اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سلطنت عثمانیہ سے ترکی تک  ایک طائرانہ نظر

تحریر ۔۔ جمیل الرحمٰن عباسی

ساتویں صدی ہجری  میں  قائی نامی ترک  قبیلہ منگولوں کی خون ریزی سے بچنے کے لیے  ترکمانستان  سے نکلا ۔ ان    کا ایک قافلہ جو چار سو خیموں پر مشتمل تھا ،مختلف شہروں سے ہوتا ہوا ایشیائے کوچک کی طرف آ نکلا ۔ان کا ارادہ یہ تھا کہ قونیہ کے سلجوق حاکم علاؤ الدین کیقباد کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے قبیلے  کے لیے کوئی جگہ ما نگی جائے۔ اثنائے سفر انھوں نے سلجوقیوں اور بازنطینیوں کی ایک جنگ کا مشاہدہ کیا  جس میں سلجوق شکست کھا رہے تھے ۔ قائی قبیلے کے شہسوار اپنے سردار ارطغرل کے حکم پر سلجوقیوں کی مدد کرتے ہوئے جنگ میں کود پڑے جس سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور سلجوق لشکر کو فتح نصیب ہوئی۔ اس مدد کے  صلے میں علاؤ الدین سلجوقی نے قائی قبیلے کو اناطولیہ  کے علاقے میں بازنطینی سرحدوں کی طرف آباد کر لیا  ۔  امیر ارطغرل نے کئی صلیبی علاقے اور قلعے فتح کیے ۔یہاں تک کہ ۶۸۷ :ھ ۔۔۔ ۱۲۸۸ عیسوی  میں ان کا انتقال ہوا۔ارطغرل کے بیٹے اور جانشین عثمان نے بھی  بازنطینی علاقوں کی طرف توسیع کا سلسلہ جاری رکھا  جس سے وہ علاؤ الدین سلجوقی کا منظور نظر بن گیا ۔ ۶۹۹ ہجری میں منگولوں نے قونیہ فتح کر کے علاؤ الدین سلجوقی کی حکومت  کا خاتمہ کر دیا ۔ لیکن کچھ عرصے بعد عثمان کے بیٹے اورخان منگولوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ چونکہ اس علاقے میں کوئی مضبوط و متحد حکومت نہ تھی اس لیے عثمان خان نے مختلف راجواڑوں کو متحد کر کے عثمانی ریاست کی بنیاد رکھ دی ۔انھوں نے مختلف بازنطینی علاقوں کو فتح کرنا جاری رکھا۔وہ انھیں  قبول اسلام ،جزیے کی ادائی یا   جنگ کی پیش کش کرتے۔ تیسرے عثمانی حاکم اور خان نے  فتوحات  کا دائرہ وسیع کیا ۔ان کے دور میں  شاہ روم   اندر نیکوس ثالث نے   اناطولیہ پر حملہ کیا    جس کا کامیابی سے دفاع کیا گیا   اور  اناطولیہ  کے مزید کچھ علاقے فتح کیے۔مراد  اول   نے بلقان  اور بلغاریہ کے کچھ علاقے فتح کیے اور سربیا کو شکست دی جس میں اس کا بادشاہ مقتول ہوا  اور اسی جنگ کے اختتام پر مراد شہید بھی ہو گئے۔ ۷۹۸ ھ ۔۔۔۱۳۹۶ ء میں   شاہ ہنگری اور پاپائے  روم کی کوششوں سے    کئی ملکوں کے اتحادی افواج  عثمانیوں پر حملہ آوع ہوئے  ۔ان کا نعرہ تھا کہ «سحق الأتراك أولا ثم احتلال القدس» ’’  ترکوں کو تباہ کرو اور  پھر قدس پر قبضہ کرو‘‘   اس فوج میں ہنگری ، فرانس ، جرمنی ، ہالینڈ ،اٹلی، برطانیہ  وغیرہ کی فوجیں شامل تھیں  جن  کی تعداد ایک لاکھ  تیس ہزار  تھی  ۔  صلیبی لشکر  دریائے ڈینیوب پار کر کے نیکو پولی پہنچا  ۔ یہاں سلطان با یزید  اول  یلدرم  کی قیادت میں  تعداد نوے ہزار ترک فوج ان کی منتظر تھی ۔ یہاں ایک خونریز   معرکہ پیش آیا اور  عثمانیوں نے  فرنگی فوجوں کو شکست فاش دی ۔  سلطان بایزید یلدرم نے  اپنے دور حکومت  میں متعدد بار  قسطنطینیہ کا محاصرہ بھی کیا لیکن فتح نہ کر سکے۔۸۰۴ ہجری میں  جب تیمور لنگ  کی فتوحات کا سلسلہ جاری تھا تو  سلطان بایزید ،   بغداد کے حاکم احمد بن اویس  جلائری کو پناہ دینے کی وجہ سے تیمور کے ساتھ جنگ میں الجھ بیٹھے اور    ۸۰۴ ھ میں اس سے   شکست کھائی اور اسی کی قید میں وفات پائی ۔ یہ دور  عثمانی ریاست  کے پہلے زوال کا عرصہ کہلاتا ہے ۔اس میں  یورپی مقبوضات اور  اناطولیہ کی ریاستیں الگ ہو گئیں ۔کچھ عرصے کے بعد  بایزید کے بیٹے محمد    اول   نے سلطنت کو سنبھالا  ۔