اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

تین روزہ کامیاب ادب اطفال کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی

Picsart 22 11 03 10 35 37 691

تین روزہ ادب اطفال کانفرنس کی اختتامی تقریب

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان میں ادب اطفال کے حوالے سے منعقد ہونے والی پہلی تین روزہ کانفرنس کی اختتامی تقریب اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن محترمہ فارینہ مظہر مہمان خصوصی تھیں۔ مہمانان اعزاز میں معروف ادیب، شاعر، ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید اور معروف سینیر شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن شامل تھے۔ نظامت کے فرائض معروف شاعرہ عنبرین حسیب عنبر نے انجام دیے۔

چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان جناب ڈاکٹر یوسف خشک نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد میں حصہ ڈالنے والے ہر شخص کا شکریہ ادا کیا ۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس اپنی نوعیت کی تاریخی کانفرنس کا اختتام ان شاءاللہ ادب اطفال کے فروغ کے حوالے سے ایک نئے عہد کا آغاز ثابت ہو گا۔ انھوں نے اس حقیقت کا ایک بار پھر اظہار کیا کہ قوم کا مستقبل ہونے کی وجہ سے بچے بہت اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی ہماری ترجیحات میں اولین درجے پر ہونی چاہیے۔ اس کانفرنس میں روشن دماغ دانش وروں نے کئی اہم نکات اٹھائے اور فکر کے کئی نئے روزن کھولے۔ ان شاءاللہ ہم پورے پاکستان کے ان نابغہ روزگار شخصیات کی رہنمائی میں ماضی و حال کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

پاکستان کے مختلف خوبصورت علاقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے احسان دانش ، ڈاکٹر رؤف رفیقی، اباسین یوسف زئی، ادل سومرو اور حفیظ خان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

ڈاکٹر رؤف رفیقی نے وفاقی سیکریٹری کی توجہ جناب امیر مقام کی طرف سے کیے گئے ادب اطفال ایوارڈ کی طرف مبذول کرائی ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی مادری زبانیں گل دستے کے خوب صورت پھول ہیں۔ اس لیے ان میں سے ہر زبان کے ایک ادیب اور ایک بچے کو ایوارڈ ملنا چاہیے۔ اس طرح مادری زبانوں کے فروغ میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی ۔

اباسین یوسف زئی نے وفاقی سیکریٹری کے توسط سے حکومت سے درخواست کی کہ سرکاری خرچے پر مادری زبانوں میں بچوں کے رسالے شائع کیے جائیں۔ نیز ٹی وی چینل ہوں جہاں پر ادب اطفال کے علاوہ علم و ادب کے حوالے سے پروگرام پیش ہوں۔

ادل سومرو نے نہایت دقیق نکتے کی نشان دہی کی کہ بچوں کے حوالے ہمارا رویہ تبدیل نہیں ہوا۔ تاریخ میں بچوں کا ادب شامل نہیں ہے۔ ہمیں عملی زندگی میں بچوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہیے۔

جناب حفیظ خان نے کہا کہ پہلے بچوں کو پڑھنے کے لیے بچوں کے رسائل دستیاب تھے اور غیر نصابی سرگرمیوں سے بچوں کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی تھیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم بچوں کو صرف نصاب تک محدود کر کے ان کے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ ہم انھیں اچھے پروفیشنل بننے کے مواقع مہیا کر رہے ہیں لیکن انھیں اچھا انسان بنانا ہماری ترجیح میں شامل نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جہاں اس کانفرنس نے کئی چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب دیے ہیں وہیں کئی گھمبیر سوال اٹھائے بھی ہیں جن کا جواب تلاش کرنا قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے

