اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”مادرِجمہوریت“

3a7b4c32 bbfb 477f 9680 d778feeb984b

IMG 20221018 WA0165صاحب تحریر
شٌدھ ہندکو میں اِس کا ترجمہ ” جمہور دی بےبے “ ہوسکتا ہے. جمہوریت کی ماں کیا مری، کچھ لوگ سوگ میں افسردہ پائے گئے ہیں۔ کچھ ستم ظریف ” ماسی“ کا شجرہ شجرِ طیبہ سے جوڑنے کی جسارت پر اٌتر آئے ہیں۔ کچھ غلام ذہنیت کے لوگ کہاں سے کہاں تک قلم کے” کہوڑے “ دوڑا رہے ہیں۔ کچھ ”پھوڑی ڈاہ“ کر ماتم کی کیفیت میں ہیں، حالانکہ ہماری دھرتی کی بہت سی مائیں سیلاب کی تباہ کاریوں کے کارن دربدر بیں۔ گھر تباہ ہونے کی وجہ سے کٌھلے آسمان تلے پڑی ہیں۔ مگر اپنے پرانے آقاؤں کے غلام بےبے جمہوریت کے سوگ میں ہیں۔

دوہزار انیس میں ہماری لندن یاترا کے دوران ہمیں بےبے جمہوریت کا پیلس دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ بے بے کے زیر استمال کمرے کے علاوہ تمام پیلس ہم نے چڑیا گھر کی صورت دیکھا۔ ایک بات دیکھ کر ہمیں گوروں کی ترقی کا راز معلوم ہوا کہ وہاں ملکہ کے پیلس میں جو سادگی تھی ویسی سادگی ہمارے عام بلدیاتی ممبر کے گھر میں بھی نہیں ہوتی۔ نہ ہٹو بچو، نہ کر و فر، نہ پروٹوکول۔ فقط ایک دو سپاہی مرکزی دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ تمام محل سیاحوں کے لیے کٌھلا ہوا تھا، آزادی سے محل میں گھومیں پھریں اور ہر گوشہ دیکھیں ۔

ہم نے اپنے دوست سے پوچھا کہ یہ لوگ ڈرتے ورتے نہیں؟ اس نے رازداری سے بتایا کہ یہ لوگ اپنے عوام کے چور نہیں ہوتے، اس لیے انھیں عوام سے کسی قسم کا خطرہ ہی محسوس نہیں ہوتا۔ جب کہ ہمارے ہاں۔۔ معمولی سا سیاسی بندہ ساتھ میں جب تک دو ڈالے محافظ لے کر باہر نہ نکلے حضرت عزرائیل سے خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ ماسی جمہوریت کی ہمیں آج تک ہوا بھی نہیں لگی۔ جمہوریت کی عملی صورت تو دٌور کی بات ہے۔ ویسے بھی جمہوریت ان تعلیم یافتہ اقوام کے لیے فائدہ مند ہے جو علم و دانش کی حامل ہوں۔ تیسری دنیا کے وہ ممالک جہاں اپنا نام لکھ لینے والے کو بھی پڑھے لکھوں میں شمار کیا جاتا ہے وہ جمہوریت کے حقیقی ثمر سے ابھی صدیوں کی مسافت پر ہیں۔ مغربی دنیا میں لوگ انتہائی امن سے زندگی گزارتے ہیں۔ کوئی کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا کہ یہ جرم ہے ۔خدا کے معاملات خدا کے سپرد ہیں، انسان ان میں دخل نہیں دیتے۔ قانون سب کےلیے برابر ہے۔ وہاں کسی لندنی کو برصغیری پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ جو قانون کی پاسداری کرے وہی مہذب و معزز ہوتا ہے۔

ایک بار ہم ڈبل منزل گاڑی پر کھڑے سفر کررہے تھے۔ ایک نوجوان گوری سیٹ پر بیٹھی تھی جب کہ ساتھ والی سیٹ خالی تھی۔ ایک بار اٌس نے انگلش میں” صلا ماری “
یو سیٹ۔ پر ہماری انگلش ایکسیلینٹ ہونے کے کارن” گل پلے نہ پہئ “۔ اٌس نے ہمیں”شرماکل تاڑ“ کر ہمارا ہاتھ پکڑ کر سیٹ پر”بٹھالیا“۔ ہمیں تو پسینہ آگیا۔ ہم سمٹ کر بیٹھ تو گئے مگرآیت الکرسی پڑھتے رہے۔ یعنی ہمارے اندر مردانہ سماج کی روایتی برتری کا خیال تھا، جیسے چور کے اندر کا خوف۔ وہ جب جانے لگی تو ہلکی سے سمائل دے کر بائے بائے کرگئ۔

بے بے جمہوریت نے طویل عمر پائی یعنی پچانوے سال۔ ملک کے اعلی عہدے پر رہی یعنی ملکہ۔ مگر نہ کسی بنک سے قرضہ لے کر معاف کرایا نہ بیرون ملک جائیداد بنائی،
نہ کوئی پلاٹ شلاٹ لیا اور نہ توشہ خانے سے کچھ”ویچ وٹا“ کیا۔ ہم حیران ہیں کہ کیسے کافر لوگ ہیں۔ جنت میں تو جائیں گے نہیں اور دنیا بنی ہی اٌن کے لیے ہے۔ مگر ایک پائی بھی مٌلک کی لٌوٹ کر کسی بنک شنک میں اپنی نسل کے لیے نہیں چھوڑتے۔ حالانکہ ہم مسلمانوں کو حکم ہے کہ ضرورت سے زیادہ مال مستحقین میں تقسیم کردو مگر ہم آنے والی سات نسلوں کے لیے جمع کرکے جاتے ہیں اور وہ بھی بلاتفریق حلال وحرام ۔ لوگ ہمارے ناموں سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ ہم ذخیرہ اندوزی سے ملاوٹ تک سب کچھ کر کے بھی جنت کے مالک ہیں۔ سیلاب زدگان کو خیمے مہنگے بیچ کر بھی جنت کاٹکٹ کنفرم سمجھتے ہیں۔ حالانکہ خدا کو مطلوب انسان کا کردار ہے، نام ڈیوڈ تھامسن ہو یا عبداللہ یا تہمن داس اصل بات کردار کی ہے۔ عبادات سے زیادہ معاملات کی پرسش ہونی ہے۔ ہمارے مبلغین بھی صرف عبادات پر زور دیتے ہیں۔ کاش عبادات کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی کردار کے ترفع کی بھی عملی صورت ہمارے معاشرے میں عام ہو اور ہم بھی غیر مسلم اقوام کی طرح دنیا میں عزت پائیں۔ بہ قول اقبال لاھوری

زباں نے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

ہمیں بےبے جمہوریت کے لیے دعا کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے علماء کے مطابق مغفرت کی دعا صرف مسلمانوں کے لیے کی جا سکتی ہے۔ بہرحال یہ تو طے ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کے ساتھ آخری عدالت میں پہنچے گا اور قادر مطلق کو عادل پائے گا۔ مثقال کے زرے کا سا خیر و شر بھی تولا جائے گا اور اسی بنیاد پر فیصلہ ہو گا۔

اٌتھے عملاں دے ہونڑے نے نبھیڑے
کسے نی تیری ذات پچھنی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481