اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

” حٌجرہ، حقہ اور حالات حاضرہ “

IMG 20221018 WA0165

حٌجرہ مقامی ہندکو زبان میں” حٌزرہ “ کہلاتا ہے۔
یہ صدیوں کی روایات کا امین ہے۔ جدید اصطلاح میں اسے کمیونٹی سنٹر کہا جا سکتا ہے، جہاں شادی و مرگ سے لے کر اجتماعی مسائل کےحل کے لیے مشاورت ہوتی ہے۔ یا یوں کہیے کہ لوک دانش کی یونی ورسٹیوں یعنی بزرگوں کے تجربات نئی نسل کو منتقل کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ حجرے کو ہزارہ میں ڈھیڈی بھی کہا جاتا ہے، لیکن ڈھیڈی ذاتی ملکیت ہوتی ہے جب کہ حجرہ اجتماعی طور پر مل بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ ہر محلے کا اپنا ایک حجرہ ہوتا تھا/ ہے۔

ہمارا ایک دوست ہمیں بھی اپنے ساتھ حجرہ‌ لے گیا۔ حجرے میں ملکی صورت ِحال پر گرماگرم بحث جاری تھی یعنی” کم پخے دا ہاسا “۔ وہاں ہر عمر کے اور ہر مکتبہ ِفکر کے لوگ ٹولیوں کی صورت بیٹھے تھے۔ کچھ نوجوان الگ تھلگ ایک کونے میں ”منجی “ پر بیٹھے تھے، جو درویشی بٌوٹی کے رسیا لگتے تھے۔ ہمیں ایک بزرگ کے پہلو میں جگہ” تھائی“۔ بزرگ بھی حقہ نوش تھے۔ حقہ دیکھ کر ہمیں والد محترم یاد آگئے‌، جو حقہ نوش تھے۔ ہم نے بزرگوں سے اجازت لے کر حقہ بھرنا شروع کیا۔ پہلے ”چانجا“ کیا۔ پھر کھرا تمباکو ” تلی“ پر مروڑ کر ڈالا اور ”تیلی“ لگا کر ”پہخایا“۔ حقہ تیار کر کے باوا جی کو پیش کیا۔ باواجی نے ”ساہ ڈک “ کے چار کش لگائے اور ترنگ میں آگئے۔

کچھ لوگ سائفر پر بات کر رہے تھے۔ باوا جی کے کان میں اتنی سی بات پڑی تھی کہ سائفر لیک ہوگیا – باوا جی نے بات "بڑھائی” اوہ نکھتریو! سفورے نے نکے جاکتے سائفرے کی میں آخیا وی سا جے گھنیارے نا ساگ زیادہ نہ کھائیں “ لیک تے ہونا یے سا۔

ہم ٹاٹرے ہوکر باواجی کا تبصرہ سٌن رہے تھے، جو خان کی طرح جرمن جاپان کو مکس کررہے تھے۔ ہم نے باوا جی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ باوا جی ! یہ بات کچھ اور چل رہی ہے. مگر وہ مان کر ہی نہ دیے۔

ایک شخص نے دوسرے کو یوتھیا کہا۔ باوا جی نے کہا یہ بوتھیا کیا ہوتا ہے؟ دوسرے شخص نے جوابا اسے پٹواری کا طعنہ دیا – اب باوا جی کھڑے ہوگئے۔ اور بولے "اوہ جاکتو ! پٹواری صاب آستے چاہ پانی دا بندوبست کرو تے اندروں صوفہ آنڑو“ اب ہم سے رہا نہ گیا اور ہم نے باوا جی کو سمجھایا کہ جدید سیاسی اصطلاح میں
ن لیگ والوں کو پٹواری اور پی ٹی آئی والوں کو یوتھیا کی ٹرمنالوجی سے یاد کیا جاتا ہے۔ باوا جی جذباتی ہوکر بولے