محترمہ فاطمہ حسن نے کہا کہ ادب اور آرٹ انسانی شعور کی آبیاری کے لیے نہایت اہم ہیں۔شعور ارتقاء کی طرف لے جاتا ہے جس سے معاشرے میں ترقی کی راہیں استوار ہوتی ہیں۔ آج کا اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم آج اپنے بچوں کو اجتماعی لاشعور دے رہے ہیں، جب کہ ہمارے پاس وہ اجتماعی لاشعور موجود تھا جس کے حوالے اس کانفرنس میں جا بہ جا دیے گئے۔
فاطمہ حسن نے مزید کہا کہ بچے کیونکہ ماؤں سے زیادہ وابستگی رکھتے ہیں اس لیے ماؤں کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو ادب کے ساتھ وابستہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ کانفرنس میں موجود دانش وروں نے ادب اطفال کے فروغ کے حوالے سے جو تجاویز دی ہیں انھی یکجا کر کتابی صورت میں دستیاب کیا جائے گا اور ان پر نیک نیتی سے عمل کیا جائے گا۔

جناب اصغر ندیم سید نے کہا کہ بچے خوب صورت بھی ہوتے ہیں اور سچے بھی۔ تاریخ میں سب سے بڑا سچ جو ادب میں محفوظ ہے وہ "بادشاہ ننگا ہے” کی صورت میں ایک بچے کا سچ ہے۔
بچے کیوں کہ جھوٹ نہیں بولتے اور بچے معصومیت کا استعارہ ہیں اس لیے بچوں کا ادب لکھنا مشکل کام ہے۔
انھوں نے تاسف کا اظہار کیا کہ پاکستان میں سو سے زیادہ ٹی وی چینل ہیں لیکن کسی پر بھی بچوں کے پروگرام پیش نہیں کیے جاتے۔ ہمارے بک سٹالوں پر "ادب اطفال” کا گوشہ موجود نہیں۔ والدین کو چاہیے کہ سال گرہ پر مہنگے تحفوں کے بجائے بچوں کو کتابوں کا تحفہ دیں۔
انھوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ دنیا میں بچوں پر فلمیں بنتی ہیں۔ ان ممالک میں ہمارے پڑوسی ملک بھی ہیں۔ چلڈرن فلم فیسٹیول بھی ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسی فلمیں نہیں بنائی جاتیں۔
یو بی ایل ہر سال کتابوں پر ایوارڈ پیش کرتا ہے۔ لیکن بچوں کے ادب کے حوالے سے جب نام زدگیاں دیکھیں تو ہر سال وہی چند نام دھرائے جاتے ہیں۔ نئے لوگوں کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہیے۔
اصغر ندیم سید نے بتایا کہ امسال ادب کا نوبل انعام ایک چھیاسی سالہ ادیبہ کو ملا جو ساٹھ سال سے ادب تخلیق کر رہی ہیں۔ انھوں نے ادب اطفال کی تخلیق سے اس شعبے میں قدم رکھا تھا اور وہ اب بھی بچوں کے لیے لکھ رہی ہیں۔ ان کی تحریر کی خاص بات ٹیکنیک کے بغیر سادگی سے لکھنا ہے۔ سادہ لکھنا مشکل ترین کام ہے۔

انگریزی میں بچوں کی فلمیں ، کارٹون اور دستاویزی فلمیں موجود ہیں۔ کیونکہ فلم بہت موثر ذریعہ ہے اس لیےاردو کے علاوہ علاقائی زبانوں میں حکومتی سرپرستی میں ان پر کام کی اشد ضرورت ہے ۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ بچوں کے لیے بننے والی فلمیں اصل میں والدین کے لیے ہوتی ہیں۔

  • محترمہ فارینہ مظہر نے کانفرنس کے شرکاء کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے چیئرمین اکادمی ادبیات سے درخواست کی کہ کانفرنس میں پیش کی تجاویز کو جلد یکجا کر کے ان کی وزارت کو پیش کیا جائے تاکہ عملی اقدامات کے لیے کوشش کی جائے۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اکادمی ادبیات پاکستان ایسی مزید تقریبات بھی منعقد کرے گی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481