عموماً کہا جاتا ہے کہ سیاست اور صحافت کے سینے میں دل نہیں ہوتا کیونکہ ان کی ذمہ داریاں ان کو دل سے زیادہ دماغ استعمال کرنے پر اکساتی رہتی ہیں مگر ہمارے ہاں لوہربیلٹ ضلع مری کی آواز چیئرمین آل پاکستان میڈیا کونسل ، صدر لوئربیلٹ نیو مری پریس کلب ظفر سعید ستی ایسے سچے جذبات سے بھرپور آدمی ہیں یہ ظلم کی آواز اٹھاتے ہوئے ہر حد سے گزرنے کا عزم و حوصلہ رکھتے ہیں۔ ماجد ستی قتل کیس میں آپ نے جہاں اپنی پیشہ ورانہ صحافتی ذمہ داریاں احسن انداز کے ساتھ نبھائیں وہاں پر ایک درد دل رکھنے والے انسان کے طرح میدان عمل میں اپنے سارے بچوں کو بھی ساتھ لے کر آئے اور آج ماجد ستی شہید کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر پورے احتجاج میں ان کی تین سالہ صاحبزادی دعا ظفر ستی سب کی توجہ کا مرکز رہی۔
یہ اپنی ننھی سی معصوم زبان کے ساتھ ظالم قاتل کو للکارتی بھی رہی اور ارباب اقتدار کو جھنجھوڑتی بھی رہی کہ ہم وہ قوم ہیں جو اپنے مقتول کے قتل کا حساب لیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ یہ پورے احتجاج کے دوران اپنے بھائی قاری اویس ظفر الخیری کے کندھوں پر سوار سفاک قاتل کو بے نقاب کرتی رہی ۔ دوسری طرف خطہ کوہسار کی بہادر بیٹی آنسہ ممتاز ستی ایڈوکیٹ بھی مردوں کے شانہ بشانہ اس احتجاج میں شامل ہو کر کوہسار کی خواتین کی نمائندگی کا حق ادا کرتی رہیں۔
یقیناً وہ قومیں اپنی منزل جلد حاصل کر لیتی ہیں جو ظلم کے خلاف ہر محاذ پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح مقابلہ کرتیں ہیں۔ ظفر سیعد ستی نے اپنی ساری اولاد کو احتجاج میں شامل کر کے اب تک خاموش رہنے والے لوگوں کو پیغام دیا ہے کہ وقت کے فرعونوں سے ڈرو نہیں بلکہ میدان عمل میں آ کر ان کو للکارو کیونکہ آپ کا چپ رہنا اور خوفزدہ ہونا ہی ان سفاک قاتلوں کو مزید حوصلہ دیتا ہے۔
اور آپ کا جرات کے ساتھ للکارنا ان کی زندگی کو مزید تنگ کر دیتا ہے اور ان شاءاللہ جلد کوہسار و پھوٹھوار کے غیور عوام قبضہ مافیا اور سفاک قاتلوں کو حرف غلط کی طرح صحفہ ہستی سے مٹا دیں گے۔
کیونکہ ہر قاتل کی سزا ہر طرح سے فنا ہی ہے۔
