کینیا میں قتل ہونے والے سینیئر پاکستانی صحافی ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ آگئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ارشد شریف کی موت گولیاں لگنے کے آدھے گھنٹے بعد واقع ہوئی ۔
اس رپورٹ نے اس سوال کو مزید شدت سے اٹھا دیا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ارشد شریف کو ہسپتال کیوں نہیں پہنچایا گیا اور اس کے بجائے 26 کلومیٹر دور وقاراحمد کے فارم ہاؤس پر کیوں لے جایا گیا ۔ واضح رہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ارشد شریف کی گاڑی ڈرائیو کرنے والے شخص خرم نے واقعے کی اطلاع وقار احمد کو دی تو انہوں نے فوری طور پر اسپتال پہنچانے کے بجائے گاڑی ڈرائیو کر کے اپنے فارم ہاؤس پر لانے کو کہا ۔
واضح رہے کہ ارشد شریف کا پوسٹ مارٹم پمز اسپتال کے 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے کیاہے ، جس میں مرحوم کی لاش کا اندرونی و بیرونی تفصیلی معائنہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی موت سر اور دائیں پھیپھڑے پر گولیاں لگنے سے ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کی موت گولیاں لگنے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہوئی،ان کے دل، گردے پھیپھڑے،معدےسے نمونے سائنس لیب بھجوائے گئے ہیں ۔ہسپتال ذرائع کے مطابق فرانزک کے بعد پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ تیار کی جائے گی۔
