اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

باغبانی اور ڈیری فارمنگ سے کوہسار میں روزگار کے نئے در کھولیں۔۔

12

تحریر :۔راشد عباسی
گزشتہ کچھ برسوں کے دوران اہل کوہسار میں اپنی زمینیں آباد کرنے، مقامی روزگار سے وابستہ ہونے، معیار تعلیم کو بہتر بنانے اور خواتین کے لیے مثبت سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے کے بارے میں الحمد للّٰہ شعور بیدار ہوا ہے۔ مری ڈویلپمنٹ فورم، رفاہ ڈویلپمنٹ فورم اور ہمکار فاؤنڈیشن جیسی تنظیموں نے انقلابی کام کیا۔

جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ آئی ایم ایف کی فرمانروائی یک نکاتی مقصدیت رکھتی ہے۔ "غریب ممالک کے وسائل کو ان کے عوام کی خوشحالی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا”۔ کیوں کہ منطقی بات ہے کہ قرض وہی لیتا ہے جس کے پاس اپنی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے وسائل نہیں ہوتے۔ اور آئی ایم ایف کا کاروبار ہی مقروض قوموں کے دم سے چلتا ہے۔

ہمارے لیے شاید پورے ملک کو فورا ملٹائی نیشنلز کے چنگل سے نکالنا ممکن نہ ہو۔ غیر ملاوٹ شدہ خوراک کی پورے ملک کو فراہمی بھی نہ صرف ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے بلکہ بس سے بھی۔ پورے ملک میں لوگوں کے رویوں کی اصلاح بھی یقینا ہمارے لیے کار محال ہے۔ لیکن ہم کوہسار کی حد تک تو مقامی طور پر آرگینک غلہ، دالیں، چاول اور سبزیاں اگا سکتے ہیں۔

جندر کا احیاء کر کے غلے کی پسائی روایتی طریقے سے کروانے میں دلچسپی رکھنے والوں کو سہولت دی جا سکتی ہے۔

باغبانی کے شعبے کو محکمہ زراعت کے تعاون سے جدید خطوط پر ترقی دی جا سکتی ہے۔ انجیر اور زیتون پر خصوصی توجہ دے کر ایک بڑی معاشی سرگرمی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

کوہسار کے کئی علاقے زعفران کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ مری ڈویلپمنٹ فورم ، رفاہ ڈویلپمنٹ فورم، ہمکار فاؤنڈیشن اور دیگر ایسی تنظیمیں اس ضمن میں باہم مل کر اور محکمہ زراعت اور دیگر متعلقہ محکموں کے تعاون سے کوہسار کی معاشی ترقی کا ایک نیا روزن کھول سکتی ہیں۔

ڈیری فارمنگ اور لائیو سٹاک کے شعبے میں بھی کوہسار کے کئی علاقے موزوں ترین ہیں۔ ہمارے آباء و اجداد کے گھر پالتو جانوروں سے بھرے ہوتے تھے۔ صاف ستھرا، ملاوٹ سے پاک تازہ دودھ گھروں میں مفت دستیاب ہوتا تھا۔ گھی مکھن جیسی نعمت بھی گھروں میں میسر ہوتی تھی۔ اگر اس شعبے کو منظم طریقے سے فعال کیا جائے تو ایک تو پورے کوہسار میں ڈبوں میں بند غیر معیاری دودھ سے اہل علاقہ کو نجات مل جائے گی اور مقامی روزگار بھی ترقی کرے گا۔ اسی طرح لائیو سٹاک کے شعبے کو بھی ترقی دے کر گوشت کی مقامی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ اور صارفین کو اس امر کی بھی تسلی ہو گی کہ ان کے استعمال میں آنے والا گوشت ایک تو حلال جانور کا ہے اور دوسرے حلال ہے۔

کوہسار میں ایسے کئی علاقے ہیں جہاں قدرتی چشموں کا پانی پورا سال بہتا رہتا ہے۔ یہ پانی بالآخر دریا میں شامل ہو کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے شروع کر کے حکومت اسے ان علاقوں کو سپلائی کر سکتی ہے جہاں پانی دستیاب نہیں۔ چھوٹی نالیاں نکال کر اس پانی کو تالابوں میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے اور ماہی پروری کے ذریعے مقامی روزگار کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ ذخیرہ شدہ پانی سے مقامی زراعت کے شعبے کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

کوہسار میں جنگلات کافی علاقے پر پھیلے ہوئے تھے جن کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن موجود جنگلات میں بھی بائڑ اور چیڑ کے درخت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان درختوں کے پتے "چن پوتھل” کی صورت میں جنگلات میں وافر مقدار میں ہمیشہ مل جاتے ہیں۔ یہ تیزی سے جلنے والا ایندھن ہے۔ اس کو جمع کر کے اور کاٹ کر یا پیس کر چھوٹے چھوٹے گٹھے بنائے جا سکتے ہیں۔ جنھیں دل چسپی رکھنے والی صنعتوں کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481