اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج نامور شاعر اسلم کولسری کا یوم وفات ہے

Picsart 22 11 07 13 34 57 252

اسلم کولسری اوکاڑہ کے نواحی گاؤں کولسر میں پیدا ہوئے ، اسی مناسبت سے کولسری ان کی پہچان بن گیا۔

ان کی شاعری سادگی و سلاست کا نمونہ ہے لیکن اس میں میٹھے میٹھے درد کی ایک رو رواں رہتی ہے۔ شہروں کی بھیڑ سے اکتا کر وہ چشم تصور میں اپنے گاؤں پہنچ جاتے ہیں۔ کیوں کہ انھیں اپنے گاؤں کے سادہ ماحول، وہاں کی قدروں روایتوں اور اپنے لوگوں سے بے پناہ محبت ہے۔ وہ اپنی پہچان کھو کرشہروں کے ہجوم میں گم ہو جانے والوں کو دیکھتے ہیں تو بے ساختہ کہہ اٹھتے ہیں۔۔۔۔

میں جب اپنے گاؤں سے باہر نکلا تھا
ہر رستے نے میرا رستہ روکا تھا

شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

اسلم کولسری تشبیہات و استعارات اور ترکیبات میں الجھنے کے بجائے سادہ پیرائے میں اپنے جذبات اپنے قاری تک پہنچانے میں دل چسپی رکھتے تھے۔ وہ ناقدین اور مبصرین کی خوشنودی کے بجائے قارئین تک شاعرانہ ابلاغ کو ترجیح بناتے ہیں۔ اپنا تعارف بھی کس سادگی سے کرواتے ہیں۔۔۔۔

آباد نگر میں رہتا تھا اور اجڑی غزلیں کہتا تھا
کچھ نام بھی شاید تھا اس کا، یاد آیا، اسلم کولسری

اسلم کولسری کے ہاں حالات کے جبر کا گہرا احساس پایا جاتا ہے۔ وہ مادیت پرستی کے عہد میں اہل علم و فضل کی ناقدری کو یوں شعر میں ڈھالتے ہیں۔۔۔

ہر صبح، زندگی! نئے اخبار کی طرح
میرے نحیف جسم کو دفتر میں پھینک دے

مجھ کو تو نوکری نے بچا ہی لیا مگر
سینے میں ایک پھول سا فنکار مر گیا

ان کی یہ مختصر نظم دیکھیے۔۔۔۔
نوحہ
بنسری توڑ دی گڈرئیے نے
اور چپکے سے شہر میں جا کر
کارخانے میں نوکری کر لی

 

اسلم کولسری 7 نومبر 2016 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481