اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

علم و ہنر فاؤنڈیشن میں ڈاکٹر زرقا نسیم غالب کے اعزاز میں مشاعرہ

Picsart 22 11 09 12 10 56 088

علم و ہنر فاؤنڈیشن (لاہور) میں ڈاکٹر زرقا نسیم غالب کے اعزاز میں مشاعرہ

رپورٹ: شاہد بخاری

قوم کو زبوں حالی سے نکالنا ، ملک و ملت کو سو فیصد تعلیم و روزگار مہیا کرنا ، سائنس، صنعت اور ٹیکنالوجی سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی جد و جہد "علم و ہنر فاؤنڈیشن” کا نصب العین ہے.

اس رفاعی ادارے کا آغاز ویہاڑی کے گاؤں WB/155 سے کیا گیا۔ جہاں قربانی کی کھالوں کی آمدنی سے 15 عدد سلائی مشینیں لے کر دستکاری سکول اور فری ایجوکیشن سینٹر بنایا گیا ۔ پھر ویہاڑی شہر کے پسماندہ علاقوں میں دستکاری سینٹرز بناۓ گۓ ۔ لاھور اور دوسرے شہروں، دیہاتوں میں بھی بعد ازاں بتدریج دستکاری ٹریننگ سینٹرز ، ایجوکیشن سینٹرز ، کمپیوٹر ٹریننگ سینٹرز ، انگلش ٹریننگ سینٹرز اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز بنائے گئے ہیں ۔ چین، کوریا، ملائیشیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ملت کے ہر فرد کو فنی تعلیم اور روزگار مہیا کرنے کی سعی کرنا فاؤنڈیشن کا مشن ہے۔

سکن سپشلسٹ ڈاکٹر محمد سلیم خان راؤ، جو کہ فاؤنڈیشن کے صدر ہیں، نے نزد اکبر چوک ٹاؤن شپ، لاہور میں 2005ء سے روزگار مشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کر رکھا ہے۔ جہاں لڑکیوں اور لڑکوں ک زیور ہنر سے آراستہ کیا جاتا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ:
ہر بچی اور بچے کو ہم علم و ہنر سکھائیں گے۔  پاکستان کو دنیا میں اسلام کا قلعہ بنائیں گے۔ ملت کے ہر فرد کو ہم روزگار پر لائیں گے۔ صنعت اور ٹیکنالوجی سے ملک خوشحال بنائیں گے ۔

ہر ماہ کی پہلی جمعرات کو اس ادارے میں بعد نماز مغرب مشاعرہ منعقد ہوتا ہے ۔ جس میں آس پاس کے شاعروں کے علاوہ دور دور سے بھی اہل ذوق شریک ہوتے ہیں۔

اس بار ڈاکٹر زرقا نسیم غالب صاحبہ "پروپرائیٹر زرقا پبلیکیشنز” کے اعزاز میں مشاعرہ منعقد ہوا۔  زرقا نسیم کی نثر کی چھ کتب کے علاوہ ایک شعری مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ صاحب صدارت عدل منہاس لاہوری تھے جب کہ نظامت احسان حسن ساحر اور یوسف یار نے کی۔

شاہد بخاری

صلاتوں میں سر کو جھکاتے رہو

بھلائی کی جانب بلاتے رھو

بھلائی میں تم سب کے حامی رہو

بدی میں نہ ہر گز تعاون کرو

تمہارے مصارف سے جو بچ رہے

کرو خرچ راہ خدا میں اسے

 

عدل منہاس لاہوری
کمند پاۓ گا کدوں ستاریاں اتے
میاں مٹھو, کدوں شاہین بن سیں

 

تسنیم کوثر

ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

 

ممتاز راشد لاھوری

کہہ دیا جب تجھے غزل جیسا
اس سے بہتر مثال کیا دیتے

 

ڈاکٹر زرقا نسیم غالب

ہر آئینے میں تم کو دکھائی نہ دوں گی میں
ہر انجمن میں تم کو سنائی نہ دوں گی میں
مشکل پسند ہوں مرا ورثہ ہے راہ حق
آسانیوں سے اذن رسائی نہ دوں گی میں

یہ ہے میرا مشاہدہ زرقا
ہر نظر میں حیا نہیں ہوتی

 

احسان حسن ساحر

جب ظلم و تعدی سے سارا کشمیر اندھیرے میں ڈوبے
پھر نفرت اور بغاوت کے شعلے بھڑکانا پڑتے ہیں

ایاز الغنی

کبھی دیکھو تو آئینے کی جانب
تجھے ھے دیکھ کے حیراں اتنا

 

فراست بخاری

اقبال نے ایتھے ڈیرا لایا
فیض نے وی لوہا منوایا
نیازی، دامن رنگ جمایا
جالب، لقب عوامی پایا

قلم قبیلے، کیتا غور اے
پڑھیا لکھیا، لہور لہور اے

 

مکرم علی شاہین

موج کیتی کہیاں نے بلے بلے
ہجرت کرنے والے خوار ہوگئے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481