راولپنڈی کے تھانہ ائیر پورٹ کی حدود میں چند روز پہلے قتل ہونے والے مری کے نوجوان نعمان عباسی کے والد گل فراز عباسی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔
واضح رہے کہ 28 سالہ نعمان عباسی اور ان کے والد گلفراز عباسی کو 20 اکتوبر کو ایئرپورٹ تھانے کی حدود میں اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ عدالت میں پیشی کے بعد گھر واپس جا رہے تھے ۔
نعمان عباسی موقع پر جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ ان کے والد گلفراز عباسی شدید زخمی حالت میں راولپنڈی کے سرکاری ہسپتال میں داخل تھے ۔ جہاں گزشتہ روز ٹانگ کے آپریشن کے بعد ان کی حالت بہتر تھی تاہم اہل خانہ کے مطابق اچانک سانس اکھڑنے کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی اور مبینہ طور پر بروقت طبی امداد بھی نہیں مل سکی۔
واضح رہے کہ گلفراز عباسی اپنے بیٹے کے قتل کے عینی شاہد تھے اور انہوں نے قتل کے مقدمے میں چار افراد کو نامزد کر رکھا تھا تاہم حیرت انگیز طور پر نہ تو متعلقہ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے اب تک کسی قسم کی سرگرمی دکھائی اور نہ ہی زخمی مدعی گلفراز عباسی کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے دوسری بار اسپتال آنے کی زحمت کی۔ مقتول گل فراز عباسی کے بیٹے اور مقتول نعمان عباسی کے بھائی اسلام عباسی نے بتایا کہ پولیس ملزمان کی گرفتاری میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے اور مدعی پارٹی کے اطمینان کے لیے بھی کسی قسم کی سرگرمی اب تک نہیں دکھائی گئی۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ پولیس نے رشوت کے عوض ملزم پارٹی کے ساتھ سازباز کر لی ہے۔
مقتول گلفراز عباسی کو اتوار کے روز پنڈوڑیاں اسلام آباد میں اپنے جواں سال مقتول بیٹے کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ جبکہ دس دن کے اندر ایک گھر سے دو جنازے اٹھنے پر پورا علاقہ سوگوار ہے۔
مقتول خاندان کا تعلق مری یوسی گہل کے علاقے پنہتی سے ہے۔ مظلوم خاندان کے افراد نے وزیر اعلٰی اور آئی جی پنجاب ، سی پی او راولپنڈی اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور دہرے قتل میں ملوث سفاک ملزمان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے بصورت دیگر وہ اہل علاقہ کے ساتھ مل کر ایکسپریس وے پر احتجاج کریں گے۔
