اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کہائی اور کڑیاں

cd7872a9 b452 4000 a9a9 56fe5504f1e5

 

b145d67f 679a 4f43 b933 0db50052221cممتاز غزنی۔ صاحب کتاب و مضمون

ہمارے پہاڑی علاقوں کا معاشرہ حقیقی معنوں میں محبت، اخوت، ہمدردی اور بھائی چارے کا معاشرہ تھا۔ اسوج (گھاس کاٹنے کا موسم) کے موسم میں سب مل جل کر ایک دوسرے کا گھاس کاٹتے تھے۔ اس عمل کو کہائی/لیتری کہتے تھے۔

لیتری کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ پہلے سے طے کر لیا جاتا تھا کہ فلاں دن فلاں کا گھاس کاٹنا ہے۔ مقررہ وقت پر سبھی درانتیاں لے کر پہنچ جاتے تھے اور گھاس کی کٹائی شروع ہو جاتی تھی۔ ہر ایک اپنا حصہ الگ کر لیتا جسے پراتھ کہتے تھے۔ گھاس کاٹتے جاتے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔ اچھی طرح گھاس نہ کاٹنے کو "گھاس پلوکنا” کہا جاتا تھا اور اسے سخت ناپسند کیا جاتا تھا۔ کچھ لوگ پولے جوڑیاں باندھنے پر مامور ہوتے جب کہ خواتین لیتری والوں کے لیے پانی، لسی پہنچانے کی ذمہ داری نبھاتیں۔ پہلے وقتوں کی لیتریاں سادہ ہوتی تھیں۔ لیکن کئی علاقوں میں گھاس کاٹنے والوں کا جذبہ بڑھانے کے لیے ڈھول باجے کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔ دن کا کھانا ساگ، دال لسی چٹنی کے ساتھ لیتری والی جگہ پر ہی کھایا جاتا تھا لیکن رات کا کھانا صاحب لیتری کے گھر پر کھایا جاتا۔ اہل خانہ اپنی بساط کے مطابق لیتری والوں کی خاطر مدارت کرتے لیکن سفید ابلے چاول، شکر اور دیسی گھی رات کے کھانے میں ضرور شامل ہوتا۔

 

پہلے دیہات میں زندگی سادہ اور مکان کچے ہوتے تھے۔ ان مکانوں کی تعمیر میں مقامی طور پر دستیاب مواد استعمال ہوتا تھا۔ دیواریں پتھروں سے بنائی جاتی تھیں۔ سیمنٹ کے بجائے مٹی کا استعمال ہوتا تھا۔ چھت میں شہتیر، درختوں کی شاخوں اور گھاس کو ترتیب وار رکھ کر اوپر مٹی ڈالی جاتی تھی۔

شہتیر کو کڑی کہا جاتا ہے۔ پہلے کچے مکانوں کی تعمیر کے لیے محکمہ جنگلات سے اجازت لے کر درخت کاٹا جاتا تھا۔ آری کش وہیں پر آری کی مدد سے کڑی اور برگے مطلوبہ سائز میں چیر کر تیار کرتے تھے۔ کڑی کی لمبائی زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا وزن بہت زیادہ ہوتا تھا۔ اس لیے اسے اٹھانے کے لیے بھاری نفری درکار ہوتی تھی۔ لہذا کڑیاں لیتری کی صورت میں جنگل سے اجتماعی طور پر لائی جاتی تھیں۔ اونچے نیچے راستوں سے جب لوگ کڑیاں لے کر چلتے تو اتفاق و اتحاد اور ہمدردی و بھائی چارے کا وہ عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا جو اب عنقا ہو چکا ہے۔ گاؤں کا ہر شخص ان اجتماعی کاموں میں خوشی سے شریک ہوتا تھا۔ اب دیہات میں بھی لوگوں نے جانور پالنے کا تردد ختم کر دیا ہے اس لیے گھاس کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ کچے مکان بھی اب قصہ پارینہ ہوئے لہذا لیتری اور کڑیاں بھی ماضی میں گم ہو گئیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481