اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”گریڈ سترہ کا سینیئر شاعر“

e9167890 de51 4206 9fd5 78e3cce60bbb 1

کالم شالم
”گریڈ سترہ کا سینیئر شاعر“

تحریر: شکیل اعوان

سرشار بٹکاڑوی گریڈ سترہ کے افسر بھی اور شاعر بھی۔ مستزاد یہ کہ سینئیر شعراء والے تمام اوصاف بھی موجود۔ اپنے سے جونئیر شاعر کو داد دینے میں کنجوسی میں ڈپلومہ کیا ہوا۔ اپنے نام کے ساتھ سینئر لگانا پیدائشی حق سمجھنا۔ اگر اشتہار میں سہوا بھی سینئر نہ لکھا گیا ہو تو مشاعرے میں نہیں آتے، بلکہ منتظمین مشاعرہ کو گرے لسٹ میں ڈالنے کی دھمکی دے دیتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جیسے پاکستان سے کسی حکم کی بجا آوری کروانی ہو تو آئی ایم ایف گرے لسٹ میں ڈالنے کی دھمکی دیتا ہے اور پاکستان گوڈوں پر ؟

ہمارا ان سے فیس بک پر اپنے کسی شعر کی بہ دولت تعارف ہوا اور پھر وہ ہمارے مستقل قاری بن گئے۔ اکثر ہماری شعری کمزوریوں پر خوب لتاڑتے۔ جو شعر بے عیب ہوتا، کوشش کر کے اس میں بھی اصلاح کا کوئی نکتہ نکال لیتے- کئی بار تو پوری پوری غزل ہی اصلاح کے نام پر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی اور پھر کچھ دنوں بعد تھوڑی سی تبدیلیوں کے ساتھ سنڈے میگزین میں چھپی ہوتی۔۔۔ بس آخر میں نام استاد محترم کا لکھا ہوتا۔

ایک بار فرمانے لگے کہ ان سارے شاگردوں نے ان کے ساتھ شام منانے کا اہتمام کیا سوائے ہمارے۔ سو مرتے کیا نہ کرتے ان کے بے حد اصرار پر ہم نے ان کے ساتھ شام منانے کی ہامی بھر لی۔ بولے، دیکھو میاں! ایک تو پوسٹر پر سنئیر لکھنا نہ بھولنا. دوسرے شاعرِ شام ہونے کے ناطےہماری فرمائش ہے کہ پروگرام میں ڈیڑھ درجن شاعرات کا ہونا لازم ہے۔ شاعر اگر ایک بھی نہ ہوا تو بھی” ککھ “ فرق نہیں پڑے گا۔ ہم تو سراپا ”کنبھ“ گئے کہ ہمارے شہر میں ڈھنگ کا شاعر بہ مشکل میسر ہوتا ہے، شاعرات کہاں سے لائیں گے۔

ہم نے ترپ کا پتہ استعمال کرتے ہوئے عرض کیا کہ ” بڈیو “ کیوں نہ ”بھرجائی صاحبہ“ کی صدارت رکھ لیں؟ ”اکھیاں رتیاں“ کر کے بولے کہ ناہنجارا ہماری بیگم ”صفا کوڑ“ ہے شاعری تو کجا، سالن تک نہیں بناسکتی؟ اب ہم ”سوچی پے گئے“ کہ آخر کریں تو کیا کریں۔ خوش قسمتی سے ہمارے ایک غیر شاعر دوست نے اس سمسیا کا حل بھی نکال لیا۔ اس نے میدا ماما مانسہرہ لاری اڈہ کی خدمات حاصل کیں اور ہماری مشکل آسان ہوگئی۔ ڈیڑھ درجن شی میلز کا ”جگاڑ“ ہوا اور شام شاعر کا انعقاد ہونا قرار پایا۔ ہزار روپے فی خواجہ سرا ریٹ طے ہوا۔

بہ یوم پروگرام، صاحب شام بمعہ اپنے چھ عدد شاگردوں کے ٹویوٹا ہائی ایس سے لاری اڈے اترے اور سوزوکی وین پر ہال پہنچے۔ ہم نے دانستہ سادہ سواگت کیا، حال آنکہ کہ "ٹہول تری” کا بھی بندوبست تھا۔ صدارت میدا ماما کے سپرد تھی۔ شاعر شام کو بھی سٹیج پر مدعو کیا گیا اور وہ نشست بالا پر میدا ماما کے ساتھ براجمان ہو گئے۔ مہمان اعزاز کے طور پر سبز لینزز اور سنہری وگ والی بلقیس لیلی بھی سٹیج پر صاحب شام کی ساتھ والی نشست پر براجمان ہو گئی۔ تلاوت نعت کے بعد ہم نے اعلان فرمایا کہ ہم ناظم مشاعرہ ہونے کے ناطے سب سے پہلے اپنا کلام اور وہ بھی ترنم کے ساتھ سنائیں گے۔ ہال میں لباس نسواں میں ملبوس ڈیڑھ درجن خدرات نے جب اپنے مخصوص انداز میں تالیاں بجائیں تو "ٹہولچی” کے ہاتھ بھی بے قابو ہو گئے۔

جیسے ہی ”ٹہول“ پر ڈنڈا پڑا، صاحب صدارت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ میدان میں کود پڑے اور”درزکٹ“ شروع…ان کی دیکھا دیکھی مہمان اعزاز اور دیگر شاعرات بھی بمعہ گنگھرو میدان کارِزار میں کود پڑیں۔ اب پروگرام مشاعرے کے بجائے ”جندکے دیاں سنتاں “ لگنے لگا۔ کسی ستم ظریف نے دس دس روپے کی گڈیاں بھی ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ مشاعرہ ہال میں موجود چند حاضرین کو مشاعرے کے بجائے مجرے سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل گیا۔ صاحب شام ” ٹاٹرے“ ہوکر ہماری طرف دیکھتے تو ہم یوں نظریں پھیر لیتے جیسے ہم نے دیکھا ہی نہ ہو۔ اب ہماری بھی ”کھری کھرک“ کرنے لگی تھی اور دل گھمسان کے رن میں کودنے کو بے تاب تھا۔ اس سے پہلے کہ صاحب شام ہمارے اور کمبر شریف کے درمیان میں حائل ہوتے ہم نے نعرہ مستانہ بلند کیا اور میدان کار زار میں کود پڑے۔

اب سٹیج پر فقط صاحب شام بیٹھے تھے اور ٹکر ٹکر دیکھ رہے تھے۔ گھنگرؤں کی چھناچھن میں کان پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی کہ اچانک بجلی ایسے گئی جیسے ہمارے حکمران ملک کو لوٹ کر اپنے اپنے اصلی دیسوں کی طرف چپکے سے ہجرت کر جاتے ہیں۔ بہت دیر تک بجلی بیگم کا انتظار کیا گیا لیکن وہ بھی "تبدیلی” کی طرح نہیں آئی۔ آخر تھک ہار کر ہم نے ”بتی نی لوئی لوئی چنے نی لوئی لوئی“ پروگرام کے خاتمے کا اعلان کیا۔

جاتے جاتے گریڈ سترہ کے شاعر نے دھیمی سی آواز میں استفسار کیا کہ وہ ڈیڑھ درجن شاعرات کہاں ہیں جو پروگرام میں مدعو تھیں۔ ہم نے” کھبی اکھ مہیچ “ کر کہا، "بڈیو۔۔۔ نہ چور مکے نہ راتاں”۔

مشاعرہ ہال کے پرسکوت ماحول میں میدا ماما اور بلقیس لیلی کے قہقہے کی بازگشت کافی دیر تک گونجتی رہی ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481