محکمہ سوئی گیس کی جانب سے مری کے کمرشل صارفین کو آرایل این جی ٹیرف پر منتقلی کے نوٹی فیکیشن پر صارفین نے شدید احتجاج کیا ہے جبکہ ہوٹل ایسوسی ایشن مری سمیت کاروباری تنظیموں نے بھی اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر حاجی خلیل احمد اور اونر ہوٹل ایسوسی ایشن حاجی شفاالحق و دیگر کا کہنا ہے کہ متوسط درجے کے سیاح اور تحصیل بھر کے مقامی لوگ سستی تفریح کیلئے مری آتے ہیں اور دن کو تفریح کرنے کے بعد اپنے شہروں کو لوٹ جاتے ہیں۔مری کا یہ ہل اسٹیشن متوسط طبقے کے لوگوں کی رسائی کیلئے انتہائی آسان ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ محکمہ سوئی گیس کے نوٹی فکیشن کی وجہ سے کاروباری طبقہ خاص طور پر ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے آرایل این جی کے نرخ بہت زیادہ ہوجائیں گے، جس سے متوسط طبقہ کے سیاحوں پر بوجھ پڑے گا۔ ایک طرف تو حکومت سیاحت کو فروغ دینے کے اقدامات اوردعوے کررہی ہے اوردوسری جانب ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جس سے مری کی سیاحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہون گے۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جو اس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں اوران حالات سے بخوبی آگاہ ہیں اس کے باوجود یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس سے مری کی سیاحت اورمری کے لوگوں کے روزگارپر منفی اثرات مرتب ہونگے اورکئی مقامی افراد جومذکورہ تجارتی اداروں سے منسلک ہیں وہ اوران کے خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہوجائینگے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی نادرن کی جانب سے جو ہوٹلوں،ریسٹورنٹس،بیکریوں اورتندوروں کو میٹرز اتارنے کی چند دنوں کی مہلت کا نوٹس دیا گیا ہے اس کو فوری واپس کیاجائے بصورت دیگر نوٹی فکیشن کی معطلی تک مری کے کاروباری حلقے شدید احتجاج کریں گے اوراسلام آباد کی طرف مارچ کیاجائے گا۔
