اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پوٹھوہاری زبان ہے یا پنجابی لہجہ؟

04f3122f 826c 43df ba7d 9162ab66aebb

 

 

گزشتہ دنوں اثمار شیرازی نام کے کسی فاضل دوست نے روزنامہ اساس میں بعنوان بالا ایک مضمون قلمبند کیا ۔ ہم آج اس مضمون کے اہم نکات پہ بات کریں گے ۔

فاضل دوست کا یہ اصرار ہے کہ پوٹھوہاری کو پنجابی لہجے کے طور پر ہی جانا مانا جائے۔ انہوں نے مضمون کی ابتدا ہی بولیوں اور ان کی ذیلی اقسام سے کی ہے ۔اور لکھتے ہیں کہ معیاری بولیوں میں سرائیکی ، ماجھی اور پوٹھوہاری ہیں ۔ میں فاضل دوست سے عرض کروں گا کہ لسانیات کے کس اصول کے تحت انہوں نے محض جغرافیائی حد بندیوں کو ذہن میں رکھ کر سرائیکی اور پوٹھوہاری کو بولی کا درجہ دے دیا؟ اگر انہیں سرائیکی کے حوالے سے کوئی خوش فہمی یا غلط فہمی ہے تو بہتر ہے کہ وہ ڈاکٹر مہر عبدالحق کی کتاب
"ملتانی زبان اور اس کا اردو سے تعلق” کا مطالعہ فرمائیں ۔ان پر روز روشن کی طرح بات عیاں ہو جائے گی کہ جس کو وہ بولی کہہ رہے ہیں وہ ملتانی یا سرائیکی زبان ہے ۔ یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا گرئیرسن کے مطابق 1881 ء، 1891 ء، 1901 ء اور 1911 ء کی چار مردم شماریوں کے اندراجات کی بنیاد پر پانچ برطانوی اضلاع (بہاولپور، ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان) کے 90 فیصد سے زائد لوگوں نے اپنی زبان ملتانی یا جٹکی بتائی پنجابی نہیں بتائی۔ اور یہ گرئیرسن ہندوستانی زبانوں پر تحقیق کرنے والا مستند ترین شخص تھا۔ وہ ملتانی کو لہندا (وہ پنجابی جو مغربی پاکستان میں بولی جاتی ہے ) کا لہجہ نہیں قرار دیتا ۔ سرائیکی کےکسی فاضل دوست کے ہاتھ یہ مضمون لگا تو وہ سرائیکی پر بہت بہتر انداز میں فاضل مضمون نگار کو تحریری جواب دے سکتا ہے ۔ ہمارا مقصود چونکہ پوٹھوہاری ہے اس لیے ہم یہاں سرائیکی کا ہلکا پھلکا ذکر خیر کر کے آگے بڑھتے ہیں ۔ مضمون نگار کے ہاں پوٹھوہاری بھی پنجابی کا لہجہ ہے ۔ مجھے ان کی اس جسارت پر تاسف سے زیادہ حیرت ہوئی کہ لسانیات کا کام ہندوستان میں جارج ابراہم گرئیرسن کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اور جارج گرئیرسن نے انڈو آرین زبانیں ، ان کے خاندان اور ان کے دوائر پہ جو بنیادی کام کیا ہے ، مضمون نگار کا پہلے سرائیکی اور پھر پوٹھوہاری کو پنجابی کا لہجہ باور کرانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ فاضل مضمون نگا ر نے شاید گرئیرسن کے کام کو پڑھنا تو کجا ، جان بوجھ کر اس کی تحقیقات سے اغماض برتا ہے ۔

