اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ضلع مری … پڑھنہ یا لوٹر ٹوپہ ( غیر جانبدار تجزیہ )

28fcb8c6 eb22 41ac 9914 693b2547e45c

کوہسار کے لغوی معنی ” پہاڑوں کا سلسلہ” کے ہیں لہٰذا ضلع مری کو ضلع کوہسار اِس لیے بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ پہاڑوں کا یہ سِلسِلہ جنوب مشرق میں جہلم ، شمال مشرق میں کشمیر اور پھر شمال مغرب میں کوہ ہمالیہ تک پھیلا ہوا ہے۔ کسی بھی شہر کے پھیلنے کی وجوہات میں بُنیادی وجہ وہاں کی آبادی کا زیادہ ہو جانا ہے ۔ دس سال پہلے تک تحصیل مری کی پندرہ یونین کونسلوں کی آبادی قریباً اڑھائی لاکھ تک تھی لیکن ان دس سالوں میں تعمیراتی انتہاء پسندی ، گیس کی سہولت اور تعلیمی سہولتوں میں قدرے بہتری کے باعث یہ سوا تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور اگر اُن لوگوں کو بھی شمار کر لیا جائے جو گزشتہ مردم شماری کے بعد مری چھوڑ کر دوسرے شہروں میں آباد ہو چکے ہیں تو یہ آبادی پونے چار لاکھ کو چھُو رہی ہے۔ 1980ء کے بعد سرکاری سرپرستی میں ” تعمیرات بالجبر” اور تجاوزات نے "بِنتِ ہمالہ ” مری کے حُسن کو تار تار کر کے پہلے اسے ” ملکہ کو ہسار” بنایا اور رہی سہی کسر سیاست دانوں نے پوری کر دی۔ نواز شریف کے دورِحکومت میں جب مری کو گرمائی دارالحکومت کا درجہ ملا تو تجاوزات یعنی "بنت ہمالہ کے حُسن کے لٹنے کا آغاز ہوا ۔ پیپلز پیپلز پارٹی کے سپیکر یوسف رضا گیلانی نے بغیر نقشے کے پہلا ہوٹل بنوایا ۔ یوں "بِنتِ ہمالہ” لُٹتے لُٹتے اپنا سارا قدرتی حسن کھو کر ” ملکہ کوہسار” بن بیٹھی ۔ گویا پارلیمنٹ کے آباد کاروں اور ان کے اتحادیوں نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر مری کو ” بازارِ حسن” بنا کر رکھ دیا جسے ہر کسی نے اپنی اپنی طاقت کے مطابق لُوٹا ، نوچا اور بولی لگائی ۔ یہی” ملکہ کوہسار ” جب پی ٹی آئی والے تماش بینوں کے ہاتھ چڑھی تو انہوں نے نقشے منظور ہونے سے پہلےہی اسے ریت ، سیمنٹ اور بجری کی دیواروں میں چنوا کر رکھ دیا ہے۔ اس وقت اکثر تجاوزات کے مالکان میں نون لیگ کے شاہسواروں کے نام آتے ہیں۔
ُقدرتی حُسن کے دیوانے جو پورے پاکستان سے آ کر مری میں سکون اور راحت محسوس کرتے تھے ، اب انہیں یہی حُسن ، سکون اور راحت، ناران ، سوات اور آزاد کشمیر میں کم نرخوں اور عِزّت کے ساتھ دستیاب ہے۔ مری کے ہوٹل ایجنٹ اور قبضہ مافیا نے اہل مری کی وضع داری ، میزبانی اور سادگی کو جس طرح رسوائی کے تخت پر سولی چڑھایا ہے اُس سے” بِنتِ ہمالہ کی تہذیب و ثقافت منہ چھُپاتی پھر رہی ہے۔ اب مری کے دیوانے یہاں سے تنگ آکر شہر کی حدود سے باہر نکل رہے ہیں۔ لہٰذا لوٹر ٹوپہ کے قریب معیاری ریستورانوں کا ایک شہر آباد ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کے لوگ صرف کافی پینے اور رات کا کھانا کھانے کے لیے لوئر ٹوپہ کا رُخ کرتے ہیں ۔ ” گلوریا جین” اور ” میکڈونلڈ ” کی شاندار کافی ہو یا ” پیمنٹو ” اور ” شیراز سے پر لطف نظاروں کے ہمراہ لذیذ کھانے ، یہ اہل ثروت کو اب مری مال روڈ یا بھوربن سے زیادہ بھاتے ہیں۔ یہی لوئر ٹوپہ ،کشمیر اور پنجاب کو ملانے والا مرکزی شاہراتی مقام ہے جہاں آئندہ پانچ سالوں میں ایک نیا مال روڈ بلکہ نیا شہر آباد ہو جائے گا ۔ زمینیں فروخت ہو چکی ہیں ، پہاڑوں کی کھُدائی اور درختوں کی کٹائی سے یہاں کا قدرتی حُسن بھی لٹنا شروع ہو چکا ہے۔ گویا یہاں بھی ایک اور "بِنتِ ہمالہ” کی عزت بلوغت سے پہلے ہی تار تار ہورہی ہے ۔ کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ میدانی علاقوں کے دولت مند یہاں کی زمینیں خرید کر مقامی لوگوں کو زمینی حقوق سے محروم کر رہے ہیں اور مقامی لوگ اہلِ فلسطین کی طرح اپنی زمینیں بیچ رہے ہیں۔ دولت کی اس دوڑ میں پاک فضائیہ نے اپنی اہم ترین زمین ایک یہودی تجارتی کمپنی” میکڈونلڈ ” کو کرائے پر دے دی ہے ۔

شاہراہ کشمیر اور ایکسپریس وے پر یہی وہ تجارتی مرکز ہے جہاں شاہراہِ سیاحت” (Tourist Highway) کا مری سے کوٹلی ستیاں تک کشادگی اور تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے اور یہ پی ٹی آئی حکومت کا وہ تاریخی کارنامہ ہےجو نہ صرف ضلع مری کے لوئر بیلٹ یعنی زیریں آبادیوں کی سماجی ، تعلیمی، طِبّی اور سفری محرومیوں کو دُور کرے گا بلکہ اُن کی تجارتی زندگیوں میں بھی انقلاب لے آئے گا۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں جو تعلیمی یاطِبّی اور سفری سہولتیں مری کو میسّر تھیں وہ آج کو ٹلی ستیاں کو دستیاب ہیں یعنی کوٹلی ستیاں کا معیار زندگی مری سے نصف صدی پیچھے ہے۔ پچاس سال پہلے جو لوگ مری سے کراچی ، اسلام آباد، اور یورپ و امریکہ وغیرہ چلے گئے اُن کا معیار زندگی بلند اور رویّے ماحول کی وجہ سے مہذب ہوگئے ۔ اسی طرح کوٹلی ستیاں سے اسلام آباد، کراچی اور بیرون ملک جانے والوں نے بھی بہتر تعلیمی ماحول کی وجہ سے زندگی کے اِن ارتقائی فاصلوں کو اہل مری کے مقابلے میں جلد طے کر کے اپنے معیار زندگی کو بہتر اور رویّوں کو معیاری بنا لیا۔ لیکن حکومتی سطح پر سٹرکیں ، تعلیمی و سر کاری ادارے اور ہسپتال وغیرہ کی سہولتیں غیر مناسب ہونے کے باعث کو ٹلی ستیاں مجموعی طور پر آج بھی چار دہائیاں پیچھے ہے ۔ میں نے آج سے چالیس سال پہلے اسی سرزمین پر ایسی ضعیف خاتون کو دیکھا تھا جو اپنے گاؤں سے باہر بھی سڑک دُور ہونے کے باعث نہ جاسکی لہٰذا اس نے گاڑی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ کچی سڑک بننے پر جب پہلی بار جیپ ٹرالی وہاں پہنچی تو یہ خاتون اُسے کوئی جانور سمجھ کر چارے کے طور پر گھاس دینے پہنچ گئی اور پہلی بار ہیلی کاپٹر دیکھ کر کہنے لگی” اللّٰہ نے ہمارے اعمال سے ناراض ہو کر فرشتہ بھیجا ہے”۔ چونکہ وطن عزیز کی آبادی گزشتہ مردم شماری کی نسبت آج بائیسں کے بجائے در حقیقت پچیس کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے لہٰذا ہر تحصیل کی آبادی میں بھی ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ کا اضافہ فی تحصیل ہو چکا ہے اور جو لوگ روزگار و تعلیم کے لیے دوسرے ضلعوں یا بیرون ملک آباد ہو چکے ہیں ان کی تعداد اضافی ہے لہٰذا انتظامی امور میں بہتری اور آسانی کے لیے بڑی آبادی والی تحصیلوں کے الگ ضلعے بنانے کی ضرورت ہے ۔ گزشتہ مردم شماری ( 2017 ء ) کے مطابق گوجرخان(7،50،128) مری (2,33000) ٹیکسلا (6,78000) کلر سیداں (2،17،000) کہوٹہ ( 2,44000) اور کوٹلی ستیاں کی آبادی (1,25،000) افراد پر مشتمل ہے۔ قانون کے مطابق عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے لیے ہر دس سال بعد مردم شماری ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ ادوار میں دو طویل وقفے بھی آ چُکے ہیں۔
عسکری، کاروباری اور سیاسی اعتبار سے کوٹلی ستیاں کی سرزمین یقیناً ایک زرخیز خطہ ہے لیکن مجھے جن متحرک افراد نے اس خطے کی آواز بنایا ہے اُن میں جناب رسالت چشتی ، راجہ آصف محمود ستی ، جناب ظفر سعیدستی اور جناب فیصل احمد ستی جیسے متحرک اور دردِ دل رکھنے والے افراد قابل ذِکر ہیں۔ میں نے ان کو ہر دم اپنے شعبے اور علاقے کی ترقی کے لیے دن رات محنت کرتے دیکھا ہے ۔ جناب فیصل احمد ستی اور جناب ظفر سعید ستی تو رات گئے سے فجر تک بھی مجھے جاگتے اور کام کرتے ہوئے ملے ہیں۔ خصوصاً جناب ظفر سعید ستی نے تو اپنی مِٹّی کا بیٹا ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ علاقے کی بہتری اور عوام کو بہترین سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے سڑک کے لیے ایک کروڑ روپے کے فنڈ کی منظوری کروائی ۔ جناب فیصل ستی روزنامہ” آوازِ خلق” اور جناب ظفر سعیدستی درجن بھر اخبارات میں پورے ضلع راولپنڈی کے مسائل کو ملک بھر میں اُجاگر کر رہے ہیں۔
یکساں سیاسی اور مذہبی ولسانی وابستگیوں کے باوجود آج اہلِ مری اور اہلِ کوٹلی ستیاں کے درمیان ضلع مری کے مرکزی دفاتر کے مقام کے تعین پر تحفظات کی خلیج حائل ہو چُکی ہے۔ حکومتی اداروں اور اہل کو ٹلی ستیاں کا موقف ہے کہ ضلع مری کے مرکزی دفاتر کوٹلی ستیاں اور مری کے سنگم پتریاٹہ کے قریب پڑھِنّہ کے مقام پر بنائے جائیں تا کہ مرکز تک پہنچنے کے لیے دونوں تحصیلوں کے رہنے والوں کو برابر فاصلہ طے کرنا پڑے۔ جبکہ اہلِ مری کا مؤقف ہے کہ جی ٹی روڈ پر آباد لوگوں کو پڑھِنّہ کی نسبت راولپنڈی زیادہ قریب پڑتا ہے اور برفباری میں لوئرٹوپہ سے پڑھِنّہ کا راستہ زیادہ دُشوار گُزار ہو جاتا ہے۔ لوگ پیدل چل کر کیسے پہنچیں گے ؟ ان باتوں کا جواب جناب ظفر سعید ستی نے یہ دیا کہ ہمارے آباء و اجداد بھی ایک صدی پہلے سے اپنی پنشن لینے اور دفتری کاموں کے لیے برفباری میں پیدل مری آتے رہے ہیں لیکن شاہراہِ سیاحت پر اہل مری کو پڑھِنّہ پہنچنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ ضلعی دفاتر اگر لوئر ٹوپہ میں بنتے ہیں تو اہلِ مری اور یہاں کے کا روباری طبقے کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ کیونکہ لوئر ٹوپہ کا علاقہ دفاتر، ہوٹلوں، مارکیٹوں اور امراء کے گھروں کے مرکز کے باعث قدیم مری کی طرح ” راجہ بازار” بن جائے گا۔
اگر ہم ایک قوم کی حیثیت سے سوچیں تو ہمیں سو سالہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیراتی پروگرام بنانا ہوں گے اور قومی منصوبہ بندی کا تقاضا یہ ہے کہ ضلع مری کی تعمیرات کو شہری حدود سے دُور دُور رکھا جائے ۔ ایسا کرنے سے نہ صرف حکومت کشادہ سڑکیں تعمیر کرنے پر مجبور ہوگی بلکہ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں بھی اضافہ ہوگا ، قدیم مری کی طرح ہم ایک نیا "راجہ بازار” بنانے کے بجائے قدرتی مناظر قائم رکھتے ہوئے ایک کشادہ اور صاف ستھرا شہر آباد کرکے مری کا بوجھ کم کیوں نہ کریں ؟
پڑھِنّہ یا کوٹلی ستیاں کی حدود میں کہیں بھی ضلعی دفاتر کا قیام در اصل اہلِ مری اور اہلِ کوٹلی ستیاں دونوں کی اکثریت کے لیے بہتر ہے کیونکہ ضلعی دفاتر کے تمام مرکزی محکموں کے لیے(3500) ساڑھے تین ہزار ملازمین کی تعیناتی کے سرکاری اعلانات سے ظاہر ہے کہ اُن کی آبادکاری اور دفاتر میں آمد و رفت کی بہتات کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی بہتات ہو گی جبکہ مری میں پانچ ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش نہیں ہے ۔ لوگ مری کے ہوٹلوں میں قیام کر کے ضلعی دفاتر کا رُخ کریں گے ۔ سیزن کے نو مہینوں میں پہلے ہی اہلِ مری کی زندگی عذاب سے کم نہیں ہوتی. اکثر ٹریفک بند ، پانی ختم ، غیر معیاری کھانا، روز مرّہ اشیاء مہنگی – مال روڈ پر آئے روز ہوٹل اور ایجنٹ مافیا کے جھگڑے ، دوسرے شہروں سے آنے والے مخصوص ٹولوں کی بے حیائی اور کس کس عذاب کا ذِکر کیا جائے۔
یہ درُست ہے کہ مری کے ” راجہ بازار” بن جانے سے صرف پانچ فیصد ہوٹل و ریستوران مافیا کو فائدہ ہے. لیکن پچانوے فیصد اہلِ مری کی زندگی اجیرن بنی رہتی ہے۔ اہلِ مری اور خصوصاً یہی پانچ فیصد تاجر طبقہ اِس بار دل بڑا کر کے ذاتی جذبات کی قربانی دیں اور اپنے ستی بھائیوں کے علاقے میں ضلع بنانے میں تعاون کریں تو ان کی صدیوں کی محرومیاں دُور ہونے سے آپ کے لیے انصار و مہاجرین جیسی رواداری و محبت کا اضافہ ہوگا اور کوٹلی ستیاں کی ترقی مری کی سماجی ، تجارتی اور سیاسی و تعلیمی مضبوطی کا باعث بنے گی ۔ ہمارے مسلسل آنے جانے سے تعلقات اور روابط میں اضافہ ہوگا. اگر مری کے ہوٹل مالکان اپنے کاروباری مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ناران کاغان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے ہوٹل بنا سکتے ہیں اور وہاں کی ترقی کا باعث بن سکتے ہیں تو یہی سرمایہ کاری کوٹلی ستیاں کے اہم اور مرکزی دفاتر کے قرب وجوار کے علاوہ سیاحتی مقامات پر کرکے اپنے ستی بھائیوں کے علاقوں کو خوشحال کیوں نہیں بناتے ؟
جِس طرح اہلِ مری کے لئے جی۔ٹی روڈ اور ایکسپریس وے راولپنڈی اور اِسلام آباد تک رسائی کا ذریعہ ہیں بِالکُل اِسی طرح لوئر بیلٹ کے لوگ راولپنڈی پہنچنے کے لئے تین راستے اختیار کرتے ہیں۔
1- بن سے کھنہ پُل راولپنڈی 50 کِلو میٹر۔
2- پڑھِنّہ سے کھنہ پُل ، راولپنڈی، 55 کِلو میٹر۔
3- گُلہڑہ گلی بن سے براستہ کرور آپ راولپنڈی پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن :-
(1)- پُوری تحصیل کوٹلی ستیاں میں آزادی کےپچہتر سالوں بعد بھی آج تک پُرانے مری روڈ جیسی ایک سڑک تک نہیں بنائی گئی۔
(2)- یہاں گُزشتہ ڈیڑھ سو سالوں میں مری کے معیاری تعلیمی اداروں پریزینٹیشن کانونٹ سکول، کانونٹ آف جیزز اینڈ میری ، لارنس کالج ، آرمی پبلک سکول، فضائیہ کیڈٹ کالج ، آرمی کیڈٹ کالج، اور سینٹ ڈینیز گرلز ہائی سکول جیسی ایک بھی درسگاہ قائم نہیں کی جا سکی۔
(3)- تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے علاوہ یہاں کوئی ہسپتال موجود نہیں ہے۔ اور یہاں بھی صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
(4)- پُوری تحصیل میں ایک بھی تفریحی پارک نہیں۔
(5)- کھیل کے میدان لوگوں کے ذاتی کھیت میں آباد ہیں۔
(6)- پینے کے صاف پانی کی سرکاری سہولت پُوری تحصیل میں موجُود نہیں ۔ عوام خال خال موجود قُدرتی چشموں یا مِنرل واٹر سکیم کے محتاج ہیں۔
جہاں تک باہر سے آنے والے افسران کے قیام اور سہولتوں کا تعلق ہے تو وہ اہلِ مری و کوٹلی ستیاں کی خدمت کرنے اور اپنے فرائض نبھانے آرہے ہیں اور وہ ہمارے آقا نہیں ملازم ہیں۔ یہ بھی یادر ہے کہ ضلع مری کے باشندے مہمانوں کی خدمت اور احترام میں کوئی کسر چھوڑ دیں یہ بھی ممکن نہیں ۔ خاکسار تحریک کے بانی حضرت علامہ عنایت اللّٰہ خان مشرقی نے اپنی کتاب” انسانی مسئلہ “ میں فرمایا تھا کہ "قیامت کے قریب لوگ شہروں کی بلند و بالا عمارتوں اور آلودگیوں سے خوفزدہ اور تنگ ہو کر دیہاتوں کواپنی آماجگاہ بنائیں گے”. اس سے پہلے کہ قدرت ہمیں دیہاتوں میں دھکیلنے کا بندوبست کرے کیوں نہ ہم خُود بلند و بالا عمارتوں اور آلودگیوں سے پاک اپنے دیہاتوں کو تعلیمی اور طِبّی ترقی دے کر اپنے لیے نسبتاً محفوظ مقام بنا لیں

تیرے وجود کی نس نس سے آنکھ جھانکے گی
اگر ہے ذوق تماشا نظر کی بات نہ کر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481