تیس سال سے قائم وائلڈ لائف پارک بانسرہ گلی اب بھی ویرانی کا شکار ہے حالانکہ اس پارک کی مینٹی ننس اور تزئین و آرائش ہر سال لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود مذکورہ پارک سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ نہ کر سکا ۔
مری کے صحافتی اور سماجی حلقوں کی نشاندہی پر وائس چانسلر کوہسار یونیورسٹی مری ڈاکٹر سید حبیب علی بخاری نےوائلڈ لائف پارک کا دورہ کیا، اس دورے کا مقصد یونیورسٹی کے طرف سے وائلڈ لائف کا تحفظ اور اس حوالے سے درپیش مسائل کے حوالے سے معلومات حاصل کرنا تھا،
اس دورے میں وائس چانسلر نے نے وائلڈ لائف کی ضرورت و اہمیت اور حفاظت کیلئے تجاویز بھی دیں اور متعلقہ محکمے کے افسران کے ساتھ ملاقات کر کے عملی اقدامات کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔ وائس چانسلرکا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے ماہرین کنزرویشن بیالوجی، بائیو ڈائیورسٹی اور باٹنی کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں جو نہ صرف وائلڈ لائف ٹورازم بلکہ نیچر ٹورازم کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک محفوظ صاف ستھرے اور سرسبز ماحول میں قومی اور بین القوامی سیاحوں کو اس طرف راغب کرنے میں آسانی رہے گی اور کوہسار یونیورسٹی ماحول دوست یونیورسٹی کے طور بھی معروف ہو گی ۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ کوہسار یونیورسٹی کا عملہ اور ماہرین پارک کو مینٹین رکھنے کیلئے بھی پارک انتظامیہ کے ساتھ ہر طرح کی معاونت کیلیے تیار ہے۔
