اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اکادمی ادبیات پاکستان میں ادب اطفال کانفرنس کی افتتاحی تقریب آج

اکادمی ادبیات پاکستان میں ادب اطفال کانفرنس کی افتتاحی تقریبPicsart 22 10 31 21 03 20 241FB IMG 1666175054995

 

آج اکتیس اکتوبر 2022 کو بچوں کے ادب کی تین روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ مہمان خصوصی انجینئر امیر مقام اور جناب عرفان صدیقی تھے۔ جب کہ جناب محمود شام اور امجد اسلام امجد نے تفصیلی گفتگو کی۔ تقریب کی نظامت جناب قاسم یعقوب نے کی۔

خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر یوسف خشک نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اس کانفرنس کے انعقاد سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ حکومت ادب اطفال کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ قومی ترقی اور بچوں کی تربیت و کردار سازی لازم و ملزوم ہیں ۔ تمام ترقی یافتہ اقوام نے نئی نسل کی بہترین تربیت کر کے قومی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔

ڈاکٹر خشک نے کہا کہ ادب بچوں کی کردار سازی کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ساتھ ان کے انسلاک کا بھی ذریعہ ہے۔ شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال بالغوں کے ہی نہیں بچوں کے بھی بڑے شاعر تھے۔ آج ہمارے نئی نسلیں صرف ان کی ایک دعا "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” کا عملی نمونہ بن جائیں تو وہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر خشک نے یاد دلایا کہ کبھی تعلیمی اداروں میں بزم ادب کا سلسلہ عام تھا۔ اب یہ روایت بد قسمتی سے دم توڑ چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کا بھرپور احیاء ہو۔ کیونکہ بزم ادب بچوں کو ادب کے ساتھ وابستہ کرتی ہے یوں بچے تخلیق ادب کی طرف آتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ بچوں کے ادب نے بڑے ادیب پیدا کیے۔

چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے کہا کہ بچوں کے ادب کے حوالے سے ہونے والی یہ سہہ روزہ کانفرنس پاکستان میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کانفرنس ہے۔ اس میں بچوں کے لیے بھی کچھ سیشن رکھے گئے ہیں۔ تاکہ وہ خاموش سامع کے بجائے فعال کردار ادا کریں۔ ایک سیشن بچوں کے اہل علم و ادب کے ساتھ مکالمے پر بھی مشتمل ہے۔

محمود شام صاحب نے کہا کہ بچے من کے سچے ہوتے ہیں۔ یہ جھوٹ نہیں بولتے اور منافقت نہیں کرتے۔ یہ اکیسویں صدی کی نسل ہے جو چیزوں کو منطقی حوالوں سے دیکھتی ہے اس لیے میں ان سے مایوس نہیں ہوں
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔

انھوں نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ بڑا میڈیا بچوں کی اور بچوں کے ادب کی پذیرائی و حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ پہلے بچوں کے بہت میگزین چھپتے تھے اور تقریبا سارے ہی بچے پڑھنے کا شوق رکھتے تھے لیکن اب ایک تو میگزین اکثر بند ہو گئے ہیں اور بچوں میں پڑھنے کا رجحان بھی نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں بڑی کمپنیاں بچوں کے رسالوں کو مہنگے اشتہار دیتی ہیں تاکہ نئی نسلوں کی کردار سازی کا یہ سلسلہ جاری رہے۔ ہمارے ہاں کاروباری شخصیات کو یہ بات سمجھانے کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں بھی اس روایت کو عام کر کے بہت بڑی قومی خدمت سر انجام دے سکتے ہیں ۔

انھوں نے اس جانب بھی توجہ مبذول کروائی کہ چھپی ہوئی کتاب کی اشاعت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل لائبریریوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال ہونا چاہیے ۔ بچوں کے ادبی رسالوں کی حکومت کو سرپرستی کرنی چاہیے اور تمام لائبریریوں کو پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ یہ رسالے خریدیں۔

جناب محمود شام نے تجویز پیش کی کہ کسطرح بڑوں کا معیاری ادب تخلیق کرنے والوں کو سالانہ ایوارڈز دیے جاتے ہیں اس طرح بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنے والوں کے لیے بھی الگ سے ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

جناب امجد اسلام امجد نے کہا کہ بچوں کے ادب کے لیے سعی و جہد ہر شاعر ادیب کا فرض ہے۔ بچہ آزاد ہو کر چیزوں کو دیکھتا اور سوچتا ہے اس طرح نئی راہیں کھلتی ہیں ویسے بھی فینٹسی بہت بڑی قوت ہے۔

انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بچوں کے لیے بہت سے رسالے چھپتے تھے لیکن نہ تو بچوں کے لیے لکھنے والے ادیبوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور نہ ہی بچوں کے لیے لکھنے والے بچوں کی۔ بچے سوچتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں۔ نئے خیالات پیش کرتے ہیں۔ یوں تخلیقیت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

امجد اسلام امجد نے حاضرین کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ آج کا بچہ چیزوں کے انسلاک کی جو صلاحیت رکھتا ہے وہ پرانی نسل میں نہیں تھی۔ لہذا آج کے بچوں کے ادب کو معروضی صورت حالات میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔

انھوں نے کہا کہ آپ پی ٹی وی کے بارے میں کچھ بھی کہہ لیں لیکن پی ٹی وی پر بچوں کے پروگرام روزانہ کی بنیاد پر پیش ہوتے تھے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سارے چینلز کو پابند کرے کہ وہ بچوں کے معیاری پروگرام روزانہ شام کو پیش کریں۔

جناب امجد اسلام امجد نے کہا کہ بچوں کے لیے اکثر بڑے شاعروں نے لکھا۔ علامہ اقبال نے بھی بچوں کے لیے سنجیدگی سے لکھا لیکن صوفی تبسم نے تسلسل سے اور مکمل توجہ کے ساتھ ایک مشن کے طور پر بچوں کے لیے ادب تخلیق کیا۔

جناب امجد اسلام امجد نے تمام ذمہ داران کے سامنے یہ نکتہ رکھا کہ بچوں میں تخلیقیت کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے کہ بچوں کو پرائمری تک اپنی مادری زبان میں پڑھائیں۔ انگریزی کی ایک زبان کے طور پر بہت اہمیت ہے۔ لیکن اسے میڈیم آف انسٹرکشن نہیں بنانا چاہیے۔ انگریزی زبان کے طورپر سیکھنا اور اس میں موجود علم سے استفادہ کرنا ضروری ہے لیکن اپنی زبانوں کو حقیر سمجھنا کسی طور جائز نہیں دیتا۔

انھوں نے لکھنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچپن کے بارے میں لکھنے کے بجائے آج کے بچے کے بچپن کے بارے میں لکھیں۔ اس کانفرنس میں پورے پاکستان سے ادیب شامل ہیں۔ سارے ادیب اپنے اپنے علاقوں میں تنظیمیں بنا کر کام کریں اور اس سارے کام اور تجاویز کو مجتمع کر کے بچوں کے ادب کے فروغ کے حوالے سے قومی سطح پر کام کیا جائے۔

محترمہ فارینہ ظفر نے کہا کہ بچوں کا ادب نئی نسل کی شخصیت سازی میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچے کسی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اس لیے نونہالان قوم کی تربیت پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔

جناب عرفان صدیقی نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ بچوں کا ادب تخلیق نہیں ہو رہا یا وسائل مہیا نہیں ہو رہے یا ایوارڈز کا سلسلہ شروع نہیں ہوا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس بچے کے لیے یہ ادب تخلیق ہوتا ہے وہ میڈیا کی چکاچوند میں کہیں کھو گیا ہے۔ ادب کی تخلیق، رسائل کی اشاعت اور ایوارڈز کے اجراء کے ساتھ ساتھ ادب پڑھنے والے بچوں کی تلاش بہت ضروری ہے۔ ہمیں سوچنا ہو گا اور سنجیدگی سے شسوچنا ہو گا کہ ہر شہر میں آنہ لائبریری ہوتی تھی وی کیوں عنقا ہو گئیں۔ بڑی لائبریریاں جو موجود ہیں وہ سونی پڑی ہیں۔ قارئین کہیں کھو گئے ہیں۔ مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ادب تخلیق کر کے لائبریریوں میں رکھ دینے سے مسئلہ قطعاً حل نہیں ہو گا۔

جناب امیر مقام نے کہا کہ فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں موجود بچوں کو دیکھ کر انھیں اپنا بچپن یاد آ گیا۔ انھوں نے اس کانفرنس کے انعقاد کو ممکن بنانے والے ہر فرد کو خراج تحسین پیش کیا ۔

انھوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں پورے پاکستان سے نابغہ روزگار شخصیات شامل ہیں۔ وہ ادب اطفال کے فروغ کے حوالے سے اپنی تجاویز ضرور پیش کریں تاکہ سفارشات تیار کر کے وزیراعظم کو پیش کی جائیں۔ انھوں نے یقین دلایا کہ کسی بھی قابل عمل منصوبہ کی منظوری اور فنڈز کے اجراء میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔

بچے کسی ملک کی عمارت کی بنیاد ہوتے ہیں اور بنیاد کا کجی سے پاک اور مستحکم ہونا ضروری ہے۔ بچوں کو سچا اور منافقت سے پاک فرد بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے بچوں کی تربیت اور کردار سازی پر بھرپور توجہ دی اور بدلتے وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر نئی نسلوں کی شخصیت سازی کی اس لیے وہ ترقی و کامیابی کے زینے طے کر رہے ہیں۔

جناب امیر مقام نے سب سے درخواست کی کہ سیاست دان کی حیثیت سے، استاد کے طور پر اور والدین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے نئی نسل کی ایسی تربیت کریں کہ وہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کریں۔

انھوں نے اعلان کیا کہ ان شاءاللہ یہ کانفرنس اب ہر سال ہو گی۔ بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے جو اقدامات کرنے ہوں ان کی سفارشات تیار کر لیں ، منظوری ہو جائے گی ادب اطفال تخلیق کرنے واے ادیبوں کے لیے الگ سے ایوارڈ کی بھی منظوری ہو جائے گی۔ نیز اس کے ساتھ اعلی درجے کا بچوں کا ادب تخلیق کرنے والے دو بچوں کو بھی ایوارڈز دیے جائیں گے۔

تقریب کے اختتام پر پر تکلف چائے کا بھی اہتمام کیا گیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481