ان کے بعد   سلطان  مراد ثانی ، نے سلطنت کو مضبوط کیا ۔ (۸۲۵هـ = ۱۴۲۲م) میں انھوں نے  قسنطینیہ کا  محاصرہ کیا لیکن فتح ندارد ۔ (۸۲۹ هـ = ۱۴۲۶م) میں انھوں نے دریائے ڈینیوب کے کنارے ہنگری کو شکست دی اور   کچھ علاقے فتح کر لیے ۔ ۸۴۳ ھ ۱۴۳۹ ء میں     پاپائے روم  أوجينيوس رابع  کی کوششوں سے ایک  صلیبی حملہ برپا کیا گیا  جس کی قیادت   جنرل هونيادى  کے ہاتھوں میں تھی جس نے چند معرکوں میں  ترک فوجوں کو شکست دی ۔ اب  سلطان مراد ثانی خود مقابلے پر آئے  اور حملہ آوروں کو مار بھگایا  اور سربیا نے عثمانیوں کی اطاعت قبول کی اور ہنگری کے ساتھ امن معاہدہ  طے پایا  ۔ (۸۴۸ ھ  = ۱۴۴۴ء)  میں  پاپائے روم  نے  اپنے نمائندہ خصوصی سیزارینی کو ہنگری کی طرف روانہ  کیا اور اسے معاہدہ توڑنے اور عثمانیوں کے خلاف جنگ شروع کرنے پر قائل کیا اور کہا کہ  مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ توڑنا گناہ یا جرم نہیں بلکہ جائز ہے۔پوپ کی سازشوں نے  فرانس ، ہنگری ، جرمنی ، اٹلی پر مشتمل صلیبی لشکر تشکیل دیا جس  نے بلغاریہ کے عثمانی علاقوں پر حملہ کر دیا ۔ سلطان مراد ثانی     خود فوج لے کر نکلے اور  ، بلغاریہ کے شہر   وارنا    کے مقام پر  جنگ  ہوئی جس میں عثمانیوں کو شاندار فتح نصیب ہوئی اور شاہ ہنگری   اور کارڈنیل سیزارینی   قتل کئے گئے۔ اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے ۸۵۲ ھ ۔۔۔ ۱۴۴۸ ء میں   کوسوو کی طرف  ایک اور  حملے کا آغاز کیا گیا لیکن صلیبیوں کا  ایک بار پھر شکست  ہوئی ۔اب   سلطان محمد ثانی الفاتح   حکمران بنے۔ جنھوں نےحکمران بنتے ہی فتح قسنطینیہ کی تیاریاں شروع کر دیں اور   ۸۵۷  ہجری ۱۴۵۳  عئسوی  میں قسنطینیہ فتح کر لیا۔اس حملے میں شاہ بازنطین ، قسطنطین یاز دہم ، قتل ہوئے ۔دسویں صدی ہجری کے آغاز میں پرتگالی ، مسلمان ممالک پر تاراج کرنے کے  درپے تھے جب کہ ایران کے شیعہ حکمران اسماعیل صفوی ان  کے اتحادی تھے  جنھوں نے مصر کی سلطنت ممالیک کو  بھی اپنے ساتھ ملا  لیا  تھا ۔  سلطان سلیم نے ۹۲۰  ہجری میں اسماعیل صفوی کو شکست دینے کے بعد ، ۹۲۲ ہجری  ۱۵۱۷ ء  میں ممالیک کو بھی شکست دی ۔ انھی کے  عہد میں حجاز ، مصر ،شام اور بیت المقدس عثمانیوں کے تسلط میں آیا ۔ آخری عباسی خلیفہ   متوکل علی اللہ  ثالث  ، سلطان سلیم کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے ۔ تبرکات  خلافت سلطان سلیم کے حوالے کرنے کے ساتھ انھوں نے سلطان کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر لی ۔اس طرح خلافت اسلامی  کا پرچم عالی شان ، عباسیوں  سے عثمانیوں کی طرف منتقل ہو گیا ۔سلطان  سلیم اور سلیمان القانونی کا شمار طاقتور خلفائے عثمانی میں ہوتا ہے ۔ ان کے دور میں فتوحات  کا دائرہ مزید وسیع ہوا ۔ سلطنت  تین براعظموں یورپ ، ایشیا اور افریقہ   کے علاقوں تک پھیل چکی تھی  ۔ قبرص ،سربیا ، یوگوسلاویہ ،  بلغاریہ ، کوسووو  ،  ہنگری ، پولینڈ ،البانیہ ، یونان ، رومانیہ  ، ویانا  سالونیکا ، اس کے علاوہ فرانس ، جرمنی ، اٹلی اور آسٹریا کے  کچھ علاقے       اس کے علاوہ  فلسطین ، شام ،  حجاز ، عراق ، مصر، ایری ٹیریا،  لیبیا ، الجزائر  وغیرہ  خلافت عثمانی کے  زیر سایہ آچکے تھے۔خلافت عثمانیہ نے کئی سو سالوں  تک  عالمی سیاست میں فعال کردار  ادا کیا ۔ پہلی جنگ عظیم میں  خلافت عثمانیہ کو جرمنی کا حلیف بننا پڑا ۔ شکست کے بعد  سلطنت عثمانیہ عظمی کا  خاتمہ ہو گیا  البتہ  ملک ترکی باقی رہا  جو اب  ترقی اور نشاۃ ثانیہ کے مراحل طے کرتا جا ر رہا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481