وزیر آباد میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر حملے کے بعد پشاور کے حساس مقامات پر احتجاج کرنے والے 300 پارٹی کارکنان کیخلاف مقدمہ درج کر کے کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے اور متعدد کارکنوں کی گرفتاری کی بھی اطلاع ہے ۔۔ دوسری طرف پولیس نے پارٹی کے کئی سینئر رہنمائوں کے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لئے ہیں ۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد پشاور میں احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے 300 مشتعل کارکنان کے خلاف درج شدہ مقدمہ منظر عام پر آگیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے 5 روز قبل درج کردہ مقدمے میں کسی شخص کو نامزد نہیں کیا۔
پشاور پولیس نے عمران خان پر حملے کے بعد احتجاج کے دوران جی ٹی روڈ سے ریڈ زون میں داخل ہونے ، بکتر بند گاڑی کو نقصان پہنچانے اور پولیس کو ڈنڈوں سے مارنے پر پی ٹی آئی کے 300 کارکنان کے خلاف درج مقدمہ درج کیا ہے۔
مذکورہ مقدمہ ایس ایچ او تھانہ شرقی انسپکٹر نعیم کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس کی تفصیلات اب سامنے آئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق 250 سے 300 افراد نے ریڈ زون میں داخل ہو کر پولیس کی بکتر بند گاڑی کو نقصان پہنچایااور پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں سے حملہ بھی کیا۔
ایف آئی آر میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ملزموں کی شناخت کی جائے گی اور اس سلسلے میں نادرا سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے تاکہ ملزمان کو شناخت کے بعد گرفتار کیا جا سکے ۔
بعض اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاری کیلئے کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ ادھر پولیس نے اسد عمر اور غلام سرور خان سمیت پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنمائوں کے وارنٹ گرفتاری بھی حاصل کر لئے ہیں۔ جبکہ پرویز خٹک اور امین گنڈاپور سمیت بعض رہنما پہلے ہی پولیس کو مطلوب ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا مارچ شروع ہونے سے پہلے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا امکان ہے ۔
