Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

علماء، مفکرین اورمسلم سائنسدانوں میں امام احمد رضا منفرد و نمایاں ہیں, مقررین

Imam Ahmad Raza Con. 22 1
بڑی بڑی شخصیات اپنے نام اور کام سے پہچانی جاتی ہیں امام احمد رضا کی شخصیت بالعموم عالم اسلام اور بالخصوص برصغیر میں اپنی ادبی، دینی اور خصوصاً فقہی خدمات کی وجہ سے بہت مشہور ہے، انہوں نے نہایت جامع فتاویٰ دیے جو اہل علم و دانش کی نگاہ میں بہت ہی قدر و منزلت رکھتے ہیں،اعلیٰ حضرت دینی و مذہبی علوم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی و تکینکی علوم و امور پر بھی دسترس رکھتے تھے جیسا کہ فلکیات و ریاضی کے علوم میں درجہ سند رکھتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ادارہ تحقیقاتِ امام احمد رضا کے زیر اہتمام  کراچی کے ایک آڈیٹویم میں ہونے والی” امام احمد رضا کانفرنس 2022“ کے نام اپنے ایک پیغام میں کیا۔
کانفرنس 2022 کی نظامت کے فرائض علامہ مفتی سید زاہد سراج قادری نے ادا کیے،قاری عبدالرافع کی تلاوت قرآن،محمد رضا خان قادری اور محمد نسیم اختر قادری کے ہدیہء نعت کے بعد کانفرنس کا آغاز ہوا۔ کانفرنس کے صدر صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے کہا کہ اعلیٰ حضرت کے پاس ہند و سندھ ہی نہیں دنیا بھر سے سوالات آتے اور وہ ان پر فتاویٰ دے کر عالم اسلام کی رہنمائی کرتے تھے،علماء، مفکرین اورمسلم سائنسدانوں میں امام احمد رضا منفرد و نمایاں ہیں ان کے سائنسی و علمی تدبر کو علامہ اقبال اور ڈاکٹر عبدالقدیر نے بھی خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ممتازسینئر صحافی و کالم نگار جناب محمود شام نے کہا کہ میں ادارہ تحقیقات امام احمد رضا اور آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے امام احمد رضا کی کتب پڑھنے اور کانفرنس میں اظہار خیال کا موقع دیا، میں نےامام احمد رضا کی حدائق بخشش ، سلام رضا     اور سیاسی افکار کا مطالعہ کیا، تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اُن کے ملفوظات اور تصانیف اس عہد کے افکار و نظریات کی خرد افروزی کے لیے بھی کافی ہیں،وہ دینی ہی نہیں سیاسی اُفق اور عشق رسول ﷺ سے بھی مسلمانوں کے ذہنوں کے دروازے کو وا کرتے ہیں،   امام احمد رضا جدید علوم خاص کر سائنسی علوم پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اسی لیے 21ویں صدی کے ممتاز مسلم ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر نے ان کی زندگی کے اس پہلو کو خراج پیش کیا، وہ عظیم شاعر بھی تھے ردیفیں ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھیں، میں ترکی کے شہر کونیہ گیا تو سلجوک یونی ورسٹی کے استاد پروفیسر ڈاکٹر رجب ردگان نے  امام احمد رضا کا گرانقدر تحفہ ”حدائق بخشش“ کا ترکی زبان میں ترجمہ عنایت کیا،جس سےمعلوم ہوا کہ فاضل بریلوی کی شاعری پر ترکی یونی ورسٹی میں بھی کام ہورہا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اعلیٰ حضرت کی نابغہء روزگار شخصیت ایک انجمن اور ایک تحریک تھی، ان کی نعتوں میں عشق رسول ﷺ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے ، عربی فارسی، اردو ہندی زبان میں مختلف فنون پر آپ کی سیکڑوں کتابیں اسلام کی روشنی پھیلانے کا موجب بنیں، ان کی تعلیمات آج بھی روشن چراغ ہیں۔