گرئیرسن کے مطابق لہندا (یعنی مغربی پاکستان کی پنجابی کا تعلق انڈو آرین خاندان کی زبانوں کے بیرونی دائرے کی شمال مغربی شاخ سے ہے ۔ شمال مغربی گروپ کی زبانوں میں دوسری زبان وہ سندھی کو شمار کرتا ہے ۔
جبکہ اندرونی دائرے کی زبانوں کو وہ دو گروپس میں تقسیم کرتا ہے ۔ جس میں ایک گروپ وسطی زبانوں کا ہے اور دوسرا گروپ پہاڑی زبانوں کا ۔نقشہ میں اگر ملاحظہ کریں تو آپ پر حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ لہندا کا پہاڑی پوٹھوہاری سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ لیکن اس کے باوجود فاضل مضمون نگار کو پوٹھوہاری پنجابی کا لہجہ ہی نظر آتی ہے تو ہم اس پر انا للہ وانا الیہ راجعون ہی کہہ سکتے ہیں ۔
جارج گرئیرسن کی یہ تحقیق اور زبانوں کے خاندان کا نقشہ ہی مضمون نگار کے دعوی کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے ۔
یہاں ایک تاریخی بات کا ذکر از حد ضروری ہے وہ یہ کہ راولپنڈی کہوٹہ وغیرہ کا علاقہ سن 1874 سے قبل کشمیر کا حصہ تھا اور کہوٹہ کو بابِ کشمیر کہا جاتا تھا ۔ 1874 میں انگریز نے ضلع راولپنڈی بنایا تو کہوٹہ اور گرد و نواح کو راولپنڈی کو جغرافیائی حد بندی کرکے کشمیر سے کاٹ کر الگ ضلع کا درجہ دے دیا ۔ 1877 اور بعد ازاں 1881 کا راولپنڈی گزٹ اس بات کا بین ثبوت ہے ۔ کہ یہ علاقے جو پہلے کشمیر کا حصہ تھے بعد میں راولپنڈی ضلع میں شامل ہوئے اور ازاں بعد صوبہ پنجاب کا حصہ بنے۔ او ر یہاں کی مقامی زبان پہاڑی زبان ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے جیسا کہ ایک پہاڑی زبان کے محقق نے اپنے مضمون میں یہ بات ببانگ دہل لکھی ہے ۔
نیز وہ دھرتی جو اشوکا کی ، چندر گپت موریہ کی دھرتی ہے اور جس دھرتی میں گندھارا کی ہزاروں سالہ پرانی تاریخ مدفون ہے اسے محض جغرافیائی خدو خال دیکھتے ہوئے پنجابی کے ساتھ نتھی کردینا ظلم عظیم ہے ۔
فاضل مضمون نگار ازاں بعد پوٹھوہاری کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ چونکہ پوٹھوہاری لاکھوں لوگوں کی مقامی بولی ہے اور پنجابی کروڑوں کی زبان ۔
کیا ہم اسے دلیل تسلیم کر لیں ! اگر ہاں تو بتائیے فلسطین کی نوے فیصد آبادی عربی بولتی ہے اور مٹھی بھر یہود عبرانی بولتے ہیں تو کیا عبرانی کو بجائے زبان کے عربی کا ذیلی لہجہ قرار دے دیا جائے ؟اور کیا وہ زبانیں جنہیں محض چند ہزار یا لاکھ دو لاکھ لوگ بولتے ہیں ، انہیں بھی کسی متصل علاقے کی بڑی زبان میں ضم سمجھ لیا جائے ؟یہاں یہ اس امر کا ذکر بہت مناسب ہو گا کہ تامل ناڈومیں ، جو انڈیا کی ایک ریاست ہے ، جغرافیائی اور انتظامی خد وخال کی یکسانیت کے باوجود چار بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں تامل، ملیالم، تیلگو شامل ہے ۔ ۔ اگر فاضل مضمون نگار کاپنجابی جغرافیائی فارمولا وہاں چسپاں کیا جائے (کیونکہ خطہ جغرافیائی اکائی بھی ہے اور ایک ہی انتظامی ریاست کے زیرانتظام بھی ) تو وہاں بھی دو زبانوں کی نفی ہو جائے گی جو اصولی طور پر غلط ہے ۔
