اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سانحہ مری کا محفوظ فیصلہ سُنا دیا گیا

Picsart 22 11 02 20 33 43 972

سانحہ مری کا محفوظ فیصلہ سُنا دیا گیا

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس چوہدری
عبدالعزیز نے سانحہ مری کے حوالے سے محفوظ فیصلہ سُنا دیا۔۔

عدالت نے یہ فیصلہ چوبیس سماعتوں کے بعد سات مئی کو محفوظ کیا گیا تھا۔ امسال سات اور آٹھ جنوری کی درمیانی شب مری میں برفانی طوفان کے باعث تئیس افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ ان میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد بھی شامل تھے۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سانحہ مری میں جن لوگوں کی شہادتیں ہوئیں ان کے ورثاء کو دی جانے والی معاوضے کی رقم ناکافی ہے۔ اس لیے اس رقم میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔

عدالت نے مری کے قدرتی حسن کو تباہی سے بچانے کے لیے غیر قانونی تعمیرات اور درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کر دی ۔ یہ بھی حکم جاری کیا گیا کہ مری میں سیوریج، پانی اور ویسٹ مینجمنٹ کا نظام بہتر بنایا جائے۔

عدالت نے بے ہنگم ٹریفک کے گھمبیر مسئلے کے حل کے لیے حکم دیا کہ پارکنگ پلازے اور پارکنگ کے دیگر انتظامات شہر سے باہر تعمیر کیے جائیں تاکہ شہر میں رش نہ ہو۔

فیصلے میں محکمہ ہائی ویز، محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو 1122سے کہا گیا ہے کہ سانحہ مری کے ذمہ داران کے خلاف غیر جانب دارانہ انکوائری کریں۔ تاکہ ذمہ داران کا تعین کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

عدالت نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر قانونی تجاوزات کو ختم کرے۔ سیاحوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے مری میں موجود ہوٹلوں اور رہائشی فلیٹس کی درجہ بندی کر کے قیمتوں اور سہولیات کا نظام وضع کیا جائے۔

عدالت نے مزید کہا کہ سانحہ مری میں معطل کئے جانے والے چند افسران کی معطلی کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا۔ ان افسران کا سانحہ مری میں سے تعلق نہیں بنتا لہذا ان کو اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کا دوبارہ موقع دیا جائے ۔

سانحہ کے رونما ہونے کے وقت عثمان بزدار وزیر اعلٰی پنجاب تھے، جنھوں نے سانحہ مری پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ انکوائری کمیٹی رپورٹ کے بعد کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر اور سی پی او راولپنڈی سمیت 15 افسران کو معطل کیا گیا تھا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481