اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بیروٹ اور تحریک بیروٹ۔۔ زمینی حقائق کیا ہیں؟ افتخار عباسی

610fdf4e 5351 474a b588 8398586fd296

پہلی قسط
بیروٹ کی سرزمین سرکشوں، حریت پسندوں، غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین ۔ایک طرف مشرق سے طلوع ہوتا ہوا سورج دریاۓ جہلم کے خوبصورت نظاروں کو اپنی آغوش میں لیتا ہے تو وہاں مغرب میں مختلف جھرنے اپنی پرسوز فطرتی موسیقی کی دھنوں کے ساتھ مغرب میں ایک بڑے پانی کے نالے کنیر کس کا روپ پہنے شمال میں خوبصورت جہلم کے سبز پیرھن میں ملبوس پانی میں نیلم پواٸنٹ یا کنیر پل پر ملاپ کرتے سیاحوں کو دل کش و حسین فطرتی نظارے پیش کرتے ہوۓ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ جنوب میں مری کی خوبصورت سرسبز پہاڑیاں وادی بیروٹ کو گارڈ آف آنر پیش کرتی ہوٸی نظر آتی ہیں۔وہ شاید اس وادی کے باسیوں کی آزادی کی تحریک میں انگنت قربانیوں کو ستاٸش پیش کرنے کا ان پہاڑیوں کا ایک انداز خراج تحسین ہے یا قدرت نے فطرت کی تخلیق کے وقت اس جھکاٶ کی نظر اس وادی کے باسیوں کی بہادری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوۓ رکھی۔
بیروٹ کے معنی پہ جاٸیں تو جہاں اس نے اپنی آغوش میں طویل قد اورکسرتی جسموں کے حامل جنگجوٶں کو جنم دیکر سنسکرتی زبان میں یہ پہلوانوں کی زمین کہلواٸی ، وہاں فضاٸی نظاروں سے یہ سرزمین نچلے ہونٹ کی سی تشبیع پاتی ہوٸی بیروٹ کہلواٸی وہ شاید کلے اور بہر جیسے الفاظ سےاخذ شدہ یعنی بہر والا ہونٹ جسکے معنی ان پہاڑوں اور پہاڑیوں کا نچلا ہونٹ ہیں۔
بیروٹ کی تاریخ پہ نظر دوڑا ٸیں تو یہ سرزمین کبھی بھی کسی بھی وقت عباسی قبیلہ کے پڑاٶ یا حملہ کے بعد کبھی بھی کسی بھی حملہ آور کے کلیتاً بندبستی نظام کا حصہ نہیں رہی۔ 571 ع سے پہلے جہاں بیروٹ کشمیر اور چینی طلباء کی ٹیکسلا کی عظیم بدھ تہزیب کے علم و ہنر کی تعلیم پانے والوں کی گزر گاہ رہا اور پھر 571ع کے بعد ہنوں کے ہاتھوں گندھارا تہزیب کی تباہی کے بعد مری سے متصل آپ راجی میں مختلف حملہ کو سہتے ہوۓ یاں تک کہ گکھڑ راج کے بعد ذوگرا راج میں دادا تولک خان اور انکی اولاد کی پہلے گکھڑوں کے حلیف و مددگار کے طور پر اور وعدہ خلافی کی وجہ سے حریف کی حیثیت سے دوبارا عباسی حملہ آوروں کی تلوراروں کی زد میں آٸ لیکن عربوں کی شاندار اور درخشاں روایات کو برقرار رکھتے ہوۓ عباسی قبیلہ کی تلوار صرف مقابلہ کرنے والوں پر ہی اٹھی اور عورتوں و بچوں اور بوڑھوں کو مکمل امان حاصل رہی۔

239e0ecc a1a3 4453 a94c 73180a86a5b2
بیروٹ کلاں کا وجود بیروٹ خورد کی عدم موجودگی میں ایسے ہی نامکمل جیسے دایاں بازو کے بغیر جسم ۔ یہ اس لیے کہ ڈوگرا راج کے دوران بیروٹ کلاں روزانہ کی بنیاد پر ڈوگروں پر رات کو بیروٹ سے مری تک باقائدہ ڈوگرا فوج پر حملہ آور ہوتے اور دن کو بیروٹ خورد جو بیروٹ کلاں والوں کی یا انکے آباو اجداد کی زمین تھی ان میں غاریں اور جنگل بکثرت موجود تھے وہاں دن کے وقت پناہ لے لی جاتی اور یوں یہ سرزمین سولہویں سے اٹھارھویں و انیسویں صدی تک مختلف حملہ آوروں اور بیرونی طاقتوں کے خلاف ایک نٸ جنگی حکمت جسے آج کل گوریلہ لڑاٸ کہتے ہیں اپناتے ہوۓ نبرد آزما رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اجداد نے بھی جنگی حکمت عملی کے تحت مقامی زبانوں کے مروجہ ناموں سے ہی اپنے نام اس احتیاط کے ساتھ رکھنے شروع کردیۓ کہ مزہبی ممانعت بھی آڑے نہ آۓ ، پہچانے بھی نہ جاٸیں اور مزہبی شناخت بھی ختم نہ ہو۔ مری و گلیات و سرکل بکوٹ انہی اصولوں پر کار بند رہا ، ایک ہی مقصد کافرما رہا اور ایک ہی علاقہ میں ایک اہم اکاٸ کے طور پر بشمول گلیات ، مری یہاں تک کہ پھلگراں تک ضلع راولپنڈی کا بندوبستی نظام میں ایک ہی حصہ رہے۔جن میں مزہبی ثقافتی و لسانی لڑی میں سب علاقے ایک دوسرے سے متصل رہے۔
یہاں تک کہ 1831 تک یہ تمام علاقہ جات راجہ مظفر آف مظفر آباد نے مری بشمول بیروٹ ، کہوٹہ سے خانپور و بوٸ تک مظفر آباد میں شامل کیے اور راجہ آف مظفر آباد کے بندو بستی نظام کا حصہ رہے۔
(جاری ہے)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481