اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اقبال ۔۔ صاحب فکر روشن ۔۔۔۔ امجد بٹ

FB IMG 1657623668303 1

اقبال ۔۔ صاحب فکر روشن

تحریر :- امجد بٹ (مری)

جناب ڈاکٹر علامہ اقبال روشن فِکر اصحاب میں نمایاں اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ اقبال کا زمانہ یورپ کے عروج کا زمانہ تھا۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت برطانوی اقتدار پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اپنے دیس میں مسلم باعثِ رسوائیِ پیؑمبر تھا، فرقہ بندی تھی کہیں اور کہیں ذاتیں، مسلمان سید، افغان اور مغل تھا لیکن مسلمان نہ تھا۔ غرض مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ عرب عجم کے خیالات میں راہ گم کر چکا تھا اور انسانیت شعوب و قبائل میں بٹ کر ہلاکت کے گڑھے کے کنارے کھڑی تھی۔ یورپ مادی ترقی میں آسمانوں پرکمندیں پھینکنے کی تیاری کر چکا تھا۔ مشرق احساسِ خودی سے محروم خوابِ غفلت کا شکار تھا۔ ان حالات میں علامہ اقبالؒ نے فکر و تدبر کے وہ چراغ روشن کیے کہ چہار اطرافِ عالم میں روشنی نمودار ہونے لگی۔ ان کی بانگ درا سے مشرق بیدار ہوا۔ گراں خواب چینی سنبھلنے لگے۔ ہمالہ کے چشموں میں جوش و خروش کی کیفیت پیدا ہوئی۔ برِصغیر کی سر زمین پر بیداری کی صبح طلوع ہوئی۔ یورپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ روس میں ایک نئے نظام کی داغ بیل ڈالی گئی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ سب کچھ صرف اور صرف فکرِ اقبالؒ کا نتیجہ ہے تاہم یہ ضرور عرض ہے کہ اس تبدیلی میں اس مردِ قلندر کی سوچ اور کوشش کا خاصہ حصہ ہے۔ آخر کوئی وجہ ضرور ہے کہ اقبالؒ کی فکر سے ملتی جلتی فکر، اس کے اشعار سے ہم آہنگ اشعار اور اس کے خیالات کی طرح کے خیالات ساری دُنیا میں پھیل رہے ہیں۔

راقم کے پاس جاپان سے ”OOMOTO“ نامی ایک رسالہ آتاہے۔ یہ رسالہ عالمی زبان اسپرانتومیں شائع ہوتا ہے۔اس کے ماتھے پر لکھا ہوتا ہے۔
”DIO HOMO KAJ TERO ESTAS UNU“
یعنی خُدا ایک ہے تو اس کی مخلوق اولادِ آدم بھی ایک ہے اور یہ زمین جس پر انسان بستے ہیں یہ بھی ایک ہے گویا توحید کا تصوّر اور وحدتِ انسانیت کا سبق جو اسلا م نے دیا تھا وہ جاپان سے بھی دیاجارہاہے اور آپ بہتر طور پرجانتے ہیں کے جاپان کے لوگ اپنے آپ کو سورج دیوتا کی اولاد خیال کرتے ہیں اور اپنے بادشاہ ہیروہیتو کو خدا کا اوتار مانتے ہیں وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ساری دنیا کے انسان ان کی نوکری چاکری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ لیکن انقلاب دوراں دیکھیے کہ آج اسی جاپان سے
”DIO UNU”کے ساتھ UNU HOMO”
کی آواز بھی بلند ہورہی ہے یعنی دُنیا کے انسان برابر، آپس میں بھائی بھائی اور ایک ہیں۔ ذرا غور فرمائیں تو یہ قرآن کریم کی آواز کو سہارا بنایا گیا ہے ”کان الناس امتہ واحدۃ“ اور اسی عالمی زبان اسپرانتو کے ایک دوسرے رسالے ،جو بلغاریہ سے شائع ہوتا ہے میں، میں نے یہ جملہ دیکھا تھا
”SOCIO ESTAS UNU HOMARO“
یعنی تمام انسان ایک برادری اور انجمن ہیں۔ آخر یہ خالص قرآن کریم کی تعلیم مشرق ومغرب کے ان غیر مسلم مُلکوں میں کیسے پہنچ گئی۔ میں سمجھتا ہُوں کہ اسلام کی آواز اقبال کے اشعار اور ان کے تراجم کے ذریعے دُنیا میں پھیلی۔ آج دُنیا کی چالیس بڑی زبانوں میں کلام اقبال کے تراجم دستیاب ہیں۔ اقبالؒ کے فلسفۂِ انسانیت ”آدمیت۔۔۔۔واقف شو از مقام آدمی“
کی ان تراجم کے ذریعے دُنیا کی بہت سی درسگاہوں میں اور یونیورسٹیوں میں فکرِِ اقبال کے عنوان کے تحت تدریس کا اہتمام موجود ہے۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کی چین کے انقلاب سے سال ہاسال پہلے اقبال نے کہہ دیا تھا۔
”گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے“
اور خلائی دور کے آغاز سے بہت عرصہ پہلے اقبالؒ نے بتا دیا تھا
”تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں ”
اور فرمایا تھا:
”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں“

میں یقین کرتا ہوں کہ علامہ اقبالؒ محض شاعر نہ تھے بلکہ آپ الہامی فکر کے مالک عظیم مُفکّر تھے۔ آپ نے اپنے آئینہ ادراک میں آنے والے دور کی تصویر دیکھ لی تھی۔ آپ کے کلام نے مسلمانوں میں احساس خُودی پیدا کیا۔ اقوام متحدۂِ مشرق کو بیداری کا پیغام دیا اور ساری دُنیا کے سامنے اسلام کا امن پرور فلسفہ پیش کیا۔

ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے اس مردِ قلندر سے انصاف نہیں کیا۔ ہم نے اس کے کلام کو پھیلانے اور اس کے پیغام کو عام کرنے میں مجرمانہ کوتاہی برتی ہے۔ میں جب دیکھتا ہوں کے عالمی زبان اسپرانتو میں چین کے ”ماؤ“ ویت نام کے ”ہوچی منہ“ بھارت کے ”ٹیگور“ اور ”گاندھی“ اور یورپ کے کم و بیش تمام اہل فکر پر جامع اور مفصل کُتب موجود ہیں لیکن اقبال کی سوانح حیات پر کوئی کتاب موجود نہیں تو سرکاری اور نیم سرکاری اداروں اور انجمنوں پر افسوس ہوتا ہے جو اقبال کے نام پر پیسہ تو بٹورتی ہیں لیکن کام نہیں کرتیں۔ یہ بات درست ہے کہ اقبالؒ سیالکوٹ میں پیدا ہوا تھا اور آج لاہور میں مدفون ہے لیکن اقبال صرف ہمارا نہیں ساری دُنیا کا شاعر تھا۔ یہ خدا کا عظیم احسان ہے کہ اُس نے اس شاعر اور مفکّر کو ہمارے ملک میں پیدا کیا اور ہمیں یہ عزت بخشی کہ ہم اقبا ل ؒ کو "اقبال لاہوری” یا پاکستان کا قومی شاعر کہہ سکیں لیکن اس اعزاز کا تقاضا ہے کہ ہم اقبالؒ کے پیغام کو ساری دُنیا تک پہنچائیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اقبال کے اشعار اور ان کی کتابوں کے تراجم اور ان کی شرحیں مختلف زبانوں میں لکھیں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو خدا کی دی ہوئی نعمت کا کُفران اور امانت میں خیانت کا ارتکاب ہوگا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481