وزیراعظم نے محکمہ ماحولیات کو حکم دیا کہ قدرتی ماحو ل کو متاثر کرنے والے تمام عوامل کے خلاف موثر مہم چلائی جائے۔
پلاسٹک شاپنگ بیگز پر ڈیڑھ ماہ میں مکمل پابندی لگائی جائے۔ ہسپتالوں کا "ویسٹ میٹریل” بھی قدرتی ماحول کو تباہ کرہا ہے۔ اس لیے جن ہسپتالوں میں انسولیٹر ہیں انھیں ایک ماہ میں فعال کیا جائے۔ جن شفا خانوں میں یہ سہولت میسر نہیں ان کے بارے میں رپورٹ پیش کی جائے کہ کب انسولیٹرز فعال حالت میں موجود ہوں گے۔
پانی کے قدرتی چشمے اللہ کی نعمت اور قدرتی حسن کا شہکار ہیں۔ ان پر سروس اسٹیشن بنانے پر پابندی عاید کی جائے نیز کچرا کھلی فضا میں پھینکنے کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی عام کی جائے اور حکم عدولی کرنے پر جرمانہ مختص کیا جائے۔
ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی جائے۔ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے جنگلات کی حفاظت کی جائے۔ پارکوں کے تحفظ، صفائی اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جائے۔
تعمیرات کے حوالہ سے ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی بنائی جائے۔ اس کمیٹی میں محکمہ ماحولیات کے نمائندے کے علاوہ ٹاؤن پلینر بھی شامل ہو۔
آلودگی میں اضافے کی ایک وجہ نالوں کی بندش بھی ہے۔ اس حوالہ سے سبھی متعلقہ محکموں سمیت ایس ڈی ایم اے کو کام پر لگایا جائے۔
وزیر اعظم نے حکم دیا کہ سکولوں کالجوں میں خصوصی مہم چلائی جائے۔ عوام کچن گارڈننگ پر توجہ دیں۔ محکمہ ماحولیات ٹارگٹ سیٹ کر کے ان کی تکمیل کرے۔ محکمہ ماحولیات کی استعداد کار بھی بڑھائی جائے گی اور انھیں درکار مالی وسائل بھی مہیا کیے جائیں گے۔
