اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ ’قلم ‘ پہ کوئی داغ

123

عربی میں عدل و انصاف کے لیے لفظ قِسْط آتا ہے ۔لغتِ اضداد کی رو سےیہاں ایک لفظ قَسْط بھی ہے جس کے
معنی ناانصافی اور ظلم ہے ۔یہاں ایک نقطے کے بجائے ایک ’’ زبر ‘‘ کے ہاتھوں محرم سے مجرم بننے کا سفر
ہے۔ وطن عزیز کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔ لیکن عدل کو شفاف کر دینے والے ادارے باوجود یہ کہ ’داغ
اچھے ہوتے ہیں ‘ ہر قسم کے داغ سے نہ صرف خودپاک بلکہ دوسروں کو پاک کردینے والے یعنی طاہر بھی
اور مطہر بھی ۔ حضرت عاجز سے بہت عاجزی سے معذرت کرتے ہوئے ہم عادل اداروں کی خدمت میں جو ’’
ق ‘‘ کی زبر کے ساتھ قاسط بھی ہیں کہ جمع جس کی القاسطون ، سورہ الجن میں مذکور ہے، تھوڑی تبدیلی کے
ساتھ یہ شعر پیش کرنا چاہتے ہیں :

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ ’قلم ‘ پہ کوئی داغ

تم ’’ قَسْط ‘‘ کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

 

تو ان کرامات یا ’’ کرائمات ‘‘ کا قدرے ذکر ہو جائے تو کیا برا ہے ۔ تازہ کارنامہ ’’شاہ زیب قتل کیس ‘‘ کے
مجرمین کو سپریم کورٹ کی طرف سے بر ی قرار دینا ہے۔ اس کیس کو مثال بنا کر دیکھیں تو پتا چلے ہمارے
ملک میں کس طرح انصافِ معکوس ہوتا ہے۔ ٹرائل کورٹ کچھ مجرموں کوسزائے موت سناتی ہے اور کچھ
کو عمر قید ۔ ہائی کورٹ سزائے موت کو عمر قید میں بدلتی ہے اور سپریم کورٹ چاروں مجرموں کو بری ہی
کر دیتی ہے۔
’’ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو ‘‘

تاریخ کے ورق الٹتے چلے جائیں ۔ خدا خدا کر کے پاکستان کی ریاست وجود میں آتی ہے ۔
دستور ساز اسمبلی ، دستور سازی میں ’جٹ‘ گئی ۔ سات سال بعد جب کامیابی نزدیک لگی تو
انگریز ی سول سروس کی باقیات ، نام کے غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی ہی کی بساط لپیٹ دی ۔ اسپیکر
اسمبلی جناب مولوی تمیز الدین صاحب ’’گھونگٹ ‘‘ کی آڑ میں عدالت عالیہ سندھ پہنچنے میں کامیاب ہوئے
۔ کیس چلا تو عیسائی جج جارج کانسٹائن نے گورنر جنرل کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسمبلی
بحال کر دی ۔ ’’ انصاف کا یہ خون ‘‘ گورنر جنرل پاکستان سے برداشت نہ ہوا ،بھاگم بھاگ وفاقی عدالت عالیہ
کے چرنوں میں پہنچے جہاں پانچ رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ عیسائی جج کے فیصلے کو جسٹس
منیر اور ہمنوا مسلمان ججوں نے نظریہ ضرورت کے تحت کالعدم قرار دے کر اکثریتی فیصلے کے
ذریعے گورنر جنرل کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کو جائز قرار دے دیا ۔ اختلاف یہاں بھی کیا تو ایک
عیسائی جج کارنیلئس نے ۔ خیر ۱۹۵۶ ء میں کسی نہ کسی طرح دستور تو بن کر نافذ ہو گیا لیکن ۱۹۵۸ ء
میں ’’ ہزارے کی شان ایوب خان ‘‘ نے آئین کو اپنے فوجی بوٹوں تلے روند ڈالا ۔ ڈوسو قتل کیس ، زیریں
عدالتوں سے ہوتا ہوا جب سپریم کورٹ میں پہنچا اور یہاں ایوب خان کی آئین شکنی بھی زیر بحث آئی تو
جسٹس منیر ہی کو دوسری بار بھی باطل کی خدمت کا شرف حاصل ہوا اور اس نے مارشل لا کو جائز انقلاب بلکہ
’’ قانون کا سرچشمہ ‘‘ قرار دیا ۔
۱۹۷۷ ءمیں بھٹو صاحب اور  اس وقت کے "ڈیمو کریٹک الائنس” کے مذاکرات کامیاب ہونے کے فوری بعد لیکن دستخط ہونے
سے پہلے کے قیمتی وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ضیاء الحق نے ’’اسلامی مارشل لاء ‘‘ لگایا تو
نصرت بھٹو ’’اسلام دشمنی ‘‘ میں سپریم کورٹ پہنچ گئیں۔ یہاں جسٹس انوار الحق نے’’ قَسط ‘‘کے تقاضے
پورے کرتے ہوئے ناحق طور پر ضیاء الحق کے مارشل لاء کو برحق قرار دے کر ’’قِسط‘‘ کا خونِ ناحق کر دیا ۔
۱۹۹۹ ء میں جنرل پرویز مشرف نے منتخب وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا تو بات پھر سپریم کورٹ
تک جا پہنچی ۔ یہ مقدمہ سید ظفر علی شاہ کیس کے نام سے مشہور ہوا ۔ چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے
ملک و قوم کو’’ افراتفری اور انتشار ‘‘ سے بچانے کے نام پر فوجی آمر کو تین سال تک حکومت کرنے اور
آئین میں ترمیم کرنے کا جواز فراہم کیا ۔ ۲۰۰۷ ء میں ، آرمی چیف اور صدر پاکستان کی دو کرسیوں پر
بیک وقت براجمان پرویز مشرف نے ایک پھر بار پھر آئین معطل کیا اور ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا :

اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں
سَو بار ہوئی حضرتِ انسان کی قباچاک

۲۰۰۸ ء میں جیسے تیسے اس ’’ سورما ‘‘ نے قوم کی جان چھوڑی ۔ ۲۰۱۳ ء میں تیسری بار وزیر اعظم
بننے والے نواز شریف نے مشرف کے خلاف آئین شکنی اور سنگین غداری کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا
۔چناں چہ ان کی ہدایت پر سیکرٹری داخلہ کی طرف سے مقدمہ دائر کیا گیا اور اس مقدمے کی سماعت کے لیے
آئین کے تحت ایک خصوصی عدالت تشکیل دی گئی ۔ آخر کار دسمبر ۲۰۱۹ ء میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف
جسٹس اور خصوصی عدالت کے جج جسٹس وقار سیٹھ نے پرویز مشرف کی پھانسی کا اکثریتی فیصلہ سنایا
جس میں حکومتی اداروں کو مجرم کی سزا پر عمل در آمد کی تاکید بھی تھی ۔ لیکن مشرف کے برے دن جا
چکے تھے۔ وفاق میں ’’انقلاب ‘‘ آ چکا تھا۔ مشرف کو سزا دلوانے میں خصوصی دلچسپی رکھنے والی مسلم
لیگ کی حکومت جا چکی تھی ۔اب وفاق میں مشرف کو بچانے میں خاص دلچسپی رکھنے والی ’’ تحریک غیر
انصاف ‘‘ کی حکومت تھی ۔ وفاق جو اس کیس میں مدعی کا کردار ادا کر رہا تھا ۔اچانک اس فیصلے کو ختم
کرانے میں متحرک ہو گیا ۔چناں چہ ہائی کورٹ کو کہنا پڑا کہ ’’یہ کون سا مقدمہ ہے کہ شکایت کنندہ خود کہتا
ہے کہ شکایت غلط تھی‘‘ بہرحال اس عمدہ فیصلے کا حشر یہ کیا گیا کہ ۱۹۷۶ء کی ایک آئینی ترمیم کی وہ
شق ہی کالعدم قرار دے دی گئی جس کے تحت خصوصی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔ چناں چہ
خصوصی عدالت اور اس کی جملہ کاروائی کالعدم قرار دی گئی۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔!!

اس کے بعد کی عدالتی تاریخ بھی کوئی روشن نہیں ہے۔ مجرم کو محرم اور زیرو کو ہیرو بنانے کا عدالتی
سفر جاری ہے ۔ مسلم لیگ قیادت داغ دار ہونے کے بعد اب سفید کاری کے دور سے گزر رہی ہے اور خان
صاحب’’ رو بہ سیاہی ‘‘ ہیں جس کی ابتدا ان کی نااہلی سے ہو چکی ہے ۔ منصفوں کو کسی سے دشمنی تھوڑی
ہے ۔ نا اہل کو نا اہل نہ کہیں تو کیا کہیں ہاں البتہ جب خان صاحب خود کو اہل ثابت کر دیں گے تو ہماری
عدالتیں انھیں دوبارہ اہل قرار دیں گی ، یہاں دیر ہے اندھیر تو نہیں ۔ اب دیکھیے ’’ سیاہ کاری ‘‘ کا یہ سفر
کہاں تک چلے گا ؟


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481