اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”در توصیف مکھڈیات و مراثیات“

e9167890 de51 4206 9fd5 78e3cce60bbb

محکمہ مکھڈیات و محکمہ مراثیات میں یوں تو بہت سی قدریں مشترک ہیں مگر خدا لگتی کہیں تو محکمہ مکھڈیات” بد سے بدنام برا” والے زمرے میں آتا ہے کہ مراثیات امور خور و نوش میں محکمہ مکھڈیات سے بہت آگے ہے۔

ہمارا بچپن (اور جوانی کےکچھ ایام بھی) محکمہ مکھڈیات سے قربت میں گزرے۔ ہم تقریباً ناظرہ قرآن مکمل کر چکے تھے کہ ایک مانسہرہ کے نوجوان وجیہہ قاری صاحب ہماری ”نکی مسیت“ میں "اپائینٹ” ہوئے۔ قاری صاحب ہر ہفتے محفل ذکر سجاتے اور مکھڈی بناتے۔ ہم جیسے”بدراہ “، جو جمعہ جمعہ کے نمازی تھے، وہ بھی مکھڈی کی محبت میں ”پنج وقتے“ ہوگئے۔ مسیت کے ساتھ چھوٹا سا حجرہ تھا، جو قاری صاحب کی قیام گاہ تھا لیکن اب زیادہ تر ہمارے زیر استعمال رہتا۔ قاری صاحب سے امام و مقتدی سے زیادہ دوستی کا رشتہ ہوگیا۔ جب ہمارے سنگیوں کو پتہ چلا تو بولے”مکھڈی نال یاری ہوگئی اے “۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ حجرے کو پیارا ہونے کی وجہ سے ایک دو دفعہ ہمارے والد بزرگوار حجرے سے ہمیں پورے پروٹوکول کے ساتھ ”عزت افزائی“ کرتے ہوئے گھر لے کر گئے۔

بات مکھڈیات کی ہورہی تھی۔ آپ تو جانتے ہیں کہ سردیاں آتے ہی محکمہ مراثیات کی سرگرمیاں ہمارے ہاں محدود ہو جاتی ہیں۔ لہذا خاں صاب لوگ اپنی تمام تر صلاحیتیں انواع و اقسام کے کھابے، کھانے بنانے پر صرف کرتے ہیں۔ جیسے یہ لوگ سریلے ہوتے ہیں ایسے ہی ان کے کھانے بھی راگوں کی طرح ملائم مدھر سریلے ہوتے ہیں۔

دھنیا گوشت تو ان کے جیسا کوئی پکا ہی نہیں سکتا۔ پھر باکرے فوطے بھی ان کی خاص ڈش ہوتی ہے۔ ہماری مکھڈیات سے جان چھوٹی تو مراثیات سے واسطہ پڑ گیا۔ یعنی ہماری قسمت میں سریلے کھانے لکھے تھے، طعام کشی ہمارا مقدر ٹھہری۔

آج ”چَہڑھ چڑیا دیخ کے“ محکمہ مراثیات کے استادوں کی طرح ہم نے” تریمت شریف“ سے کہا کہ ”پہلیے لوکے“ کوئی”پت شت، باٹ شاٹ“ ہو جائے۔ یاد رہے پہاڑی میں حلوے کو باٹ کہتے ہیں۔ زوجہ ماجدہ نے فی البدییہ جواب دیا، آپ تو ”ویہلے “ہیں، میں بچوں کا ہوم ورک کرا رہی ہوں۔ آگے امتحان ہیں۔ ہم سمجھ گئے کہ ”دال نہیں گلنی“۔ کلیہ نمبر چھتیس“ آزمایا۔ سچل باوا کی سفارش ڈالی کہ اس ملک میں کوئی کام سفارش کے بغیر ہونا ناممکن ہے۔

سو سچل باوا کو”کھبی اکھ مار کر“ ہوم منسٹر یعنی وزیر داخلہ کے پیچھے لگا دیا۔ کچھ دیر بعد سچل باوا نے کمرے میں آن کر کان میں کہا ”بڈیو کام ہوگیا اے“۔ لیکن بہ طور سزا ہماری ڈیوٹی اکھوڑ بدام توڑنے پر لگی۔ حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے ہم نے مطلوبہ تعداد میں کھوڑ، بدام توڑ کر رکھے اور اپنے کمرے میں ایک کتاب کے مطالعے میں” ڈٌب گئے“۔ کچھ دیر بعد تریمت شریف کی کراری آواز آئی کہ کیا حلوہ دو اکھوڑ چار بدام سے بن سکتا ہے ہم پیر سر پر رکھ کر کچن کی طرف بھاگے۔ پلیٹ کا بہ غور معائنہ کر کے عرض کیا۔۔۔۔ خدا کی بندی ہم نے پندرہ کھوڑ اور بیس بدام توڑے تھے، نہ جانے زمین کھا گئی کہ آسمان نگل گیا۔ باہر سے عدن بابا نے اعلان کیا ”اوہ تے باوا ہور مزے لے کے کھاگئے“۔ یعنی سچل”باوا کم پا گئے“۔ سو دوھری سزا کے طور پر ہمیں مکرر کھوڑ اور بدام توڑنے پڑے۔ اس دن ہمیں معلوم ہوا کہ مشاعرے میں سامعین مکرر مکرر کی آوازیں کیوں لگاتے ہیں۔

ایک گھنٹے کی محنت شاقہ سے مکھڈی تیار ہوا۔ اعلان کیا گیا کہ صفیں بچھ چکی ہیں، بٹالین کمانڈو ایکشن کے لیے تیار ہے۔ طبل جنگ بج چکا ہے۔ سچل باوا ”باں کنج“ کے میدان میں کٌشتوں کے پشتے لگانے پہنچ گئے۔ ہم نے آئی ایس پی آر کا ترانہ چلایا

”اے مردِ مجاھد بھاگ ذرا کہ لم کڈھنے کا ویلا آیا ہے “

اگر کالم شالم کو طویل کیا گیا تو ”پاتر“ میں ”ککھ نئیں بچنا“ اور اتنی” کھینی“ کرنے کے بعد ”منہ منگلار“ ہونا مرد کو زیب نہیں دیتا۔ آخر شان ”جنڑیائی“ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ سو اجازتاں دیو تے انگلیاں چٹو۔ مزہ نہ آئے تے کالم واپس۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481