اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

چھج تے پرون

IMG 20221031 115619 462

چھج تے پرون

تحریر: ممتاز غزنی

ایک وقت تھا کہ ہماری دیہی لوک رہتل (ثقافت) میں چھج ہر گھر کی ضرورت میں شامل تھا۔ دور دراز دیہات میں، جہاں زراعت کو کلی طور پر ترک نہیں کیا گیا، شاید اب بھی کچھ گھروں میں چھج موجود ہو۔ باریک تیلیوں اور نڑی (دیسی بانس) سے بننے والا چھج چاول، گندم، مکئی وغیرہ سے بھوسہ، چھلکے، تنکے علاحدہ کرنے اور اناج صاف کرنے کے کام آتا تھا۔ عورتیں کنک (گندم)، مک (مکئی) اور تہائیں (چاول) صاف کرنے کے لیے چھج میں ڈال کر غلے کو اوپر اچھالتی تھیں اور پھر دائیں بائیں رولتیں۔ اس سے اناج میں موجود مٹی کی باریک روڑیاں الگ ہو جاتیں، جنھیں وہ آہستگی سے الگ کر دیتیں۔ اناج کو اوپر اچھالنے سے تنکے اور چھلکے اڑ کر باہر نکل جاتے تھے۔ اچھے وقتوں میں شادی بیاہ سے کچھ دن پیشتر گاؤں کی خواتین مل کر چاول چھٹتی تھیں۔IMG 20221031 115619 462

پرون کو چھلنی بھی کہتے ہیں۔ پرانے زمانے میں اکثر گھروں میں یہ خود بنایا جاتا تھا۔ کسی پرانی تھالی میں کیل سے سوراخ کر کے پرون تیار کیا جاتا تھا۔ اناج کیوں کہ جندر سے پسوایا جاتا تھا اس لیے یہ زیادہ باریک نہیں ہوتا تھا۔ روٹی پکانے سے پہلے آٹا چھان لیا جاتا تھا۔ کیوں کہ جانور ہر گھر میں موجود ہوتے تھے اس لیے آٹے سے نکلنے والا چوکر دودھ دینے والے جانوروں کی کھل میں شامل کر دیا جاتا تھا۔

پہاڑی کی مشہور کہاوت ہے، ۔۔۔

"چھج کیہہ پرونے ای میہنہ دیسی”

یعنی چھاج کیا چھلنی کو طعنہ دے گا۔۔ یعنی ایک ہی طرح کی صفات کے حامل انسان ایک دوسرے کو کیا برا بھلا کہیں گے۔

"چھاج تو بولے، چھلنی کیا بولے

جس میں سو سو چھید”

 

اب کیونکہ لوگ ماڈرن ہو گئے ہیں اور میڈیا پر چلنے والی اشتہاری مہموں نے انھیں باور کروا دیا ہے کہ پیکنگ میں ملنے والی مصنوعات حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہیں جب کہ گھریلو طور پر دستیاب اشیائے خور و نوش صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اور پھر ہم بلا کے تن آسان بھی ہیں۔ آٹا جب بازار سے تھیلے میں مل جاتا ہے تو کاشتکاری کی مصیبت کون مول لے۔ چاول اب ان گنت اقسام کا دکانوں پر دستیاب ہے۔ شادی بیاہ شادی ہال میں ہوتے ہیں اور کھانا مہیا کرنا کیٹرنگ والوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اب خواتین کا شادی بیاہ کے دنوں میں باہم مل کر بیٹھنا، چاول چھٹنا اور نکی سکی بیان کرنا قصہ پارینہ ہوا۔

 

  • کتاب:  بچپن لوٹا دو cd7872a9 b452 4000 a9a9 56fe5504f1e5


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481