اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

4ea0b9a9 a586 469e b891 f30e461e8b03

 

 

مرشدی جون ایلیا سے معذرت ”نال “

ہم” بھی بہت عجیب ہیں، اتنے عجیب ہیں کہ بس”
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

کسی ستم ظریف نے کتاب چہرہ (فیس بٌک) پر ایک تصویر اپلوڈ کر کے ہمیں شرمندہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ وہ نہیں جانتا کے ہم وہ حیوان ناطق ہیں جو برسوں سے شرمندہ ہونا بھول چٌکے ہیں یعنی اب ”ہاتھی وی لنگ جان “ تے پروا نہیں۔ یہ فقط تصویر ہوتی تو ہم چپ سادھ لیتے لیکن یہ ہماری تاریخ کا وہ تاریک پہلو ہے کہ جس سے عہد جدید کے میر جعفر اور میر صادق کھل کر سامنے آتے ہیں۔

ستر کی دہائی میں جب ہم پاکستانیوں پر بھٹو مرحوم کی بدولت بیرونی دنیا کے در کٌھلے تو ہمارے علاقے سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد خلیجی ممالک میں کام کی غرض سے گئی۔ ہمارے ایک جاننے والے نذیر خان عرف رباب نے، جن کا عجمان میں فرنیچر کا بہت بڑا کاروبار ہے، ایک بار اپنے گھر پر ہماری دعوت کی۔ گفت و شنید کے دوران انھوں نے مجھے بتایا کہ ستر کی دھائی میں جب وہ لانچ کے ذریعے یہاں آئے تھے تو مقامی لوگ اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پیتے تھے۔ سواری کے لیے اونٹ، خچر، گدھا وغیرہ استعمال کرتے۔ مقامی شیوخ بیڈ پر لیٹنا نہیں جانتے تھے۔ نذیر خان جیسے لوگوں نے وہاں بیڈ پر لیٹنے کی ” پات کڈی“۔

یہ وہ وقت تھا جب کراچی روشنیوں کا شہر مانا جاتا تھا۔ دنیا کے چند بڑے اور ترقی یافتہ شہروں میں کراچی بھی شامل تھا۔ پھر ہمیں”ریورس گیئر“ لگ گیا۔ سیاسی و غیر سیاسی حکومتیں اپنے لوگوں اور اپنی دھرتی کے مفادات کے تحفظ کے بجائے غیروں کی آلہ کار بن گئیں۔ سب سے پہلے "مرد ِمچھ” نے پرائی آگ میں کود کر ہمیں کرائے کے ٹٹو کا ٹائٹل دلوایا. پھر یہ سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ ظلمتوں کے حکم پر اپنے ہی چراغ بجھانا ہمارا وطیرہ بن گیا. ہماری مقتدر قوتوں نے نظریہ پاکستان کے ساتھ غداری کی۔ انتخابات میں شیخ مجیب جیت گیا مگر اٌس کو اقتدار نہیں دیا گیا۔ نتیجتا بدقسمتی سے ملک دولخت ہوگیا۔ باقی ماندہ ملک کو ہماری نااہل سیاسی اشرافیہ اور ”برائی دا کریٹ“ بیوروکریسی نے مال مفت دل بے رحم کی صورت نچوڑا۔ ”پرانے باوے“ فرماتے ہیں کہ ہم غریب ضرور تھے مگر بےغیرت نہیں تھے۔ مشکل وقت میں دوسرے ممالک کی مدد کو پہنچتے تھے۔ کچھ شرم وحیا کے تقاضے دیکھے جاتے تھے۔ پھر مردِمچھ کے دورمیں ایک ایسا طبقہ معرض وجود میں آیا جو ” انھی پا دینے “ کا قائل تھا اور ایسی ”انھی پائی“ کہ ہم ٹکے ٹکے کے مقروض ہوگئے اور ضمیر فروش ٹکے ٹکے کے لوگ صاحبان جاہ و حشم بن بیٹھے۔ خدا مردِ مچھ کی “ہڈیاں تتیاں کرے“ آج بھی بِن بٌلائے مزمان ہمارے گھر پر قابض ہیں- سیانڑیں آختے ہیں "سکھ نہ سکھ گوانڈی کولا سکھ”. بنگلہ دیش، جو کبھی مشرقی پاکستان تھا، آج دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے جب کہ ہمارے لیڈروں کی کرپشن کے پوسٹر دنیا بھر میں آویزاں ہیں۔ اگر بات یہاں تک آکر رٌک جاتی اور” فضل داد دے داندے ہاں ڈک“ لیا جاتا تو خیر تھی مگر یہاں ایسے ایسے جگاڑی ہم پر تجربے کے لیے لائے گئے کہ بہ قول مرحوم چاچا چڑیا
کوئی ہک رامی ویہہ تے آخاں، جیہڑا کپو اوہے لال آ "۔

ستم بالائے ستم یہ کہ لوٹنے والے بلا خوف و خطر لوٹ رہے ہیں اور لٹنے والے ایسے لٹ رہے ہیں جیسے وہ پیدا ہی لٹنے کے لیے ہوئے ہیں۔ لوٹنے والوں کی اولادیں یورپ امریکہ میں عیاشی کر رہی ہیں اور لٹنے والے کیڑے مکوڑوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لیکن انھیں نہ اپنی طاقت کا ادراک ہے اور نہ اپنے مقصد تخلیق کا شعور۔ اگر کسی نے زوال، بے وقعتی اور جہالت کو مجسم صورت میں دیکھنا ہو تو ہمیں دیکھ لے۔۔۔۔۔۔۔۔

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
(علامہ اقبال)

fd50e1eb 682d 463c b180 a17df6a40719احمد حسین مجاہد، شکیل اعوان اور راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481