اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جاگیردار گھرانے کی منفرد شاعرہ ثمینہ راجہ

c532921e e2e9 4a88 9ff5 ba01ae9e2b16

آج مشہور شاعرہ ثمینہ راجا صاحبہ کا یومِ وفات ہے

ثمینہ راجا بہاولپور کے ایک جاگیردار گھرانے میں گیارہ ستمبر انیس سو اکسٹھ کو پیدا ہوئیں۔ چھوٹی عمر میں ہی شعر گوئی شروع کر دی تھی۔ جلد ہی فنون، اوراق، سیپ جیسے معیاری ادبی جرائد میں ایک اہم شاعرہ کے طور پر ان کا کلام شائع ہونے لگا۔

وہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے رسالے ماہنامہ "کتاب” اور معروف ادبی جریدے” آثار” کی مدیر رہیں۔ انھوں نے ایک ادبی جریدہ "مستقبل” بھی شائع کیا تھا۔

ثمینہ راجا مقبول شاعرات میں اس لیے شامل نہ ہو سکیں کہ انھوں نے نسوانی جذبات کی شاعری کے بجائے سنجیدہ مضامین کو شعر میں ڈھالا اور یوں صرف سنجیدہ، شعر فہم اور ادبی ذوق رکھنے والے قارئین تک ہی محدود رہیں۔ وہ اپنے منفرد موضوعات اور خاص اسلوب کی وجہ سے اردو ادب میں اہم اور معتبر مقام رکھتی ہیں۔

ان کے شعری مجموعوں میں ہویدا ، شہر سبا، وصال، خوابنائے، باغ شب، بازدید، ہفت آسمان، پری خانہ، عدن کے راستے پر، دل ِ لیلٰی اور عشق آباد شامل ہیں۔

آپ تیس اکتوبر دو ہزار بارہ کو اسلام آباد میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔

ان کے کچھ اشعار آپ سب کے ذوق مطالعہ کی نذر ہیں۔

ہم تو ہیں آب زر عشق سے لکھے ہوئے حرف
بیش قیمت ہیں،بہت راز میں رکھے ہوئے ہیں

کٹ کے وہ پر تو ہواؤں میں کہیں اڑ بھی گئے
دل یہیں حسرت پرواز میں رکھے ہوئے ہیں

روشن ہے ساری زندگی اس دل کی آگ سے
اور دل کو آنچ اک سخن گرم سے ملے

کیا کریں آنکھ اگر اس سے سوا چاہتی ہے
یہ جہان گزراں آئنہ خانہ ہی سہی

آب حیراں پر کسی کا عکس جیسے جم گیا
آنکھ میں بس ایک لمحے کے لئے ٹھہرا خیال

راہ بہت طویل تھی، راہ میں اک فصیل تھی
اس کو بھی مختصر کیا، اس میں بھی ایک در کیا

ایک ایک سے پوچھا ہم نے ایک وحشت میں
زندگی کے بارے میں آپ جانتے ہیں کیا

اپنی زندگانی کو اور رائیگانی کو
ہم اٹھائے پھرتے ہیں لوگ دیکھتے ہیں کیا


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481