اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

علّامہ اقبالؒ اور سیّد مودودیؒ

images 49

علّامہ اقبالؒ اور سیّد مودودیؒ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمان القرآن ستمبر ۲۰۲۰
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
21؍اپریل 1938ء کو علامہ اقبالؒ کے انتقال کے وقت مولانا مودودیؒ کی عمر تقریباً 35 سال تھی۔ یہ عین ان کی جوانی کا زمانہ تھا اور وہ اپنے افکار ونظریات کو بڑی حد تک مرتب کر چکے تھے، جن کی بنیاد پر انھوں نے آگے چل کر ایک فکری و نظریاتی تحریک کا آغاز کیا۔
ہمارا خیال ہےکہ مولانا کی مذکورہ تحریک کے پس منظر میں اقبالؒ کے افکار بڑے بھرپور طریقے سے کار فرما رہے ہیں اور اسی طرح دونوں شخصیات کے درمیان فکر و نظر کی گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

شخصی حوالے سے دیکھا جائے تو علامہ اقبالؒ سے مولانا مودودیؒ کی پہلی ملاقات جنوری 1929ء میں ہوئی، جب علامہ، مدراس (چنائے) میں تشکیل جدید الٰہیاتِ اسلامیہ کے سلسلے کے تین انگریزی لیکچر (خطبات) دینے کے بعد، بنگلور اور میسور سے ہوتے ہوئے حیدرآباد دکن پہنچے اور وہاں بھی تین خطبے دیے۔
مولانا مودودیؒ نے خود لکھا ہے کہ
’’میری ان سے پہلی ملاقات وہاں ہوئی، دوسری ملاقات فروری مارچ 1937ء میں (خطوط مودودی، دوم، ص 9)
اور تیسری ملاقات اکتوبر 1937ء (ایضاً، دوم،ص 120) میں (لاہور میں) ہوئی۔

ان ملاقاتوں کا پس منظر یہ تھا کہ ایک دردمند مسلمان چودھری نیاز علی خاں (م: ۲۴ فروری ۱۹۷۶ء) نے اپنی جائیداد واقع جمال پور، پٹھان کوٹ ضلع گورداس پور کا ایک حصہ خدمت ِ دین کے لیے وقف کر کے وہاں ایک درس گاہ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس سلسلے میں متعدد زعما اور علما سے راہ نمائی چاہی، جن میں مولانا اشرف علی تھانویؒ، علامہ اقبالؒ ، سیّد سلیمان ندویؒ، عبدالماجد دریابادی اور سیّد مودودیؒ شامل تھے (چودھری نیاز علی خاں اور مولانا مودودی کی باہمی خط و کتابت کے لیے دیکھیے: سیّد اسعد گیلانی کی تصنیف اقبال، دارالاسلام اور مودودی۔اسلامی اکادمی لاہور، ۱۹۷۸ء)۔
مولانا مودودی نے علمی کام کا ایک تفصیلی نقشہ بنا کر چودھری صاحب کو پیش کیا۔ چودھری صاحب نے اس علمی منصوبے سے علّامہ اقبال کو آگاہ کیا۔ انھوں نے اسے پسند کیا اور فرمایا کہ ’’اس وقت کرنے کے کام یہی ہیں” (سیّارہ، لاہور، اقبال نمبر ۱۹۶۳ء)۔

دراصل علّامہ اقبالؒ اس زمانے میں مولانا مودودیؒ کے نام اور ان کی فکر سے واقف ہو چکے تھے۔ الجہاد فی الاسلام پڑھ چکے تھے اور ترجمان القرآن بھی ان کے زیرمطالعہ رہتا تھا۔ چنانچہ بقول چودھری نیاز علی خاں: ’’حضرتِ علامہ کی نظر جوہر شناس بھی سیّد صاحب پر جا پڑی‘‘۔ (صحیفہ لاہور، اقبال نمبر، اکتوبر ۱۹۷۳ء، ص ۲۳)

