوکھا چہرہ
ننگے پاؤں
دن نکلا
اور دل کو اک
کشکول بنائے
نکل پڑے ہیں
بھلا ہو دنیا۔۔۔۔
کوئی میٹھی
نظر کا موتی
شیتل سانس کا
ننھا ریشم
نرم رسیلی
بات کا جگنو
پریم کے رس کی
بس دو بوندیں
گھُورتی گلیوں
والے شہر میں
رات کی نَّیا
ڈوب رہی ہے
دن کے تلوے
جھُلس رہے ہیں
یُگ بیتے پر
وقت نہ بیتا
رات کٹی پر
نیند نہ آئی
پِیڑ کا اُتّر
پریم کی بھکشا
کھوجتے کھوجتے
عمر گنوائی
آخر سونے
کی یہ گاگر
بھری بھرائی
یوگی تُو نے
کہاں سے پائی
بھوگی جیون
