اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

صحافی کے بنیادی اوصاف کیا ہونے چاہیئیں؟

0aa4c630 263c 4b59 9c19 3c276ced90e4

 

FB IMG 1665815402974تحریر :راشد عباسی

 

کسی معاملے، واقعے یا حادثے کے بارے میں حقیقت پسندانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیق کرنا اور پھر اس کا ابلاغ صحافت ہے۔ انگریزی میں صحافت کی تعریف کے مطابق۔۔۔

Journalism is the activity of gathering, assessing, creating, and presenting news and information۔

ابلاغ کا تعلق چونکہ زبان سے ہے۔ اس لیے ایک صحافی کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ الفاظ اور جملے کے مفہوم سے کما حقہ آگہی رکھتا ہو۔ صحافتی زبان سلاست کی متقاضی ہوتی ہے تاکہ ابلاغ کے مسائل پیدا نہ ہوں۔ نیز صحافی کے لیے ناگزیر ہے کہ اس کی تحریر و کلام میں انفرادی رائے یا پسند ناپسند کا تاثر نہ ملے۔ کیوں کہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کو جوں کا توں بیان کرے۔ حقائق کا بیان واقعیت ہے اور یہی صحافت کی بنیاد ہے۔ ایک صحافی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی رپورٹنگ معروضیت کی حامل ہو اور اس میں حقیقی اعداد و شمار غیر جذباتی انداز میں پیش کیے جائیں۔ آج کیوں کہ مائیکرو ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اس لیے آج کا قاری اختصار پسند ہو گیا ہے۔ ایک کامیاب صحافی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کوزے میں دریا بند کرنے کا ہنر جانتا ہو۔ نیز لفظی آرائش و زیبائش کے بجائے افادیت کو مد نظر رکھے۔ خبر کا معاملہ چونکہ "ٹائم باؤنڈ” ہوتا ہے یعنی فوری طور پر خبر قارئین و ناظرین تک نہ پہنچ پائے تو وہ اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔ اس صورت حال میں کچھ صحافی لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے خبر میں سنسنی خیزی کا عنصر نمایاں کر دیتے ہیں، جو مناسب نہیں ہے ۔

یہ بات سمجھنے اور یاد رکھنے کی ہے کہ صحافت بہت مقدس شعبہ ہے اور یہ بھی اپنی طرز کا جہاد ہے، لیکن جدید دور میں یہ ایک سائنس اور ڈسپلن کے طور پر تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں صحافت کے مختلف شعبوں کے لیے پروفیشنل صحافی تیار کیے جاتے ہیں اور سیمیناروں، لیکچروں اور ورکشاپوں کے ذریعے بھی صحافیوں کو جدید خطوط پر تربیت مہیا کی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں اس شعبے کو بھی دیگر شعبوں کی طرح قحط الرجال کا سامنا ہے۔ اگرچہ حقیقی صحافت کڑی ریاضت اور تفکر کی متقاضی ہے لیکن ایک باقاعدہ صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ۔۔۔۔۔

*مطلوبہ تعلیمی معیار اور تجربے کے ساتھ خبر کی اہمیت اور افادیت سے واقف ہو۔
*وہ صاحب مطالعہ، صاحب فکر و تدبر ہو اور بھرپور قوت مشاہدہ کے ساتھ دستیاب معلومات کی بنیاد پر حالات کا درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
*جس زبان میں وہ صحافت کر رہا ہے اسے اس زبان پر مکمل عبور حاصل ہو۔

*ملکی ، علاقائی اور عالمی حالات سے نہ صرف باخبر ہو بلکہ خطے سمیت عالمی سطح پر رونما ہونے والے اہم واقعات، سیاسی اور جغرافیائی تبدیلیوں پر نظر رکھتا ہو۔
* صحافت میں مقصدیت (objectivity ) کی بنیادی اہمیت کو سمجھتا ہو ،باضمیر اور نڈر ہو

مولانا ظفر علی خان اور ان کے اخبار "زمیندار” سے کون صحافی واقف نہیں ہو گا۔ مولانا نے انگریزی سامراج کے خلاف جب صحافت کو شمشیر صداقت کے طور پر استعمال کیا تو انگریز خوف زدہ ہو گئے۔ مولانا کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی جو کچھ عرصے بعد نظر بندی میں تبدیل کر دی گئی۔

یہ صحافت ہی تھی جس کی وجہ سے شورش کاشمیری‌ حق گوئی کا استعارہ بنے۔ آپ کا قلم ہمیشہ سامراج کی چیرہ دستیوں کے بخیے ادھیڑتا رہا۔ آپ نے قلم سے وہ جہاد کیا کہ طاقت و اختیار کے حامل اعداء بھی آپ سے مرعوب رہتے۔ آپ نے طاقتور کے سامنے بھی ہمیشہ کلمہ حق بلند کیا اور یہی آج کے صحافی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان باضمیر اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حق گوئی و بے باکی والی صحافت کرے۔ وہ اہل جاہ حشم کے بجائے لوگوں کے ساتھ اور ان کی حمایت میں کھڑا ہو۔

مادیت پرستی کی یلغار نے ہر شعبہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بدلے ہوئے حالات میں اہل جاہ حشم کا اہل علم و فضل کی مسند پر قبضہ ہماری قدروں، روائتوں اور تہذیب و اخلاق کے جنازہ پر منتج ہوا۔ ایک صحافی کے طور پر ہم سب کو اپنی پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ نئے علوم اور تکنیکیں سیکھنی چاہییں۔ اپنے کردار و عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ تاکہ ہم اصلاح احوال میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جس طرح ایک جینوئن شاعر عصری آگہی کے آشوب کی وجہ سے جلوت و انبوہ میں بھی دشت تنہائی میں کھڑا ہوتا ہے اسی طرح ایک حقیقی اور زندہ ضمیر صحافی کے لیے بھی احوال و حوادث کی اصلیت سے آگاہی اور اہل اختیار و اقتدار کی بے حسی کچھ کم اذیت ناک نہیں ہوتی لیکن یہی وہ آتش ہے جو اسے مولانا ظفر علی خان اور آغا شورش کاشمیری کا جانشین بناتی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481