اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

16 نومبر کلاسیکی شاعر ابراہیم ذوق کا یوم وفات ہے

Muhammad Ibrahim Zauq

آپ نے یقینا یہ شعر پڑھ اور سن رکھا ہو گا

لائی حیات آئے، قضا لے چلی، چلے

اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے

یہ شعر شیخ ابراہیم ذوق کا ہے۔

 

شیخ محمد ابراہیم ذوق 1788ء میں پیدا ہوئے۔ والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ بچپن سے ہی شعر و سخن میں دلچسپی رکھتے تھے۔ چھوٹی عمر میں ہی شعر گوئی شروع کر دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا شعری ذوق ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔ تفکر و تدبر اور ریاضت ثمر بار ہوئی اور ذوق نہ صرف قادر الکلام شاعر کے طور پر اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے بلکہ استاد الشعراء کے درجے پر فائز ہوئے۔ آپ کے شاگردوں میں بہادر شاہ ظفر، مولانا محمد حسین آزاد، حافظ ویران اور داغ دہلوی جیسے بڑے شعراء کی طویل فہرست ہے۔

 

ذوق 16 نومبر 1854 کو دہلی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

 

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

 

اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

 

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو

زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

 

اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات

ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے

 

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے

 

وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

 

رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوقؔ

اولاد سے تو ہے یہی دو پشت چار پشت

 

نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب

ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

 

پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے

حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے

 

رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو

تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

 

کہتے ہیں آج ذوقؔ جہاں سے گزر گیا

کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راشد عباسی Screenshot 20221116 114007 1

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481