گلیات میں ٹمبر مافیا کی مجرمانہ دلیری
یہ شعور عام کرنے کی بہت ضرورت ہے کہ جنگلات کی کٹائی کے نقصانات مقامی نہیں بلکہ عالمی ہوتے ہیں۔ سکولوں کالجوں میں بچوں کو ماحولیات کا مضمون پڑھانا چاہیے کہ جنگلات کی تباہی کے نقصانات کتنے گھمبیر ہیں۔
جنگلات آکسیجن کی فراہمی، ماحول کی صفائی، مٹی کا کٹاؤ روکنے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کی افزائش اور پودوں اور جانوروں دونوں کے حیاتیاتی تنوع کے ضامن ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں نہ صرف عام لوگوں کو جنگلات کی تباہی کے نقصانات کا ادراک نہیں بلکہ ذمہ دار محکمے بھی اپنے فرائض منصبی سے مجرمانہ غفلت برتتے ہیں۔ آئے روز کوہسار میں درختوں کی کٹائی، کنکریٹ کے پہاڑ کھڑے کرنے کے لیے کنالوں پر پھیلے جنگل کی تباہی اور آتش زدگی کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔
نمائندہ خصوصی کوہسار نیوز کے مطابق چھانگلہ گلی، بٹناڑہ بیٹ (کینٹ ایریا) میں رات کے اندھیرے میں بیش قیمت بیاڑ کے متعدد درخت کاٹ کر غائب کردیے گئے۔ جن کے تنے لف کی گئی تصاویر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ درخت کینٹ ایریا کے ایک پلاٹ میں ایستادہ تھے۔ یقینا محکمہ جنگلات کے افسروں کو اعتماد میں لے کر رات کی تاریکی میں نامعلوم افراد نے آزادی اور سکون سے چار بڑے اور چھ سے زاید چھوٹے درخت صفحہ ہستی سے مٹائے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے سینئیر افسران کا فرض ہے کہ وہ اس وقوعے کی مکمل تحقیقات کر کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔
