زراعت اور کاشت کاری سے بے اعتنائی اور زمین سے تعلق توڑنے کی قیمت کتنی زیادہ ہو گی اس کا فوری اندازہ تو شاید مشکل ہے مگر اہل نظر اور اہل بصیرت اس خطرے کی سنگینی کو محسوس کر رہے ہیں ۔
اس حوالے سے ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ قوم کو پراپرٹی کے کاروبار کی طرف مائل کرنے والے لوگ زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نئی فیکٹری لگانے کے بجائے اپنا سرمایہ کسی نئی رہائشی سکیم میں لگا کر آسان کمائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ دراصل یہ نت نئی رہائشی سکیمیں اس قوم کو ایک بدترین غذائی بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں ۔
معروف بین الاقوامی میگزین "دی اکانومسٹ” کا تازہ ترین شمارہ آنے والے بدترین قحط کی پیشن گوئی کر رہا ہے۔ اس میگزین کے سرورق پر گندم کے خوشوں میں گندم کے دانوں کی جگہ بھوک سے متوقع طور پر مرنے والے انسانوں کی کھوپڑیاں دکھائی گئی ہیں تصویر zoom کریں تو یہ واضح نظر آتی ہیں۔ پاکستان اس وقت ان زرعی ممالک میں سر فہرست ہے جہاں زرعی زمین تیزی سے رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہو رہی ہے۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف لاہور کے اردگرد گزشتہ پانچ برسوں میں دو لاکھ ٹن گندم پیدا کرنے والا زرعی رقبہ رہائشی کالونیوں میں بدل گیا ہے۔
اگر مری، گلیات، ہزارہ ڈویژن اور خطہ کوہسار کے دیگر علاقوں کی بات کی جائے تو صورت حال کچھ زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتی۔ یہ وہ بدقسمت علاقے ہیں جہاں ترقی اور شرح تعلیم میں اضافہ زراعت کو کھا گیا۔ جوں جوں لوگ تعلیم یافتہ اور آسودہ حال ہوتے گئے انہوں نے اسی رفتار کے ساتھ زمین سے اپنا ناطہ توڑنا شروع کردیا۔ اب آپ کو ہر طرف بنجر زمین، خود رو پودے اور گھاس تو نظر آتی ہے، مگر ماضی کے برعکس گندم اور مکئی کی لہلہاتی فصلیں، پھلوں سے لدے پھل دار درخت اور خوشبو بکھیرتی نامیاتی سبزیاں دیکھنے کو آنکھیں ترس جاتی ہیں۔ یہ کوئی خواب و خیال کی باتیں یا کہانی نہیں ، ہمارے آبا و اجداد اسی زمین سے وافر مقدار میں رزق حاصل کیا کرتے تھے۔ دور کیوں جائیں، اگر ایبٹ آباد کے علاقے بیروٹ کی بات کی جائے تو اس علاقے کا ذکر پرائمری کی نصابی کتب میں آتا تھا اور طالب علموں کو بتایا جاتا تھا کہ یہ علاقہ سیب کے باغات کی کثرت کے حوالے سے مشہور ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ سیب تو تقریباً نایاب ہی ہو گئے ہیں۔ اگر لوکاٹ ، آلو بخارا یا دیگر کوئی پھل قدرت کی مہربانی سے نمو پا بھی جائے تو اس کی قدر نہیں کی جاتی۔ آپ مری سے کوہالہ یا ایبٹ آباد تک کا سفر کریں تو بازاروں میں فروخت ہونے والے پھلوں اور سبزیوں میں سے بیشتر وہ ہوں گی جو ماضی میں اسی زمین پر کاشت کی جاتی تھیں مگر اب کوہسار کے باسی بڑے فخر سے یہ سب کچھ خرید کر تھیلے بھر بھر کے گھر لے جاتے ہیں ۔
پاکستان میں آرائشی پودوں کی جگہ اب اجناس کے پودے لگانے کی ضرورت ہے۔ پھل دار درخت اور اجناس کے پودے ہی ہماری بقاء ہیں اس پر بطور قوم ہمیں توجہ دینا ہو گی۔