علّامہ اقبال نے ادارے کی سربراہی کے لیے مولانا مودودی ؒ کا نام تجویز کیا۔
مولانا فرماتے ہیں:’’۱۹۳۷ء کے آغاز میں ان کا عنایت نامہ ملا کہ مَیں حیدرآباد کو چھوڑ کر پنجاب چلا آؤں‘‘
(سیارہ،اقبال نمبر، فروری ۱۹۷۸ء)۔
پھر چودھری نیاز علی نے بھی مسلسل اصرار کیا اور مولانا کو دعوت دی کہ وہ دکن سے ہجرت کر کے لاہور آ جائیں۔

چنانچہ فروری مارچ ۱۹۳۷ء میں مولانا مودودیؒ لاہور آئے اور جیسا کہ اُوپر ذکر آ چکا ہے کہ علامہ اقبالؒ سے ملے اور دو تین نشستوں میں تفصیلی تبادلۂ خیالات ہوا۔
اگرچہ اس سے پہلے بھی مولانا مودودیؒ ،علامہ اقبالؒ اور ان کی شاعری سے بخوبی واقف تھے اور فکری سطح پر بہت قربت محسوس کرتے تھے۔ اب اس قربت میں اور اضافہ ہو گیا۔
مولانا مودودیؒ کہتے ہیں: ’’ان ملاقاتوں میں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میری اور ان کی بہت پرانی واقفیت ہے اور ہم ایک دوسرے کے دل سے بہت قریب ہیں۔
یہاں میرے اور اُن کے درمیان یہ بات طے ہو گئی کہ میں پنجاب منتقل ہو جاؤں اور پٹھان کوٹ کے قریب اس وقف کی عمارت میں، جس کا نام ہم نے بالاتفاق ’دارالاسلام‘ تجویز کیا تھا، ایک ادارہ قائم کروں، جہاں دینی تحقیقات اور تربیت کا کام کیا جائے‘‘(ایضاً)۔
بہرحال، ان ملاقاتوں کے بعد مولانا دکن کو چھوڑ کر پنجاب آنے کے لیے بالکل یکسو ہو گئے اور انھوں نے دکن سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

لاہور سے واپس دکن پہنچے تو انھوں نے چودھری نیاز علی خاں کو جو خط لکھا، اس میں بتایا کہ میں نے یہاں پہنچتے ہی ہجرت کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ علامہ اقبالؒ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر آپ یہاں آ جائیں تو میں بھی ہر سال کچھ ہفتوں کے لیے یہاں آیا کروں گا۔ کچھ مشترکہ علمی منصوبے طے ہوئے تھے۔ اس کام کو وہ بلا تاخیر آگے بڑھانا چاہتے تھے۔
اس سلسلے میں مولانا مودودیؒ کا ایک خط ڈاکٹر سیّد ظفرالحسنؒ کے نام ملتا ہے (جو علی گڑھ یونی ورسٹی میں شعبۂ فلسفہ کے پروفیسر تھے)۔ اس میں مولانا نے یہ بتایا تھا کہ میرے اور علامہ اقبالؒ کے درمیان کیا باتیں ہوئی تھیں۔ یہ خط اقبالؒ کی وفات کے بعد جون ۱۹۳۸ء میں لکھا گیا۔ اس وقت تک ایک ادارہ ’دارالاسلام‘ کے نام سے قائم ہو چکا تھا، اور کچھ افراد کار اس سے منسلک تھے۔
ڈاکٹر سیّد ظفرالحسن نے بھی اس کی شوریٰ کی رکنیت قبول کر لی تھی۔
خط میں مولانا نے لکھا کہ ’’آپ نے ہماری معنوی قوت میں بہت کچھ اضافہ کر دیا ہے‘‘ اور پھر بتایا کہ ’’اکتوبر۱۹۳۷ء میں خاص طور پر انھی مسائل پر بحث کرنے کے لیے مَیں علامہ اقبالؒ سے لاہور میں ملا تھا… ان سے مفصل گفتگو ہوئی تھی۔ خوب غور و خوض کے بعد جس نتیجے پر پہنچے، وہ مختصراً مَیں یہاں عرض کرتا ہوں:

