اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"صحافت کا یوم اولیں و آخریں”

eac2bade 5588 479a b6ae a9a0390693ec 1

ہم نے کاغذ قلم سنبھالنے کا پروگرام بنایا بلکہ قلم کان پر لمکا بھی لیا کہ اچانک ہمیں یاد آیا کہ ماڈرن صحافی، ڈائری کی جگہ گشتی فون” چٌک“ کر رپورٹنگ کے لیے جاتے ہیں۔ ہم بھی موبائل فون اٹھا کر ایڈیٹر صاحب کی ہدایت پر ایک موٹے تازے” کٌکڑ“ کے انٹرویو کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ گھر سے نکلتے ہی ” مٌودا پہالا“ ٹکر گئے کہ ”بڈیو مانھ وی نال کہن جٌلو “ اور آپ تو جانتے ہی ہیں پہاڑی کہاوت ہے” دو مٌلاں نیں بشکار کٌکڑ حرام ہونڑاں “ سو ہم نے” رٌٹھی جنانی“ کی طرح ”اٌکی نانہہ کردی“ انٹرویو کا وقت طے تھا سو ہم کٌکڑ صاحب کی بڑی حویلی پہنچے۔

سب سے پہلے ہم کو سری پائے، موٹا مغر، روغنی نان کا ناشتہ کرنا پڑا۔ پھر دودھ پتی”پتی روک، مٹھا ٹھوک “ کے پینی پڑی۔ ابھی صاب اشنان فرما رہے تھے سو ہم نے چائے لانے والے ملازم سے گپ شپ کی ٹھان لی، کیوں کہ ہماری رگ صحافت بری طرح پھڑک رہی تھی۔ پوچھا چچا کتنا عرصہ ہوا صاب کے ہاں۔ بولے بیٹا جب صاب کی”سنتیں ہوئیں“ یعنی ”مسلمانیاں“ بٹھایا گیا تو ہم نے ہی بولا تھا ”اوہ چڑی دیخو“۔ سو ہم سمجھ گئے کہ بندہ کام کا ہے، جو صاب کو صاب سے زیادہ جانتا ہے۔ ہم نے استفسار کیا کہ صاحب خاندانی امیر ہیں یا ”ادھ راہ “ الہ دین کاچراغ ملا۔ چاچا جی بولے، بیٹا پہلے تو گھر میں تقریباً فاقے ہوتے تھے۔ سب اہل خانہ کی بڑی خواہش تھی کہ ”جندک “ پڑھ لکھ کر ”باؤ” لگے۔ تاکہ گھر کے حالات کچھ بدلیں۔ سب نے کوشش بھی بہت کی مگر سکول سے روزانہ” نہورے“ آتے تھے کہ آپ کا ”جندک“ کمال ہاتھ کی صفائی دکھاتے ہوئے ساتھی بچوں کے بستے صاف کرجاتا ہے۔ اور تفریح کے دوران اپنے ہم جماعتوں کو آپس میں لڑاتا ہے۔ صاب کی پڑھائی میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا لیکن صاب پنجویں جماعت سے آگے کاسفر طےنہ کر سکے۔

اہل خانہ نے صاب کو کوئی کام شام سکھانے کی کوشش کی اور کچھ روز تو محنت مزدوری پر بھی گئے۔ مگر وہاں بھی ہاتھ کی صفائی کے کارن نہ چل سکے۔ سو گلی محلے کے اوباش ”جاکتوں“ کے” رلے“ میں دن بہ دن لم کڈتے ہوئے بلدیاتی انتخاب میں کٌود پڑے۔ اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے آج قومی اسبملی میں” لم کڈھ “رہے ہیں۔

اب ہماری آنکھیں مارے حیرت کے باہر کو دوڑ رہی تھیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چٹا ان پڑھ مجرمانہ ماضی رکھنے والا شخص مقدس ایوان کا ممبر بن جائے۔ ہم نے چاچا سے پوچھا کہ ان کا صاب سے کیا رشتہ ہے۔ پہلے تو‌ چاچا خاموش رہے۔ پھر موٹےموٹے”دو اتھروں وگا“ کر بولے، ہم ہے تو صاب کا باپ، مگر آج کل صاب کی ملازمت کر رہا ہے۔

ہم کو دوسو چالی واٹ کا جھٹکا زوروں سے لگا۔ اتنے میں صاب اپنی بڑی توند لیے دوازے سے بہت مشکل سے اندر ”وڑے“ اور بولے ٹیم کہٹ اے جلدی جلدی انٹرویو کھڑکاؤ۔
مجھے ایک یونی ورسٹی اور ایک مدرسے کا افتتاع کرنے جانا ہے۔

ہم نے مشورہ دیا کہ ساتھ چلتے ہیں، اس طرح انٹرویو بھی ہوتا رہے گا اور وقت پر منزل مقصود تک بھی پہنچ جائیں گے۔ صاب کو مشورہ پسند آیا اور جب ہم پراڈو کی پچھلی نشست پر دومحافظوں کے درمیان براجمان ہوئے تو ہمیں لگا جیسے دوزخ کے دو دروغے ہمیں جہنم رسید کرنے لے جا رہے ہوں۔

ہم نے صاب سے پہلا سوال کیا کہ ہم اکیسویں صدی میں کیسے داخل ہوں گے؟ صاب کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ اور پھر تفکر و تدبر کے لمبے وقفے کے بعد انھوں نے حکمت و دانش کے موتی یوں بکھیرے۔۔۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سڑک کچی ہے. اس لیےجیپ پر ہی جانا پڑے گا۔ ویسے میری پراڈو پر بھی جایا جاسکتا ہے۔ بس تلکن زیادہ نہ ہو ؟

ہم نے خود کو باور کرایا کہ ہم اس پرمغز اور دانش و حکمت بھرے مکالمے کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے درخواست کی کہ فدوی کو گاڑی سے اترنے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے کہ دفتر سے بلاوا آ گیا ہے۔

صاب نے تشویش بھرے لہجے میں استفسار کیا کہ انٹرویو کا کیا ہو گا۔ وہ تو اپنے ملازموں اور دفتر کے لوگوں کو اس بارے میں بتا بھی چکے تھے۔ ہم نے جان چھڑانے کے لیے عرض کیا کہ اتنے بڑے دانشور کا انٹرویو یکسوئی کا متقاضی ہے اس لیے جب صاب کے پاس مصروفیت کچھ کم ہوئی تو فدوی سر کے بل چل کے دوبارہ حاضر ہو جائے گا۔

ہم سیدھے ایڈیٹر کے دفتر پہنچے جب صاب کے بجائے چاچا کا انٹرویو پیش کیا تو ایڈیٹر نے دوٹوک انکار کر دیا اور درشت لہجے میں فرمایا۔۔۔۔

"نہ میاں! یہ نہیں چل سکے گا۔ ہم نے چینل چلانا ہے جلانا نہیں۔ صاب ہمیں سالانہ کروڑوں کے اشتہار دیتے ہیں تم اپنے ساتھ ہماری بیڑی میں بھی” بٹے پواو گے “

ہم شکریہ ادا کیے بغیر ایڈیٹر کے دفتر سے نکل آئے کہ قلم تو مقدس ہے۔ قلم کو مصلحتوں کا قیدی بنا کر ضمیر بیچنے والوں کی گاڑیاں بڑی اور کوٹھیاں وسیع ہوتی ہیں لیکن اطمینان قلب جیسی نعمت مفقود ہوتی ہے۔ اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم جیسے فقیروں کو یہ نعمت وافر مقدار میں ودیعت کی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481