اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نمونیا کا عالمی دن 12 نومبر

images 56

نمونیا بلا شبہ قاتل ہے۔

 

نمونیا کا عالمی دن ہر سال 12 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد نمونیا کے بارے میں شعور عام کرنا، اس سے بچاؤ کی تدابیر کرنا اور اس کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح کو کنٹرول کرنا ہے۔

نمونیا کا عالمی دن منانے کی ابتدا 12 نومبر 2009ء کو ہوئی۔ تب سے یہ ہر سال بلا تعطل منایا جاتا ہے۔

عالمی سطح پر عمومی طور پر لیکن غریب ممالک میں خصوصا کرونا کی وبا، ماحولیاتی مسائل، عدم شعور ، خوراک کے مسائل اور غربت کی وجہ سے نمونیا اور پھیپھڑوں کے امراض روز بہ روز خطرناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اس سے متاثر ہونے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں لیکن چھوٹے بچے، کمزور مدافعتی نظام کے حاملین اور معمر لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

نمونیا کے مرض میں سانس کی نالی یا پھیپھڑوں میں انفیکشن ہو جاتا ہے۔ شروع میں نزلہ، زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ لیکن مرض کی تشخیص کے لیے ایکس ریز کا ہونا ضروری ہے تاکہ پھیپھڑوں کے متاثر ہونے یا نہ ہونے کی یقین دہانی ہو سکے۔

تیسری دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ حکومتوں کی ترجیحات میں عوامی مسائل کا حل کہیں بہت نچلی سطح پر آتا ہے۔ یہاں عوام کی اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ صحت کی سہولیات کا فقدان نمونیا جیسے مہلک امراض کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی کھلی چھٹی دینے کے مترادف ہے۔ پھر کرونا کی وبا کے بعد اس کی شدت اور تباہی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی اداروں کے شانہ بہ شانہ سماجی، مذہبی اور رفاہی تنظیمیں بھی ایسے امراض کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کریں تاکہ کسی بھی مرض کا شکار ہونے والے مریض کو فورا علاج کی سہولت فراہم کر کے بیماری کو ابتدائی سطح پر ہی کنٹرول کرنے کی سبیل ہو اور شرح اموات میں خاطر خواہ کمی کی راہ ہموار ہو سکے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481