’’حالات کی رفتار نے خود بخود مسلمانوں کو گھیر گھیر کر ایک اجتماعی ہیئت کی طرف لانا شروع کر دیا ہے، ہندوستان کے مختلف حصوں میں ان کو جو پیہم ضربات لگ رہی ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر طرف سے بھاگ بھاگ کر مسلم لیگ کی طرف آ رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک ان میں ایک تنظیمی ہیئت پیدا نہیں ہوئی ہے، جو فکر اور وحدتِ عمل کا نتیجہ ہوتی ہے بلکہ درحقیقت ان کے سامنے اپنا نصب العین بھی واضح نہیں ہے۔ مختلف خیالات، مختلف مقاصد اور مفادات اور خصائل رکھنے والے لوگ اس طرح جمع ہو گئے ہیں جیسے جنگل میں آگ لگنے پر مختلف گلے ہر طرف سے بھاگ کر ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں، تاہم یہ تنظیمی ہیئت پیدا کرنے کا ابتدائی مرحلہ ہے اور اس وقت کوئی الگ جھنڈا بلند کرنا، بجائے مفید ہونے کے، اس تالیفی عمل میں مانع ہو جائے گا جو کسی طرح مناسب نہیں ہے۔

’’ مسلم لیگ کے مرکز پر جو طاقتیں جمع ہو رہی ہیں، ان کے بنیادی نقائص کو دُور کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ان کے تصورات میں جو ابہام اس وقت پایا جاتا ہے، اس کو دُور کیا جائے تاکہ واضح طور پر اس موجودہ پوزیشن کو سمجھ لیں اور اپنی ایک قومی غایت متعین کر لیں۔
یہ چیز جتنی زیادہ واضح ہوتی جائے گی، اتنی ہی تیز رفتاری کے ساتھ عامۃ المسلمین کا ترقی پسند اور اقدام پسند عنصر مسلم لیگ کی صفوں میں آگے بڑھتا جائے گا، اور خود غرض، نمائشی اور آرام طلب عناصر پیچھے رہ جائیں گے۔
اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمانوں کے وہ تمام بے چین عناصر جو محض مسلم لیگ کی بے عملی سے بیزار ہو کر مختلف راستوں پر بھٹک گئے ہیں، رفتہ رفتہ پلٹنے شروع ہو جائیں گے اور تھوڑی مدت بھی نہ گزرے گی کہ یہ جماعت جمہور مسلمین کی ایک مرکزی جماعت بن جائے گی۔

’’سر دست ہم مسلم لیگ سے، اس سے بڑھ کر کوئی توقع نہیں کر سکتے کہ وہ موجودہ غیر اسلامی نظامِ سیاست میں مسلمانوں کی قومی پوزیشن کو بیش از بیش محفوظ کرنے کی کوشش کرے گی۔
ہمارے لیے صحیح پالیسی یہ ہے کہ rear guard میں رہیں اور ایک طرف تو اپنے خیالات کی اشاعت سے مسلم لیگ کو بتدریج اپنے نصب العین کے قریب تر لانے کی کوشش کرتے رہیں اور دوسری طرف مردانِ کار کی ایسی طاقت ور جماعت تیار کرنے میں لگے رہیں جو دارالاسلام کی فکری بنیاد بھی مستحکم کرے اور اس مفکورے کو جامۂ عمل پہنانے کے لیے بھی مستعد ہو۔ جب تک یہ انقلابی جماعت میدان میں آنے کے لیے تیار ہو گی، اس وقت تک ان شاء اللہ میدان ہموار ہو چکا ہو گا۔ کیونکہ انقلابی تصورات کی تبلیغ سے ہم پہلے ہی مسلمانوں کے کارکن اور کار فرما عناصر کو اپنے سے قریب تر لا چکے ہوں گے‘‘۔(خطوطِ مودودی، دوم، ص ۱۹۸-۲۰۴)

