اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہسار کی ترقی کے لیے غیر سیاسی تنظیمیں عملی کام کریں

537c7e68 f011 49c4 b7db 1c78d92ba611 1

کوہسار کی ترقی کے لیے غیر سیاسی تنظیمیں عملی کام کریں۔

اہل کوہسار کی خوش قسمتی ہے کہ کوہسار کو خالق کائنات نے قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے۔ یہاں موسم گرما میں سیاح خوشگوار موسم کی وجہ سے ملک کے کونے کونے سے امڈے چلے آتے ہیں اور موسم سرما میں برف باری سے لطف اندوز ہونے اور قدرت کا کرشمہ دیکھنے کوہسار کا رخ کرتے ہیں۔ حکومتوں کی نا اہلی ہے کہ بلڈنگ بائی لاز کی صریحا خلاف ورزی کرتے ہوئے اہل جاہ و حشم نے کوہسار کے قدرتی حسن کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ سیاحت سے جو آمدن ہوتی ہے اس سے چھوٹے سے کمرشل علاقے میں کوئی کام ہو تو ہو لیکن دیہی علاقوں کو ہمیشہ یکسر نظر انداز کیا گیا۔

سہولیات کے فقدان کی وجہ سے دیہی آبادی کی اکثریت بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کر گئی۔ سیاسی نمائندگان نے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے ذاتی، خاندانی اور گروہی مفادات کے تحفظ کو ترجیح بنایا۔ نتیجتاً علاقہ پسماندگی کی دلدل میں دھنس گیا۔

مری ڈویلپمنٹ فورم، ہمکار فاؤنڈیشن اور رفاہ ڈویلپمنٹ فورم نے ہمارے سامنے غیر سیاسی تنظیموں کے ذریعے ترقیاتی کاموں کی ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے ان کے منصوبوں کو پورے کوہسار میں عام کیا جائے۔

جہاں جہاں ضرورت ہو وہاں کم سے کم بنیادی ضرورتوں کی فراہمی سے کام شروع کیا جائے۔ ماہانہ ہیلتھ کیمپ لگائے جائیں۔ شعور بیدار کرنے کے لیے اجلاس، سیمینار اور ورکشاپوں کی اشد ضرورت ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی سکالرشپ کے حوالے سے دور دراز دیہات میں بسنے والے طلبا کو بھی آگہی دی جائے۔ میٹرک تک یتیم اور مستحق بچوں کے لیے مفت تعلیم کا بندو بست ہو۔ ماحولیات کے حوالے سے سکولوں کالجوں میں پروگرام رکھے جائیں جن میں ماحولیات اور جنگلات کے محکموں کو بھی شامل کیا جائے۔ تاکہ شجر کاری اور خصوصا باغبانی کو فروغ دیا جا سکے۔ جنگلات کے تحفظ اور ان میں اضافے کے لیے عام لوگوں کو فعال کیا جائے۔ خواتین کے لیے مفت ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز قائم کیے جائیں۔

وفود کی صورت میں محکمہ تعلیم کے ذمہ داران سے مل کر سرکاری سکولوں کے مسائل کے حل کی راہ ہموار کی جائے۔ کئی سکول زلزلے کے بعد ابھی تک تعمیر نو کے منتظر ہیں۔ کچھ سکولوں میں جزوی مرمت کی ضرورت ہے۔ اکثر سکولوں میں سٹاف کی تعداد پوری نہیں ہے۔ پینے کا صاف پانی اکثر سکولوں میں دستیاب نہیں نیز واش روم کی سہولت بھی سارے سکولوں میں ناگزیر ہے۔ سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے ٹیچرز ٹریننگ کا اہتمام بھی ضروری ہے۔

ایم ڈی ایف نے ون ون ٹو ٹو کے اشتراک سے حال ہی میں قدرتی آفات کے حوالے سے ایک ٹریننگ کا اہتمام کیا تھا۔ اس کا اہتمام کوہسار کے ہر علاقے میں کیا جائے۔

بارش کا پانی ندی نالوں کے ذریعے دریا میں ضم ہو کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اس پانی کو محفوظ کر کے اسے زراعت کے لیے کام میں لانے کی ضرورت ہے۔

سکولوں میں بزمِ ادب کا احیاء ضروری ہے۔ اس سے طلبا کی خوابیدہ صلاحیتیں اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی اور ان میں تخلیقیت اور خود اعتمادی بھی پیدا ہو گی۔ نیز نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی سہولتوں کی دستیابی بھی کرنے کا کام ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481