ﻋﺪﯾﻢ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﻧﺎﻡ ﻓﺼﯿﺢ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺗﮭﺎ ۔ وہ جدید لب و لہجے کے شاعروں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ پی ٹی وی کی مقبول ڈرامہ سیریل ﺁﻏﻮﺵ آپ نے لکھی نیز "گیسٹ ہاؤس” ﮐﮯ کچھ ﮈﺭﺍﻣﮯ بھی آپ کے ﺗﺤﺮﯾﺮ کردہ تھے۔ آپ کے کئی ﺷﻌﺮﯼ ﻣﺠﻤﻮﻋﮯ منظر عام پر آئے جن میں ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ، ﺑﮩﺖ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﻮ، ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﻓﺎﺻﻠﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﮕﮯ، ﮐﮩﻮ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ وغیرہ شامل ہیں۔
عدیم ہاشمی 5 نومبر، 2001 ﺀ کو شکاگو، امریکہ میں خالق حقیقی سے جا ملے اور وہیں مدفون ہیں۔
بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ
اڑا دیے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے
یوں دبائے جا رہا ہوں خواہشیں
جیسے اک عہد جوانی اور ہے
ان کی یہ غزل بہت مشہور ہوئی اور اسے کئی گلوکاروں نے گایا۔
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہی
جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا
میں تری صورت لیے سارے زمانے میں پھرا
ساری دنیا میں مگر کوئی ترے جیسا نہ تھا
آج ملنے کی خوشی میں صرف میں جاگا نہیں
تیری آنکھوں سے بھی لگتا ہے کہ تو سویا نہ تھا
یہ سبھی ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھیں
آنکھ دھندلائی ہوئی تھی شہر دھندلایا نہ تھا
سینکڑوں طوفان لفظوں میں دبے تھے زیر لب
ایک پتھر تھا خموشی کا کہ جو ہٹتا نہ تھا
یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ
بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا
مصلحت نے اجنبی ہم کو بنایا تھا عدیمؔ
ورنہ کب اک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا
