اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

12 نومبر کو شکیب جلالی حدود وقت سے آگے نکلے تھے

images 59

 

شکیب جلالی کا اصل نام سید حسن رضوی تھا۔  وہ علی گڑھ کے قصبہ جلالی میں پیدا ہوئے۔ اسی نسبت سے تخلص کے ساتھ جلالی استعمال کرتے۔ کم عمری میں ہی والدہ داغ مفارقت دے گئیں۔ والد اس صدمے سے ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ یوں کم عمری میں ہی گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنا پڑ گئیں۔ کم عمری میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔

شکیب جب راولپنڈی سے لاہور آئے تو یہاں سے ایک رسالہ ”جاوید“ شائع کیا۔ اس کے چند ہی شماروں کے بعد اسے بند کرنا پڑا۔   وہ ”مغربی پاکستان“ نامی سرکاری رسالے سے وابستہ ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد یہ ملازمت بھی ترک کر دی۔ ایک ﺍﺧﺒﺎﺭ کے ساتھ کچھ وقت گزارا لیکن اس دوران تعلقات عامہ کے محکمے میں ملازمت مل گئی۔ احباب خوش ہوئے کہ اب شکیب جلالی کی زندگی کی مشکلات ختم ہو جائیں گی۔ لیکن شکیب زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ جہاں ان کے صحن کا نصیب فقط پتھر تھے جب کہ پھل پس دیوار جا گرتے۔ شکیب کو ایسے ماحول میں جینا پڑ رہا تھا جہاں شور تلاطم میں کانوں میں اپنی آواز تک نہیں آتی تھی۔  اور پھر شکیب معاشرے کا کوئی عام سا فرد نہ تھا وہ شاعر تھا اور شاعر بھی وہ جو اس رستے کو ہی ترک کر دیتا جو عام ہو جاتا۔ ایسے انفرادیت پسند اور بلا کے حساس شاعر کے لیے زندگی کوئی پھولوں کی سیج تھوڑی تھی۔

فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

انھوں نے حدود وقت سے آگے نکلنے کی ٹھان لی۔ زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور اسے یوں مخاطب کیا

تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں

آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ

12 نومبر 1966 کو ریل کے سامنے کود کر اس بتیس سالہ حساس شاعر نے خود کشی کر لی۔

ان کے انتقال کے بعد ان کا شعری مجموعہ ’’روشنی اے روشنی‘‘  شائع ہوا۔ ’’کلیات شکیب جلالی‘‘ کی اشاعت کا فرض ان کے بیٹے نے ادا کیا۔

۔۔۔۔۔۔

مانندِ صبا جدھر گئے ہم
کلیوں کو نہال کر گئے ہم

چلنا تھا جہاں محال یارو
اس راہ سے بھی گزر گئے ہم

بن جائیں گی منزلیں وہیں پر
بھولے سے جہاں ٹھہر گئے ہم

ہنس ہنس کے گلے ملے قضا سے
تکمیلِ حیات کر گئے ہم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا
دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا

یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر
یا اتنا نرم دل کہ رگِ گل سے کٹ گیا

ٹھوکر سے میرا پاؤں تو زخمی ہوا ضرور
رستے میں جو کھڑا تھا وہ کہسار ہٹ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا کہوں دیدہ تر ! یہ تو مرا چہرہ ہے

سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481