اس خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اقبالؒ اور سیّد مودودیؒ کے درمیان بہت سے علمی مسائل اور فقہ اسلامی کی تشکیل کے منصوبے کے ساتھ دیگر موضوعات بھی زیر بحث آئے ہوں گے اور اس وقت ہندوستانی سیاست کا جو نقشہ مرتب ہو رہا تھا، اس پر بھی تبادلۂ خیال ہوا ہو گا۔

مولانا ۱۸مارچ ۱۹۳۸ء کو دکن سے جمال پور (پٹھان کوٹ) پہنچے (ابوالاعلیٰ مودودی، علمی و فکری مطالعہ، ص ۵۶۸)۔ اگلے ماہ وہ لاہور آنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ نذیر نیازی نے ۱۸؍اپریل کو انھیں ایک خط لکھا کہ’’ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر آپ کا ارادہ فی الواقع لاہور آنے کا ہے تو جلدی تشریف لائیے تا کہ ملاقات ہو جائے۔ اپنی طرف سے یہ گزارش ہے کہ ڈاکٹر صاحب قبلہ کی حالت نہایت اندیش ناک ہے۔ ایک لمحے کا بھی بھروسا نہیں۔ بہتر یہی ہو گا کہ آپ جس قدر ہو سکے جلدی تشریف لے آئیں‘‘ (خطوطِ مودودی، دوم،ص ۱۹۰)۔
اس خط کا ڈاکٹر جاوید اقبال نے زندہ رُود، سوم میں بھی ذکر کیا ہے۔
علامہ ۲۱؍اپریل کو فوت ہو گئے، اس پر مولانا مودودیؒ کو شدید صدمہ ہوا اور انھوں نے اقبال کی وفات پر اپنے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کام کے لیے میں بالکل اکیلا رہ گیا ہوں جو ہم نے مل کر کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ اب معلوم نہیں وہ کس طرح سے ہو گا۔
دیکھیے نذیر نیازی کے نام ایک خط (مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۳۸ء ) میں وہ صدمے کا اظہار کس طرح کرتے ہیں:

علامہ اقبال کے انتقال کی خبر پہنچی، دفعتاً دل بیٹھ گیا۔ سب سے زیادہ رنج مجھے اس بنا پر ہوا کہ کتنا قیمتی موقع میں نے کھو دیا… میں اس کو اپنی انتہائی بدنصیبی سمجھتا ہوں کہ اس شخص کی آخری زیارت سے محروم رہ گیا، جس کا مثل شاید اب ہماری آنکھیں نہ دیکھ سکیں گی۔ (خطوطِ مودودی، دوم، ص ۱۸۹)۔

اسی خط میں لکھتے ہیں کہ ’’کچھ خبر نہیں، اللہ کو کیا منظور ہے۔ بظاہر تو ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ مسلمان قوم کو اس کی ناقدری اور نااہلی کی سزا دی جا رہی ہے کہ اس کے بہترین آدمی عین اس وقت پر اُٹھا لیے جاتے ہیں، جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔اب سارے ہندستان پر نگاہ ڈالتا ہوں تو کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آتا جس کی طرف ہدایت حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا جا سکے۔ ہرطرف تاریکی چھائی ہوئی ہے، ایک شمع جو ٹمٹما رہی تھی، وہ بھی اُٹھا لی گئی”

’’مجھے جو چیز پنجاب کھینچ کر لائی تھی، وہ دراصل اقبالؒ ہی کی ذات تھی۔ میں اس خیال سے یہاں آیا تھا کہ ان سے قریب رہ کر ہدایت حاصل کروں گا اور ان کی رہنمائی میں جو کچھ مجھ سے ہو سکے گا، اسلام اور مسلمانوں کے لیے کروں گا۔ اب میں ایسا محسوس کر رہا ہوں کہ اس طوفانی سمندر میں، میں بالکل تنہا رہ گیا ہوں، دل شکستگی اپنی آخری انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ صرف اس خیال سے اپنے دل کو ڈھارس دے رہا ہوں کہ اقبالؒ چلے گئے تو کیا ہوا، خدا تو موجود ہے، سب مر جانے والے ہیں، زندہ رہنے والا وہی حی القیوم ہے، اور اگر وہ تجھ سے کوئی کام لینا چاہے گا تو تیری مدد کے لیے اور کچھ سامان کرے گا۔” (خطوطِ مودودی، دوم، ص ۱۸۹- ۱۹۱)۔

