اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ارشد شریف نیروبی پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بنے، مگر سازشی کہانیاں عروج پر

8f08a14a fb0b 4d81 9c76 1ea6e8131c42

کینیا پولیس کے اس بیان کے باوجود کہ سینیئر پاکستانی صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف غلط فہمی کے نتیجے میں یا قانون کی مبینہ خلاف ورزی پر نیروبی پولیس کی گولی کا نشانہ بنے ہیں ، سوشل میڈیا پر سازشی کہانیوں کا دور چل پڑا ہے اور "جتنے منہ اتنی باتیں”  کے مصداق ہر کوئی اس معاملے میں تخیل کے گھوڑے دوڑاتا ہوا سرپٹ بھاگتا چلا جا رہا ہے ۔ یہ احساس کیے بغیر کہ مقتول یا متوفی کے خاندان پر کیا گزر رہی ہوگی؟
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ارشد شریف کے خیالات اور سوچ سے اتفاق نہ رکھنے والے بھی ان کی صلاحیتوں اور جرات مندانہ صحافت کے قائل نظر آتے ہیں۔ ارشد شریف کا شمار پاکستان کے ان چند اینکرز یا صحافیوں میں ہوتا تھا جو بھرپور تیاری کے ساتھ پروگرام کرتے تھے۔ ان کی رپورٹس دستاویزی ثبوتوں سے مزین ہوا کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شو "پاور پلے” نےمختصر مدت میں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ارشد شریف کی فیملی پر کچھ عرصہ پہلے ایک قیامت آکر گزر چکی ہے جب 2011 میں ان کے والد جو نیوی کے ریٹائرڈ کمانڈر تھے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تو ارشد شریف کے ایک بھائی جو پاک فوج میں میجر تھے اور ان کی ڈیوٹی کوہاٹ میں تھی ، والد کے انتقال کی اطلاع ملنے پر گھر کے لئے روانہ ہوئے تھے کہ دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ اس طرح اس خاندان کو ایک دن میں دو جنازے اٹھانا پڑے تھے اور اب چند برس بعد یہ دوسرا بڑا صدمہ ہے ارشدشریف کی موت کی صورت میں اس خاندان کو اٹھانا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے سوشل میڈیا پر لوگوں سےاپیل کی ہے کہ برائے کرم گولی لگنے کے بعد سامنے آنے والی میرے شوہر کی تصاویر شیئر نہ کی جائیں اور قتل کے معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

cd73f141 9eb6 49a0 9eb6 c9e1d4104227
واضح رہے کہ ارشد شریف کے مبینہ قتل یا موت  کی خبر سب سے پہلے برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافی مرتضی علی شاہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی تھی اس میں بتایا گیا تھا ک ہارشد شریف کو کینیا کے شہر نیروبی میں قتل کر دیا گیا ہے اور خاندانی ذرائع نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے تاہم بعد ازاں جس چینل یعنی اے آر وائی سے ارشد شریف منسلک تھے ، اس کے پلیٹ فارم سے مسلسل یہ خبر چلائی جاتی رہی کہ ارشد شریف کینیا میں ایک حادثے کا شکار ہو گئے ہیں تاہم حادثے کی نوعیت یا تفصیل کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا ۔

950a9c72 2c6e 4a6c a9a9 ea3a4ee2e4c6
بعد ازاں پیر کی صبح نیروبی پولیس کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ پاکستانی صحافی ایک غلط فہمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال میں نیروبی پولیس کی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔
اس واقعے کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ایک بچے کو یرغمال بنا کر ایک گاڑی میں لے جایا جا رہا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی تھی کہ اس دوران جس گاڑی میں ارشد شریف سوار تھے اس کے ڈرائیور نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔ پولیس نے گاڑی نہ روکنے پر پیچھا کیا اور فائرنگ کے نتیجے میں ارشد شریف موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا جس نے بعد میں اسپتال پہنچ کر میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کیا ۔
نیروبی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری طرف اس المناک واقعے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر افواہوں اور سازشی تھیوریوں کا ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اور ہر کوئی اس واقعے کو اپنی معلومات ، ذہنی استعداد اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مقتول کی اہلیہ نے قیاس آرائیوں سے گریز کی اپیل کی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قبل ازیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ارشد شریف کے ایک ہی بھائی تھے جو 2011 میں دہشت گردی کا نشانہ بن گئے تھے تاہم اب بتایا جا رہا ہے کہ ان کا ایک بھائی خرم بھی واقعے کے وقت گاڑی میں ان کے ہمراہ تھا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481