” اوہ جاکتا توں میکی کیہ دسنا ایں، میں ایسٹ انڈیا کمپنی نال کم کیتا “

ساتھ بیٹھے ہمارے دوست نے ”اکھ مار“کے مجھے منع بھی کیا مگر دیر ہوچٌکی تھی۔ باوا جی دوسری جنگ ِعظیم کی داستان شروع کرچٌکے تھے- ایک شخص نے بتایا کہ باواجی ہٹلرِثانی ہیں اور ہٹلر کےساتھ” بنٹے“ بھی کھیلتے رہے ہیں۔ ہم نے موضوع بدلنے کی بہت کوشش کی مگر اب محاذ کٌھل چٌکا تھا۔ برما کے جنگل آباد ہوچٌکے تھے۔

باواجی بولے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گورے نے بے وجہ ترقی نہیں کی تھی۔ وہ بہت انصاف پسند، ذہین، محنتی اور شاطر لوگ تھے۔ اگر وہ ھندوستان پر قبضہ نہ کرتے تو ہم آج بھی” باہرے در بیہنے“ {بیت الخلاء} کے لیے کھیتوں کا رٌخ کر رہے ہوتے۔ وہ سو سال آگے کی سوچ رکھتے تھے۔ وہ چند سو یہاں آئے اور کروڑوں ہندوستانیوں پر سو سال حکومت کر کے چلے گئے۔ یہی نہیں بلکہ کی چالاکی اور بدمعاشی دیکھیے کہ جاتے جاتے اپنے ذاتی ملازموں کو جاگیریں دے کر ہم پر مسلط کرگئے کہ خود نہ سہی، اب اپنے ملازموں کے ذریعے حکومت فرمائیں گے- دیکھ لو۔۔۔ آج بھی حکومت اٌن کے ملازموں کی ہے۔ ہمارا نظام اٌنہی کا مرعون ِمنت ہے۔ زبان اٌن کی، قانون اٌن کا، جدید دنیاوی اسباب اٌن کے۔ ہمارے پاس تو اپنا ”ککھ نیں“ ہم بس پدرم سلطان بود کے نعرے لگا کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔

ایک صاحب جبہ و دستار نے ٹوکا کہ باوا جی۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔ ہمارے پاس اپنا نظام ہے۔۔۔ سارے نظاموں سے بہتر و افضل۔ انسانیت کی فلاح کا ضامن۔ اسلامی نظام۔۔۔ باوا جی بولے۔۔۔۔ پٌترا اوہ کِتھے چھپا کے رکھیا اے؟ کدے اوہ سارے مسئلیاں دا حل اے تے اس آں نافذ کیوں نہیں کردے او؟

ہم نے بحث کو مذھبی ہوتے دیکھا تو اجازت مانگی۔ کیوں کہ مذہبی بحث کا انجام ہمارے ہاں بہرصورت ” کڑمس “ ہوتا ہے۔ اور ہماری جان اس”جوگی“ نہیں۔ ہم اٹھنے لگے تو درویشی بٌوٹی والے منچلوں نے نعرہ ِمستانہ بلند کیا
لگا دم، مٹے غم
کمائے گی دنیا، کھائیں گے ہم
سِر رکھ، نہیں لگی تے فِر رکھ

دوسری پارٹی کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔ انھوں نے جوابا
نعرہ لگایا
ووٹ کو عزت دو
ملک اتارو، قرض سنوارو
میاں ساڈا شیر اے
لندنوں آن دی دیر اے

اب پی ٹی آی کی یوتھیاز نے ترانہ الاپا
فر آئے گا عمران
سب کی جان
بنے گا خورے کیہڑا پاکستان ؟؟؟؟؟

محفل اب مچھلی منڈی کا سماں پیش کر رہی تھی۔ کوئی کسی کی نہیں سن رہا تھا۔ سب اپنا اپنا راگ الاپ رہے تھے۔ ہم یہ سوچتے سوچتے محفل سے نکل آئے کہ آخر ہمیں قوم بننے کے لئے کتنی صدیوں کا سفر درکار ہو گا؟

 

c6a8be72 8793 45e5 88c4 5a2600b9e636 1شکیل اعوان ، سید آل عمران مرحوم اور راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481