صدر ادارئہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری نے خطبہء استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم امام احمد رضا کو جدید دنیا کے سامنے جدیدتحقیقی انداز میں پیش کرنے کا کام کر رہے ہیں جس کی بدولت آج عالمی سطح کی یونیورسٹیوں میں امام احمد رضا پر تقریباً 58 اسکالرز Ph.d  کی اعلیٰ اسناد حاصل کر چکے ہیں، وہ علوم دینیہ کے ساتھ علوم سائنس پر بھی دسترس رکھتے تھے حرکت زمین پر ان کی کتاب”فوزمبین“ دیکھ کرعلوم جدیدہ کے ماہرین کی عقلیں دنگ ہیں جس میں 105  قرآن، حدیث،اور سائنسی علوم سے دلائل دے کر حرکت زمین کا رد کیا گیا ہے۔صدرِ ادارہ نے مہمانوں کو شکریہ ادا کیا اور آنے والے اسکالرز میں یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کیں۔کانفرنس کے مہمان خصوصی ممتاز بلڈر حاجی محمد اشرف قادری نے کہا کہ امام احمد رضا نے عشق رسول کی جو شمع روشن کی اور لوگوں کو مقام مصطفیٰ ﷺ کا جو ادارک عطا کیا وہ شاید اس سے پہلے نہیں تھا۔رکن اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے کہا کہ امام احمد رضا نے مسند افتاء کے ساتھ ساتھ مسند ارشاد کو بھی زینت بخشی، آپ نے علوم عقلیہ پر اس انداز سے قلم اُٹھایا، لگتا ہے سارے علوم آپ سے بیعت کیے ہوئے ہیں،پھر بھی ان سب پرآپ کا عشق رسول ﷺ غالب رہتا تھا، آپ کو شیخ اکبر کے اسرار و رموز سے خوب واقفیت تھی جبھی اپنے فتاویٰ میں ان کی کتب سے بھر پور استفادہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ممتاز اینکر پرسن کیو ٹی وی علامہ فیصل بیگ بندگی نے کہا کہ ”فرہنگ ِرضا “ کی تدوین ادارہ کا اہم وبڑا کارنامہ ہے کیوںکہ فاضل بریلوی کے اردو زبان پربڑے احسانات ہیںان کی ادبی تحریریں اُ ن کے محسن دین و ملت ہونے کے ساتھ محسن اردو ہونے کا بھی پتا دیتی ہیں،انہوں نے کہا کہ ادارئہ تحقیقات امام احمد رضا کی کوشش سے اعلیٰ حضرت کی فکر کے پوشیدہ گوشے دنیا کے سامنے آرہے ہیں۔
علامہ حامد سرفراز قادری رضوی نے کہا کہ کوئی کسی کو مجدد یا مجتہد نہیں بنا سکتا، حدیث کی رو سے مجدد اللہ کی طرف سے بن کر آتا ہے، اعلیٰ حضرت کو اللہ نے مجدد بنایا، مجدد کے ساتھ وہ بہت بڑے عاشق رسول اور عظیم فقیہ تھے اور فقیہ ایک نہیں تمام علوم کا مجموعہ ہوتا ہے، آج کے علماء کو اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ رضویہ سے استفادہ کی ضرورت ہے کہ امام جب تحقیق کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو دلائل کی دنیا میں ایسے پھولوں کے انبار لگا دیتے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی، وہ جدید علوم اور
تحقیق کے مخالف نہیں وہ خود ایک بہت بڑے سائنسدان تھے ہاںمگر وہ ہر علم و فن کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھتے تھے۔
ورلڈ اسلامک مشن برطانیہ کے صدر علامہ قمرالزماں اعظمی نے آن خطاب میں کہا کہ امام احمد رضا نے نورِ مصطفی ﷺ کو عام کر کے جہان میں اُجالا کردیا اور یہ نورِ مصطفیٰ دراصل عشق مصطفی ﷺ ہے۔مقبوضہ کشمیر سے ڈاکٹر توصیف احمد وانی نے بھی آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام احمد رضا صرف دینی علوم نہیں اقتصادیات، معاشیات، سیاسیات، اخلاقیات، ریاضیات، تصوف اور سائنس کے جمیع علوم کے ماہر تھے،اعلیٰ حضرت اور ان کے رفقا ءنے تحریک آزدی اور تعمیر پاکستان میں جو کردار ادا کیا وہ ناقابل فراموش ہے،انہوں نے معاشرے سے بدعات کی بیخ کنی میں بھی اہم کردار ادا کیا، ان کی علمی خدمات کو گلوبلی سطح پر ڈاکٹر مجیداللہ قادری ادارے کے ذریعے جس انداز میں پھیلا رہے ہیں وہ لائق تحسین ہے۔کانفرنس میں ملک و بیرون ملک سے آئی ممتاز شخصیات، علماء و مشایخ، پروفیسرز،ڈاکٹرز،وکلاء و اساتذہ، اہل علم و دانش کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481