اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جنتری کا جنتر منتر

880ffe62 1442 4607 99cd d3005a5203f2

یہ ان دنوں کی بات ہے۔جب میں جوانی اور بچپن کے بیچوں بیچ اس طرح تھا جیسے دو کانوں کے درمیان سر ہوتا ہے۔یعنی نہ تو جوان تھا اور نہ بچہ۔پہلی بار میں نے جونا مارکیٹ والے عباسی کتب خانے پر نئی نئی جنتریاں دیکھیں۔ان پر رنگ رنگ کی تصویریں تھیں۔سانپوں کی،بچھوؤں کی،ستاروں کی ،چاند کی ،سورج کی۔میں نے کتب فروش سے پوچھا۔”یہ کیا ہے”
اس نے کہا "جنتری”
"کیا کہانیوں کی کتاب ہے یہ؟”
"نہیں یہ کہانیوں کی کتاب نہیں۔”
"تو پھر یہ کیا ہے”
یہ جنتری ہے۔اس میں پورے سال کی تاریخیں ،دن، مہینے اور قسمت کا حال ہے۔فال نامہ ہے اور چٹھیاں ہیں۔”
مجھے تاریخوں سے دلچسپی نہیں تھی۔”تاریخ سندھ” کا عذاب ہی کیا کم تھا۔”محمد شاہ کلہوڑا” "میروں کی حکومت "۔۔۔”تالپور” جانے کیا کیا الم غلم تھا جو ہم طوطے کی طرح رٹتے تھے۔اور ان دنوں سے ہمیں سوائے اتوار کے دلچسپی نہیں تھی۔کیوں کہ اتوار کو چھٹی ہوتی تھی۔باقی رہا قسمت کا حال تو ہماری قسمت کا ستارہ چمکتا تھا۔ان دنوں والد الگ "خرچی” دیتے تھے۔والدہ سے الگ پیسے ملتے تھے۔اور ذیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی تو قلم دوات کاغذ اور کتاب کے بہانے کچھ نہ کچھ اینٹھ لیتے۔باقی رہا "فالنامہ” تو اس میں ہم صرف یہ جاننا چاہتے تھے کہ اب کے ہم پاس ہوں گے یا فیل۔ہمیں اگر دلچسپی تھی تو بس چھٹیوں سے کیونکہ چھٹیوں کے دن ہم نیٹی جیٹی کے پل پر مچھلیاں پکڑنے جاتے تھے۔فٹ بال کھیلتے تھے۔اور کبھی کبھی چوری چھپے سینما بھی دیکھنے جاتے تھے۔ہم نے "لیلی مجنوں” کے گانے بھی یاد کرلیے تھے۔
"کتاب دیکھ چکی اب ذرا ادھر دیکھو”
ہم نے نے چھٹیوں کا نام سنا تو فورا جنتری خرید لی۔یہ پہلا موقع تھا کہ ہم پر جنتری کے جنتر منتر کا راز کھلا۔ہم نے دیکھا کہ سال کے اندر تین سو چونسٹھ دن میں ہر دن کوئی نہ کوئی عرس کوئی نہ کوئی میلہ اور کوئی نہ کوئی تہوار ضرور ہوتا ہے۔اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم جنتری کے مطابق سکول میں چھٹیاں دیتے مگر پھر بھی جنتری کا یہ فائدہ ہوا کہ سال کی ان چھٹیوں کے علاوہ جو عام طور پر ملتی ہیں،ہمیں اور چھٹیاں بھی ملنے لگیں۔اسکول کا پرنسپل ایک انگریز تھا۔اور ہیڈ کلرک بوہرہ قوم کا ایک ملا جی۔ہم نے جنتری کا خوب فائدہ اٹھایا۔صبح اسکول پہنچے تو” دعا” کی گھنٹی سے پہلے تمام لڑکوں کو پیڑ کے تلے جمع کرکے لکچر پلوایا اور اعلان کیا کہ