علامہ اقبالؒ کی وفات کے بعد مولانا مودودیؒ نے جس تحریک اسلامی کا احیا کیا، وہ رفتہ رفتہ پھیلتی گئی۔ اس کی توسیع و ترقی، کامیابی اور فروغ میں علامہ اقبالؒ کی رہنمائی کا بھی بڑا دخل ہے۔
جماعت اسلامی کے علاوہ جو اسلامی تحریکیں دوسرے ممالک میں برپا ہوئی ہیں اور پھر عالمِ اسلام میں بیداری کی جو لہر پیدا ہوئی، اس میں مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبالؒ دونوں کا بڑا اثر ہے۔
آیت اللہ خمینی کے انقلابِ ایران میں علامہ اقبالؒ کی شاعری اور سیّد مودودیؒ کی نثر کے اثرات کا خود ایرانی دانشور اور علما اعتراف کرتے ہیں۔ اسی طرح وسطی ایشیا میں اسلامی بیداری میں بھی ان کے اثرات برگ و بار لائے۔

بحیثیت مجموعی علامہ اقبالؒ اور سیّد مودودی، دونوں عالمِ اسلام کی بیداری اور تجدید و احیاے دین کے بارے میں بہت پُر اُمید تھے۔
علامہ اقبالؒ ، چودھری محمد حسین کے نام ۲؍اکتوبر ۱۹۲۲ء کے خط میں لکھتے ہیں: ’’اسلام خلفا کے زمانے کی طرف آ رہا ہے۔ خدا نے چاہا تو خلافت ِ اسلامیہ اپنے اصل رنگ میں عنقریب نظر آئے گی‘‘(چودھری محمد حسین اور علامہ اقبال، تحقیقی مقالہ ایم اے اُردو، ثاقف نفیس، ۱۹۸۴ء، ص ۶۵)۔
اسی طرح نور حسین کو ۱۷مارچ ۱۹۳۷ء کے خط میں لکھتے ہیں : ’’گذشتہ دس پندرہ سال میں کئی لوگوں نے مجھ سے ذکر کیا ہے کہ انھوں نے حضورِ رسالت مآبؐ کو جلالی رنگ میں یا سپاہیانہ لباس میں خواب میں دیکھا ہے۔ میرے خیال میں یہ علامت احیائے اسلام کی ہے‘‘(انوار اقبال، ص ۲۱۶)۔

اس طرح کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیداری کی لہر
اور احیائے اسلام کی تحریکوں کا برپا ہونا علامہ اقبالؒ کی بصیرت میں موجود تھا اور وہ اس معاملے میں بڑے پُرامید تھے۔
سیّد مودودی نے بھی ایک موقع پر کہا تھا کہ جس طرح یہ بات یقینی ہے کہ کل صبح سورج مشرق سے طلوع ہو گا، بالکل اسی طرح مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام غالب آئے گا۔
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ ’’اقبال کی فکری تحریک سے مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے احیائے اسلام کے کام کو آگے بڑھایا‘‘ (ڈاکٹرممتاز احمد فنون لاہور، بحوالہ: اوراقِ گم گشتہ، ص ۸۷)
یہی اثرات ہمیں جدید عالمی تحریکوں میں بھی نظر آتے ہیں۔ اس اعتبار سے میں سمجھتا ہوں کہ جب بھی ہم مولانا مودودیؒ کی فکر پر گفتگو یا بحث کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ فکر مودودیؒ دراصل فکر ِ اقبالؒ ہی کا تسلسل اور اس کی توسیع ہے اور تحریک اسلامی کی پیش رفت میں اقبال کے اثرات کار فرما ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481