اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”دیدار اقبال در خواب “

e9167890 de51 4206 9fd5 78e3cce60bbb 1

مرشدی اقبال سے ہمارا عقیدت کا رشتہ ہے اس لیے گاہے گاہے محبت کا معاملہ فرماتے ہوئے خواب میں آ کر درشن دے دیتے ہیں۔ اس بار آئے تو شدید غصے میں تھے۔ ہاتھ میں”تمبرکی ڈانگ“ اور ”اکھیاں رتیاں لال“۔ ہم ڈر سے”تھر تھر کنبے“ کہ اللہ خیر کرے، ”اج مرشد دا موڈ سخت خراب اے“ ہم نے ”گوڈے نپ کے“ سلام کرنا چاہا تو جھٹک دیا
کہ گستاخی کی کوئی معافی نہیں ہوتی۔ ہم نے عرض کی مرشد آخر سبب کیا ہے۔ تو بولے چلو باقی شعراء کے کلام کا تم آپریشن کرتے رہتے ہو، حال آں کہ یہ بھی بےادبی ہے، مگر "نامعقولا” میں تو تمہارا قومی شاعر ہوں (یا تھا) مگر مجھے بھی نہیں بخشا! اب ہم ” گل آں کلاوہ مار گئے“ کہ کل جو بہ وقت "شامی گشت” ہم نے ایک پہاڑی زبان کے کلام کو مرشد سے منسوب کیا تھا، حضور اسی پر سیخ پا تھے اور” تمبری ڈانگ“ لیے ہمیں”لوڑتے لوڑتے “ کاکول روڈ تک پہنچ گئے تھے۔ یہ تو اچھا ہوا خفیہ اداروں کو خبر نہ پڑی ورنہ ہم مرشدی سمیت دھر لیے جاتے۔

خیر ہم نے مرشد سے دست بستہ درخواست کی کہ ”بڈیو چھری تلے ساہ کہنو“ اور یاد دھانی کروائی کہ آپ اب جنت نشیں ہیں اور اس جہان خراب سے ،جو اب خراب تر کیا جا رہا ہے، جا چکے ہیں۔ ویسے بھی آپ کے حقیقی کلام سے کون سا انصاف ہو رہا ہے۔ آپ کا کلام و تصورات فقط آپ کے جنم دن یا مرن دن پر”پلا شلا “ مار کر ٹی وی شی وی پر پیش کر کے فرض ادا کردیا جاتا ہے۔ پھر بارہ مہینے وہی چل چلاؤ۔

مرشد بولے ”گل تے ٹھیک آخدا ایں جاکتا“۔ میرے بہت سے اشعار ایسے ایسے لوگ پڑھ رہے ہوتے ہیں اور اس انداز میں پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ بلا شک و شبہ پھانسی کی سزا بنتی ہے۔ مگر نظام انصاف ہی گل سڑ چٌکا ہے۔

پھر بولے وہ جو کلام جو ہم سے منسوب کر رہے تھے سناؤ۔ پہلے تو ہم ڈرے شرمائے، مگر مرشدی کا موڈ ٹھیک ہوتا دیکھ کر کچھ حوصلہ ہوا۔ ہم نے ہارمونیم نکالا اور گلا صاف کیا۔ بولے کوئی” دکڑے“ والا نہیں؟ ہم نے عرض کیا کہ ہے تو سہی مگر فیس زیادہ لیتا ہے۔ آج بغیر طبلے کے ہی سٌن لیں۔ ہم نے عرض کیا ۔۔۔۔۔۔

جس چڑھنا سا سچ نی سولی، جس دینی سی بانگ
علم، دلیل نی گل اپر اوہ کڈ کِنناں آ ڈانگ

بوٹے ہور کوئی لائے تے پھل کھاناں کوئی ہور
جڑاں نیں وچا نانہہ کپیں توں، ڈالے پہانویں چھانگ

ویہ اوہ پیر یا ملاں یا کوئی پالیٹیشن ساہڑا
اساں کی جیہڑا لبھیا اوہے اسیا نمبر رانگ

ہم نے کلام ختم کیا تو مرشد بولے "اقبال خوش ہوا جندکا” پر سچ کہوں تو ”ککھ پلے نینھ پیا“۔ ہم نے لکھی ہوئی غزل مرشد کے ہاتھ میں تھما دی کہ جنت میں کوئی تو "اہل زبان”ہوگا، اٌس سے ترجمہ کروا لیجئے گا۔ مرشدی نے جاتے جاتے ”تمبرے“ کا ڈنڈا پیار سے مارا تو ہماری آنکھیں نم ناک ہو گئیں۔ مرشد نے متحیر ہو کر اشک بار ہونے کی وجہ پوچھی تو ہم نے ہچکیوں کے درمیان عرض کیا۔۔۔۔۔

"مرشدی! گزشتہ بہتر سالوں میں اصطبلشمنٹ، آئی ایم ایف، ورلڈبنک اور جانے کہاں کہاں سے ہم بے بسوں پر اس بے رحمی اور تسلسل سے ڈنڈے برسائے گئے ہیں کہ اب کوئی ڈنڈا بھی پیار سے برسائے تو وہ ہمیں اپنا وفادار، ہمدرد اور بہی خواہ محسوس ہوتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481