نیز پوٹھوہاری میں آج تک کوئی شاہکار ادب تخلیق کیوں نہیں ہوا۔
میرے خیال میں مضمون نگار نے یہاں یا تو مغالطہ کھایا ہے یا دینے کی کوشش کی ہے ۔ بھئی پوٹھوہاری کو پہلے بولی تو ثابت کریں ۔ گرئیرسن نے تو اسکو پہاڑی کہا ہے ، آپ اس کو پنجابی کا ڈائیلکٹ کس اصول کے تحت ثابت کر رہے ۔ نیز آپ کا یہ شکوہ آپ کے دعوی کی قلعی کھول رہا ہے کہ پوٹھوہاری میں شاہکار ادب تخلیق نہیں ہوا۔ یعنی کسی زبان میں شاہکار ادب نہ ہو تو وہ زبان ہی نہیں ؟ نیز یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ مانتے تو آپ بھی اسے زبان ہی ہیں لیکن اسی پنجابی چودھراہٹ کے زیر اثر یہ بے کار سوال فرما رہے ہیں ۔
پھر فاضل مضمون نگار نے کچھ پنجابی شعرا کے حوالے دے کر پنجابی کو بڑا ثابت کرنے کی سعی کی ہے ۔ میرا مدعا یہ ہے کہ فاضل مضمون نگار کا چونکہ ابتدائی مقدمہ ہی غلط ہے سو ان مثالوں کا اسے فائدہ نہ ہوگا۔ پہاڑی پوٹھوہاری میں اگر ان کے پاس کوئی تصنیف نہیں پہنچی تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پہاڑی پوٹھوہاری میں کوئی تصانیف موجود نہ ہیں ۔ انہیں جب بھی جس جس صنف پر کتاب درکار ہو فقیر مہیا کر سکتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں مدت سے پہاڑی زبان نہ صرف رائج ہے بلکہ اس میں اعلی ادب تخلیق ہو رہا ہے ۔ یہاں میں پروفیسر انوار فاروق جرال اور محترم بھائی راشد عباسی کا ذکر کرنا ضروری سمجھوں گا جنہوں نے پہاڑی کے لیے بہت سی خدمات سرانجام دی ہیں ۔
زبانوں کے لیے بہت سادہ فارمولا عرض کروں گا کہ ماہر ین کے ہاں جس زبان کے لیے مترجم کی ضرورت پڑے اسے زبان تسلیم کیا جانا مناسب ہے اور یہاں میں یہ دعوی بھی کروں گا کہ پنجابی نہ ہمارے دائرے کی زبان ہے نہ یہ پہاڑی پوٹھوہاری سے میل کھاتی ہے نہ ہی پنجابی احباب اس کو مکمل سمجھتے ہیں ۔ یہ تجربہ میں اپنی پوٹھوہاری تحاریر اور شاعری میں دیکھ چکا ہوں ۔ نیز فاضل مضمون نگار سے عرض کروں گا کہ وہ اردو کو (جس کی پیدائش چار پانچ سو سال پہلے کی ہے )پنجابی زبان کا (جو بہت پرانی زبان ہے)ذیلی لہجہ قرار دیتے ہوئے کیوں ہچکچاتے ہیں ۔ وہاں کوئی ماہر بات نہٰں کرتا حالانکہ اردو اور پنجابی یا لہندا کی اسی سے پچاسی فیصد نحوی ترکیبیں بالکل ایک جیسی ہیں ۔
آخر میں یہ ضرور عرض کروں گا کہ لسانیات پہ کام کرنے والے دوستوں کے لیے ضروری ہے کہ جارج گرئیرسن ، مہر عبدالحق ، سہیل بخاری اور دیگر ماہرین زبان کو ضرور پڑھیں ورنہ اسی طرح زبان کے مقدمات خلط ملط ہوتے رہیں گے اور یہ قضیے بجائے کسی نتیجہ پر پہنچنے کے مزید ا بہام پیدا کریں گے ۔
انڈو آرین زبانوں کا نقشہ ذیل میں چسپاں کر رہا ہوں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481