اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالم شالم۔۔۔۔۔ "تین سو سال بعد”

IMG 20220323 161845 722

کالم شالم۔۔۔۔۔۔  شکیل اعوان

”تین سو سال بعد “

آج سے تین سو سال بعد کا منظر نامہ کیا ہو گا؟ ذرا چشم تصور کو وا کیجیے۔ ہو گا کچھ یوں کہ ن لیگ کو مریم نواز کا ”پڑپوترا“ لیڈ کر رہا ہوگا اور المعروف زندہ قوم اسی طرح نعرے لگا رہی ہوگی ”میاں دے نعرے وجنے ای وجنے جی“ اور ”پڑپوترا صاب “ خطاب فرما رہے ہوں گے کہ یہ موٹر وے ہم نے بنائی، کروز میزائل ہم نے بنائے، وغیرہ وغیرہ

”پپل پاٹی کے “بلاول کا پڑپوترا بتا رہا ہوگا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے{ عوام سے}۔ اور عوام الناس گا رہی ہوگی رانی شہید آئیو ہے جمالو، روٹی کپڑا مکان آئیو ہے جمالو

جے یو آئی کی قیادت بھی مفتی محمود سے فضل الرحمان سے ہوتی ہوئی اسد محمود کے” پڑپوترے“ کے ہاتھوں میں ہوگی۔ تہتر کے آئین کے تناظر میں وہ فرما رہا ہوگا۔۔۔ کرپشن کرنے والوں کے ساتھ اتحاد میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر ہمیں اقتدار میں شامل رکھے تو عورت کی حکمرانی جائز ہے ورنہ نہیں۔ جب بھی ہم کو اقتدار نہیں ملے گا ہم سارے مدارس کے طلبا کو سڑکوں پر لے آئیں گے اور اسٹبلشمنٹ کو یہودیوں کی آلہ کار بتا کر امن عامہ کا مسئلہ کھڑا کر دیں گے۔

ایم کیو ایم کی قیادت اس وقت بھی آج کی طرح خدا جانے کس کے ہاتھ میں ہوگی لیکن حکومت جس کی بھی ہوگی اس میں ایک دو وزیر ضرور ان کے ہوں گے۔ الطاف بھائی کا جادو تب بھی سر چڑھ کر بول رہا ہو گا۔

عوامی نیشنل بالٹی کی قیادت بھی حسبِ روایت ولی خان کی اولاد کے پاس ہی ہوگی۔ ان کے سیاسی ایجنڈے کے اہم نکات میں کالاباغ ڈیم اور صوبہ ہزارہ کی مخالفت تب بھی شامل ہوں گے۔

جماعت اسلامی کی قیادت تو جمہوری انداز میں تبدیل ہوتی رہے گی مگر وہ ہمیشہ غلط فیصلوں کے باعث چند سیٹیں لے کر مطمئن ہوتی رہے گی کہ چلو آٹے میں نمک ہی سہی نمائندگی تو ملی۔

تین سو سال بعد پی ٹی آئی نام کی کوئی جماعت شاید ہی وجود رکھتی ہوگی۔ کیونکہ کپتان نے جس طرح نظریاتی کارکنوں کو کھڈے لین لگا کر جہاز کو اجنبی مسافروں سے بھر دیا ہے، ہوائی اڈے پر جہاز رکنے کے بعد سب خوشگوار سفر سے لطف اندوز ہونے والے مسافر اپنے آقا کے حکم پر ایک ایک کر کے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ کون نہیں جانتا کہ اقتدار کے رسیا فقط اقتدار میں ہونے تک ساتھ دیتے ہیں۔ اور کٹھ پتلیاں ناچتی نظر آتی ہیں اصل میں سارا کردار کسی اور کی انگلیوں کا ہوتا ہے۔

ہم چشم تصور سے دیکھ رہے ہیں کہ جِس طرح کی تعلیم (بغیر کسی تربیت کے) ہم اپنی آنے والی نسل کو دے رہے ہیں، اتنے عرصے بعد پاکستان میں پاکستانیت نہیں رہے گی (اگرچہ اب بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتی)۔ ہر شخص انگریزی بول رہا ہوگا۔ اردو اور مادری زبانوں کا دھڑن تختہ ہوچکا ہو گا۔ قرآن صرف مناظرے کے لیے سنبھال کے رکھا ہو گا۔ لوگ اڑن کھٹولا ٹائپ گاڑیوں میں سفر کر رہے ہوں گے۔ سڑکیں ”باں باں“ کر رہی ہوں گی۔ "شارع شرم” کی ضرورت ہی نہیں رہے گی سو "ٹاکی شاکی” چہ معنی دارد؟

ہم مر کھپ چکے ہوں گے۔ تاریخ کے اوراق میں ہمارا ذکر تو ہوگا مگر کچھ بہت اچھے الفاظ میں نہیں کہ ہم نے اپنے حصے کی جنگ لڑی لیکن اپنے لوگوں میں شعور بیدار نہ کر سکے۔ نئی نسلوں کو سامراجی ہتھکنڈوں سے بچانے کے لیے ان کی کردار سازی نہ کر سکے۔ متعفن سیاسی نظام کے بدلاؤ کے لیے عملی جدوجہد نہ کر سکے۔ بد قسمتی سے ہمیں ادراک ہی نہیں ہو سکا کہ شخصیات کی نہیں بلکہ نظام کی فرمانروائی ہوتی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481