اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ڈی پی او ایبٹ آباد پہلے جرگہ سسٹم کو سمجھیں

6c85e143 3ccb 4654 ab44 11f4dfe0dc08

 

جرگہ سسٹم کی بنیاد میاں بیوی اور بچّوں کے چھوٹے سے خاندانی سسٹم سے شروع ھوجاتی ھے جو آپ کے گھر میں بھی رائج ھوتا ھے ۔۔۔

اور یہ نظام پورے خاندان ، محلّے اور پھر گاؤں تک پھیلا ھوا ھے جس کو آپ بذریعہ فورس بھی ختم نہیں کرسکتے ۔۔۔

میں ڈی آر سی  کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی اھمیت کا قائل ھوں لیکن آپ کی خواھشات سے لگتا ھے کہ ایک بکری کے دوسرے کے کھیت میں گھاس کھاجانے کا کیس بھی DRC سنے تو یہ زیادتی کیا بات ہو گی ۔ ہمارا مشورہ ہے کہ "DRC کمیٹڈ ” ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد سب سے پہلے ھمارے ھاں ھونے والے جرگہ سسٹم کو سمجھیں اس کی افادیت ، اھمیت ، اور ضرورت کے ھر پہلو کو دیکھیں اور اس کے مقامی اور عوامی نتائج کا موازنہ کریں اس کے بعد دبنگ آرڈرز جاری کریں ۔۔۔

جناب عالی َ DRC کمیٹیوں کو بڑے معاملات اور تنازعات دیکھنے سے ہی فرصت نہیں ملتی آپ  ان پر مزید بوجھ ڈالنے کی بات کرتے ھیں DRC کے علاوہ دوسرا آپشن فقط یہی نکلتا ھے کہ ضلع بھر کے پہاڑی اور دیہی تھانوں میں بیٹھی پولیس فورس کو کسی کام دھندے پر لگایا جائے انھیں مصروف رکھا جائے اور سندھ پولیس کی طرح باٹم سے ٹاپ تک ھرجانوں اور نزرانوں کی ایک منظم چَین بن جائے تا کہ تھانوں ، تھانیداروں ، ڈپٹیز ، اور گاڑیوں کے اخراجات نکلتے رھیں اور لوگ پہلے تھانوں میں گھسیٹے جائیں اور بعد ازاں عدالتوں کے باہر جمعِ غفیر لگادیا جائے اور  انہیں وکیلوں کے ہاتھوں مشق ستم بنوایا  جائے۔۔۔

تو DPO صاحب کم از کم یہ اس بنیادی اور لوئر جرگہ سسٹم کے خاتمے والی سوچ سے تو ممکن نہیں ھو گا ۔۔۔

احتیاط اور پرھیز کے حوالے سےدرخواست   کرنا چاہتا ھوں کہ گلیات اور اس کے گردونواح کی تحصیلوں میں ھونے والے جرگوں کی روایت کو علاقے کے عمائدین ، علماءکرام ، اساتذہ کرام ، عوامی نمائندے اور نیک سیرت و کردار کے لوگ بلا معاوضہ اور فی سبیل اللہ انجام دیتے ھیں اور ان کے فیصلے سندھ پنجاب اور بلوچستان کے طاقتور وڈیروں کی طرح کسی حکم کا درجہ نہیں رکھتے جس میں ان کی ذات ،ان کی حیثیت ، حدود ،دولت اور طاقت کا راج نظر آتا ھو بلکہ سائلین مکمل آزادی کے ساتھ یہ حق محفوظ رکھتے ھیں کہ اگر جرگے کے فیصلے سے مطمئن نہیں تو عدالتوں کا رُخ کرسکتے ھیں ۔۔۔

ھمارے جرگوں میں طا-لبا-نائز-یشن کا عنصر بھی نہیں پایا جاتا جس میں کوئی عبرتناک سزا سنائے جانے کا احتمال ھو یا عام آدمی ، بچّوں اور خواتین کو کٹہروں میں کھڑے ھونے کا خوف لاحق ھو اس لیئے محترم DPO صاحب آپ معاملے کی اھمیت اور حسّاسیت کو مدِ نظر رکھیں آپ نے صدا یہاں رہنا نہیں اور مقامی باشندوں کو  یہاں سے کہیں جانا نہیں ۔۔۔

ان احکامات کا نفاذ آپ اور آپ کی صوبائی حکومت کی طرف سے  مالاکنڈ ڈویزن میں کرنا  تو بنتا ھے ،ھزارہ کی پر امن دھرتی پر نہیں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481