اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شاعر اشرف یوسفی بھی جہان ابد کو سدھار گئے

Picsart 22 11 02 09 29 16 607
  • اشرف یوسفی بھی جہان ابد کو سدھار گئے

غزل کے مزاج کو سمجھنے والے، بے پناہ اچھے شاعر اشرف یوسفی بھی جہان ابد کو سدھار گئے۔ ان کے بہت سے اشعار زبان زد عام ہیں۔  اللہ پاک غریق رحمت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

اشرف یوسفی کا شمار ان شعرا میں ہوتا تھا جو حقیقتاً ” غزل کے انداز، مزاج اور تاریخی روایت کا مکمل شعور  رکھتے تھے۔  غزل میں مخصوص تاریخی عوامل کے  باعث  استعمال ہونے والے ایک ایک لفظ کے متعدد شیڈز  ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی نشست کا اہتمام بہت مشق و مطالعہ کا متقاضی ہوتا ہے۔  دیکھا گیا ہے کہ لوگوں نے اپنی  عمریں غزل کہتے ہوئے گزار دیں مگر وہ اس تہہ دارانہ  روایت کا استدراک نہیں کر سکے اور محض چونکا دینے والے اشعار پر ہی توجہ مرکوز رکھی۔ ایسے اشعار کی عمر تو ویسے ہی مختصر ہوتی ہے چناں چہ غزل کے بیشتر شعرا اگلے عہد سے پہلے پہلے ہی فراموش کر دیے جاتے ہیں”۔
(رحمان حفیظ)

اشرف یوسفی کے یہ اشعار آپ کی بصارتوں کی نذر ہیں

دیے کی آنکھ سے جب گفتگو نہیں ہوتی

وہ میری رات کبھی سرخ رو نہیں ہوتی

عشق کے اور ہیں مکان و زماں

عمر اک ثانیے میں پڑتی ہے

عجیب گوشۂ تنہائی میں پڑا ہوا ہوں

تمام لوگ کبھی رابطے میں رہتے تھے

پیڑ کٹتے ہیں تو ہر تنکے پر

آشیانے کا گماں ہوتا ہے

رات بھر سسکیاں لیتا ہے کوئی شخص یہاں

کبھی دیوار سے لگ کر، کبھی دروازے سے

روز اک شہر پر اسرار میں کھو جاتا ہوں

وہی گلیاں، وہی رستے، وہی دروازے سے

بھیگ گئے سب اپنی اپنی یادوں میں

کچھ روتے، کچھ ہنستے ہنستے بھیگ گئے

بھیگ گئے سب خط رکھے الماری میں

اور ان میں سب لکھے وعدے بھیگ گئے

  1. غزل

کیسے کٹا یہ شب کا سفر دیکھنا بھی ہے

بجھتے دیے نے وقت سحر دیکھنا بھی ہے

بے نام چاہتوں کا اثر دیکھنا بھی ہے

شاخ نظر پہ حسن ثمر دیکھنا بھی ہے

اب کے اسے قریب سے چھونا بھی ہے ضرور

پتھر ہے، آئنہ، کہ گہر دیکھنا بھی ہے

یہ شہر چھوڑنا ہے، مگر اس سے پیشتر

اس بے وفا کو ایک نظر دیکھنا بھی ہے

ان آنسوؤں کے ساتھ بصارت ہی بہہ نہ جائے

اتنا نہ رو، اے دیدۂ تر! دیکھنا بھی ہے

ممکن نہیں ہے اس کو لگا تار دیکھنا

رک رک کے اس کو دیکھ، اگر دیکھنا بھی ہے

منظر ہے دل خراش، مگر دل کا کیا کریں

گو دیکھنا نہیں ہے، مگر دیکھنا بھی ہے

اس آس پر کھڑے ہیں کہ اک بار یوسفیؔ

اس نے ذرا پلٹ کے ادھر دیکھنا بھی ہے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481