اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عدالت نے بہارہ کہو بائی پاس پر کام کیوں رکوایا؟

29febc18 1ef1 472f a350 7f446fa2b7e6

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے پر کام آئندہ سماعت تک روکنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

بہارہ کہو کی حدود میں مری، کشمیر یا گلیات جاتے ہوئے اور واپسی پر آدھا گھنٹہ ضائع ہونا معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ کئی دفعہ تو گھنٹہ بھی ٹریفک جام کی نذر ہو جاتا ہے۔۔ بہارہ کہو بائی پاس منصوبہ شروع ہونے سے مری، گلیات اور کشمیر کے مسافروں نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ بہت جلد وہ اس مستقل عذاب سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسروں کی طرف سے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کے خلاف درخواست پر آج کی سماعت میں تا حکم ثانی عدالت نے کام روکنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسرحضرات کا موقف ہے کہ یونیورسٹی کی زمین بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کی نذر ہو رہی ہے ۔

سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو اس منصوبے کے حوالے سے کئی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے پر کام شروع کرنے سے پہلے قائد اعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ کی رضامندی حاصل کی گئی تھی۔ یونیورسٹی نے دو سو کنال کے بدلے دو سو پچیس کنال زمین لے کر سی ڈی اے کو زمین کا قبضہ دیا تھا۔ وکیل مذکورہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ قائد اعظم یونیورسٹی سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق ایک ارب روپے سے زائد کی نادہندہ ہے۔

فاضل جج نے کہا کہ بہ ظاہر تو اس منصوبے کی وجہ سے قائد اعظم یونیورسٹی کو کسی قسم کا کوئی نقصان ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ یونیورسٹی کو لی گئی زمین سے زیادہ زمین سی ڈی اے کی طرف سے دی گئی جو منصوبے میں آنے والی زمین سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس منصوبے کی وجہ سے یونیورسٹی کی نہ کوئی عمارت ڈیمولش ہو رہی ہے اور نہ ہی جزوی متاثر۔ ایسی صورت حال میں سٹے آرڈر کا کیا جواز ہے؟ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وائس چانسلر کو بلا کر پوچھا جائے کہ کیا متبادل زمین انہیں قبول ہے؟۔

یونیورسٹی کے وکیل نے کہا کہ بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کی زد میں آنے والے سینکڑوں درخت بے دردی سے کاٹے جا رہے ہیں جس سے ماحول پر تباہ کن اثرات پڑیں گے۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ماحولیاتی ایجنسی نے منصوبے کا ماحولیاتی جائزہ نہیں لیا؟ سی ڈی اے کے وکیل نے جوابا عرض کیا کہ بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کی تمام اداروں سے منظوری لی گئی تھی۔ لیکن وکیل موصوف اس کا ثبوت عدالت میں پیش کرنے سے قاصر رہے۔

اس پر عدالت نے حکم دیا کہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے اس منصوبے کی منظوری تک کام روک دیا جائے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بہارہ کہو بائی پاس منصوبے کو مقررہ مدت سے ایک ماہ پہلے یعنی تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481