نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کےمالک سلمان اقبال نے ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات میں مدد دینے کے لیے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک بیان میں سلمان اقبال نے کہا ہے کہ مجھے نواز لیگ کی حکومت میں آزاد تفتیش پر یقین نہیں لہٰذا میں پاکستان نہیں آ سکتا لیکن اس سلسلے میں ان سے جو سوال پوچھے جائیں گے ان کا وہ جواب دیں گے۔
سلمان اقبال نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ارشد شریف کیس کی تحقیقات کی نگرانی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا دفتر کرے تو وہ مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
اپنے بیان میں سلمان اقبال نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کےادارے نے بیرون ملک جانے میں ارشد شریف کی مدد کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایک دوست کی مدد کرنا جرم ہے؟ سلمان اقبال کا کہنا تھا کہ میرا ارشد شریف کے قتل میں کوئی ہاتھ نہیں۔
واضح رہے کہگذشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال نے ارشد شریف کو بیرون ملک بھجوانے کے لیے سینیئر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ عماد یوسف کو ہدایات دیں ۔
جس کے بعد ارشد شریف پشاور سے دس اگست کو دبئی روانہ ہوئے ۔ کے پی حکومت نے ارشد کو ائیرپورٹ تک مکمل پروٹو کول دیا ۔ ان کا کہنا تھا چونکہ ارشد شریف قتل کیس میں سلمان اقبال کا نام بار بار آ رہا ہے ،لہٰذا ضروری ہے کہ سلمان اقبال کو واپس لا کر شاملِ تفتیش کیا جائے۔