"آج حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا عرس مبارک ہے۔ اس لئے آج اسکول بند ہونا چاہیے۔
سب لڑکوں نے نعرے لگائے۔
اور "دعا”کی بجائے سب بچے کورس میں گانے لگے۔
چھٹی ہمیں دلا دو اجمیر والے خواجہ
بگڑی موری بنادو اجمیر والے خواجہ
اب کیفیت یہ تھی کہ کوئی کلاس میں نہیں جاتا۔ماسٹر باہر نکلے اور پوچھا۔
"کیا ماجرہ ہے”۔
ہم نے فوراً "جنتری” نکال کر دکھائی کہ
” دیکھیے آج حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا عرس مبارک ہے۔
ایک ماسٹر نے کہا۔
عرس تو اجمیر میں ہے اور چھٹی کراچی میں کیوں۔”
ہم نے کہا۔
"بادشاہ سلامت لندن میں پیدا ہوئے۔اور ان کے جنم دن کی چھٹی کراچی میں کیوں ہوتی ہے؟”
ماسٹر نے کہا۔
"وہ تو ہمارا بادشاہ ہے”
ہم نے کہا ۔
خواجہ معین الدین تو ہمارے دین کا بادشاہ ہے۔”
اور ساتھ ہی ہم نے نعرے لگائے۔
"ماسٹر گل شیر خان۔۔۔۔۔وہابی ہے۔۔ٕ
نتیجہ یہ ہوا کہ” ماسٹر لوگ "نے ہمارا راستہ چھوڑ دیا اور ہم نعرے لگاتے ہوئے پرنسپل کے آفس کی طرف بڑھے۔پرنسپل گھبرایا ہوا باہر نکل آیا۔اور پوچھا۔
"ویل کیا بات ہے؟”
ہم نے کہا ۔
"صاحب آج ہمارا بڑا دن ہے”
پرنسپل نے کہا۔
"ویل کلینڈر میں تمہارا بڑا دن نائی ہے”
ہم نے کہا ۔
جنتری میں ہمارا بڑا دن ہے ۔ہم کیلنڈر کو نہیں مانتا ہم صرف قلندرشہباز کو مانتا ہے۔
پرنسپل نے کہا۔
"اچھا ہم دو لڑکا کے ساتھ بات کرے گا۔تم لوگ شور نائی کرو۔”
ہم فاتحانہ انداز میں جنتری لےکر پرنسپل کے دفتر میں گئے پرنسپل نے فورا ہیڈ کلرک کو بلایا اور پوچھا۔
"یہ لوگ بولتا ہے آج ہمارا بڑا دن ہے”
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا۔ہم نے کہا۔
"صاحب! یہ لوگ کا نہیں آج ہم لوگ کا بڑا دن ہے۔”
ہم نے جنتری میز پر رکھ دی۔ہیڈ کلرک اردو نہیں جانتا تھا۔اس نے جنتری کو ایک نظر دیکھا۔اور چپڑاسی سے کہا۔
"ماسٹر گل شیر خان کو بلاؤ”
ماسٹر گل شیر خان کے خلاف ہم پہلے ہی نعرے لگا چکے تھے کہ وہ "وہابی” ہے ۔اس لیے جب وہ آیا تو لڑکوں نے پھر نعرے لگائے۔ گل شیر خان ڈرا کہ اگر مخالفت کی تو لڑکے وہابی بنا دیں گے اور مشہور کریں گے کہ پیروں کو نہیں مانتا اس لیے اس نے جو کچھ لکھا تھا وہ پڑھ دیا۔اور کہا
"آج واقعی اجمیر شریف کا عرس ہے۔”
"مسٹر رابرٹ سن(ہمارے پرنسپل) نے فورا چھٹی کا اعلان کر دیا۔
تمام لڑکے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے جن میں:-
"…


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481