تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیاگیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ کل 36 صفحات پر مشتمل ہے، جس میںکسی رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ کسی رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کمیشن تین ماہ بعد بھی انتخابی گوشواروں میں غلط معلومات دینے یا چھپانے یا غلط بیانی کرنے پر کارروائی کا اختیار رکھتا ہے ۔
اسی بنیاد پرالیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے حکم کا حوالے دے کر عمران خان کا مؤقف مسترد کر دیا۔
تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہےکہ سپریم کورٹ نے "عمران خان بنام نواز شریف” کیس میں قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دینا صرف اور صرف الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اختیار ہے۔
تفصیلی فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ مالی سال کے دوران کتنے تحائف حاصل کیے؟ کتنے کسی اور کو منتقل کیے؟ یہ بتانا جواب گزار کی ذمہ داری ہے مگر عمران خان نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن سے حقائق چھپائے، اس حوالے سےغلط بیانی کی اور جھوٹ بولا۔
الیکشن کمیشن نے مزید کہا ہے کہ یمران خان کی جانب سے دی گئی توشہ خانہ تحائف کی تفصیلات الیکشن کمیشن کے اثاثوں سے متعلق فارم بی سے مطابقت نہیں رکھتیں، تحائف کتنے میں بیچے؟کس کو بیچے؟ کب بیچے؟ اس سلسلے میں عمران خان کی دی گئی تفصیلات اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کیےگئے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں،
تحریک انصاف کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے تحفے بیچے، اس کے عوض نقد رقم لی،چالان بھی پیش کئے کہ رقم بینک میں آئی، مگر سوال یہ ہے کہ جو رقم بینک میں آئی وہ اصل رقم کے نصف سے بھی کم کیوں ہے؟
الیکشن کمیشن کے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہےکہ عمران خان نے تسلیم کیا کہ انہوں نے 10 کروڑ روپے مالیت کے تحائف 2 کروڑ 15 ہزار روپے میں خریدے، اسٹیٹ بینک کی فراہم کردہ تفصیل کے مطابق عمران خان کے اس اکاؤنٹ میں 5 کروڑ روپےکے قریب رقم موجود تھی، عمران خان کے مطابق تحائف 8 کروڑ 66 لاکھ روپے میں فروخت ہوئے، یہ رقم بینک میں موجود نہیں۔
فیصلے میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے مطابق عمران خان نے گھڑی کے علاوہ بریسلٹ، انگوٹھی، نیکلس، بالیاں اور کارپٹ کے تحائف بھی اپنے پاس رکھے مگر ان کی تفصیل الیکشن کمیشن کو فراہم نہیں کی، اس طرح عمران خان کرپٹ پریکٹسز کا مرتکب ہونے پر آئین کے آرٹیکل 63 ون پی کے تحت نا اہل قرار پائے ہیں، لہٰذا اب وہ رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، ان کی نشست خالی قرار دی جاتی ہے، تفصیلی فیآصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی اور بد دیانتی پر قانونی کارروائی کے آغاز کا حکم دیا جاتا ہے۔
