اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

صحافی ارشد شریف کینیا جانے پر مجبور کیوں ہوئے؟ حقائق سامنے آ گئے

08690270 7526 4014 8c92 16600969935e

صحافی ارشد شریف کینیا جانے پر مجبور کیوں ہوئے اور انہوں نے وہاں رہائش کیوں اختیار کی؟ اس حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
ارشد شریف کے وکیل بیرسٹر شعیب رزاق نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کے قتل کے محرکات جاننے کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست کی گئی ہے ۔
بیرسٹر شعیب کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کی جان کو پاکستان میں شدید خطرات لاحق تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملک بھر میں مختلف علاقوں میں ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جارہے تھے تو کم و بیش چار ماہ پہلے ہم نے عدالت میں ایک پٹیشن دائر کی تھی کہ ارشد شریف اسلام آباد کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے کیونکہ ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں اور انہیں مار دیا جائے گا ۔
بیرسٹر شعیب کے مطابق جب ارشد شریف پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا تو انہوں نے نے چند ہفتے پہلے پشاور کے راستے دبئی جانے کا فیصلہ کیا مگر ابھی وہاں وہ چند ہی روز قیام کر پائے تھے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے امارات کی حکومت پر شدید دباؤ ڈالا گیا کہ ارشد شریف کو ملک بدر کر کے واپس پاکستان بھیجا جائے . امارات کی حکومت میں ارشد شریف کو یہ آپشن دیا کہ وہ یا تو پاکستان واپس چلے جائیں یا پھر کسی اور ملک میں جانے کا آپشن اختیار کریں ۔کیونکہ ارشد شریف پاکستان واپس آکر اپنی جان کو خطرے میں مزید نہیں ڈالنا چاہتے تھے چنانچہ انہوں نے  امارات چھوڑ کر کسی اور ملک میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ کینیا اور ترکی دو ممالک ایسے ہیں جہاں پاکستانی شہری ویزے کے بغیر پاسپورٹ کی بنیاد پر انٹری حاصل کر سکتے ہیں، لہذا ارشد شریف نے کینیا کا آپشن اختیار کیا۔
ارشد شریف سے قریبی تعلق رکھنے والے صحافی معید پیرزادہ کے مطابق ارشد نے کینیا میں بھی اپنی رہائش کا مقام چھپائے رکھا لیکن حیرت انگیز طور پر ان کا پیچھا کرنے والوں نے ان کی مانیٹرنگ جاری رکھی اور بالآخر انہیں قتل کردیا۔
معید پیرزادہ کا کہنا ہے کہ اس دوران ارشد شریف نے برطانیہ کا ویزہ حاصل کرنے کی بھی کوشش کی تاہم انہیں اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ۔ بیرسٹر شعیب رضا کے مطابق ارشد شریف اب بھی پاکستان آنا چاہتے تھے اور قتل سے چند گھنٹے پہلے بھی ان کی فون پر ان سے بات ہوئی تو ارشد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے وطن واپس آنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔
ڈاکٹر معید پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کو نشانہ بنانے والوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ جو لوگ ان کے ہدف پر ہیں وہ کہیں بھی دنیا کے کسی بھی حصے میں محفوظ نہیں ہیں ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481